ہوم / سماجی بہبود / سماجی تحفظ / وزیر اعظم اُجّولا اسکیم
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

وزیر اعظم اُجّولا اسکیم

اِس حصے میں بی پی ایل پریواروں کو ایل پی جی دستیابی کو مقرر کرانے والی اُجّولا اسکیم کی معلومات دی گئی ہے۔

بی پی ایل پریواروں کی خواتین کو مفت ایل پی جی کنیکشن

مدد

اسکیم کے تحت بی پی ایل پریواروں کو 5 کروڑ ایل پی جی کنیکشن عطا کرنے کے لئے آٹھ ہزار کروڑ روپیے کا اہتمام کیا گیا ہے اَور ہرایک بی پی ایل پریوار کو ایل پی جی کنیکشن کے لئے 1600 روپیے کی مالی مدد عطا کی جائے‌گی۔ لائق بی پی ایل پریواروں کی پہچان ریاست اَور یونین محکوم ریاستوں کے ساتھ صلاح-مشورہ کے ذریعے کی جائے‌گی۔ اسکیم کی تکمیل مالی سال 2016-17،2017-18 اَور 2018-19 میں کیا جائے‌گا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار پیٹرولئم اَور قدرتی گیس وزرات مفلس تر پریواروں کی کروڑو خواتین کو نفع پہُنچانے والی اسکیم کی تکمیل کرے‌گا۔

مَوجُودَہ صورت حال اَور صحتی مسائل

ملک میں غریبوں کی ابھی تک کھانے پکانے کی گیس (ایل پی جی)تَک محدود پہُنچ رہی ہے۔ ایل پی جی سلینڈر کی پہنچ بنیادی طور پر شہری اَور نصف-شہری علاقوں تَک ہے۔ اَور اِن میں سے بھی اوسطاً پریوار درمیانی اَور امیر طبقے کے ہیں۔ رکازی ایندھن پر منحصر کھانا بنانے سے صحت سے جُڑے سنگین مسائل دیکھے گئے ہیں۔ عالمی صحتی تنظیم کے ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں 5 لاکھ لوگوں کی موت غیر خالص رکازی ایندھن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اِن میں سے زیادہ تر کی موت کا سبب غیر سرایت کُن مرض جیسے دل کی بیماری، صدمہ، دیرینہ مزاحم پھیپھڑے سے متعلق بیماری اَور پھیپھڑے کا کینسر شامل ہے۔ گھریلو ہوائی آلودگی بچّوں کو ہونے والے تیز سانس سے متعلق امراض کے لئے بڑی تعداد میں ذمہ دار ہے۔ ماہرین کے مُطابق باورچی خانہ میں کھُلی آگ جلانا ہر گھنٹے چار سو سگریٹ جلانے کے مانند ہے۔

عطاۓ اختیار اَور  روزگار  بھی

بی پی ایل پریواروں کو مفت ایل پی جی کنیکشن عطا کرنے سے ملک میں کھانے پکانے کی گیس کی پہنچ تمام لوگوں تَک مُمکِن ہوگی۔ اِس سے خواتین کا ذی اختیاری ہوگی اَور اُن کی صحت کی حفاظت ہوگی۔
اِس سے کھانا بنانے میں لگنے والے وقت اَور سخت محنت کو کم کرنے میں بھی مدد مِلے‌گی۔ اسکیم سے کھانا پکانے کی گیس کی تفویض میں کام کاجی دیہی جوان کو روزگار بھی حاصل ہوگا۔
ماخذ : اخباری اطلاعات دفتر، حکومتِ حند۔

3.22222222222
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top