ہوم / صحت / دماغی صحت / دماغی صحت کی اہمیت
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

دماغی صحت کی اہمیت

دماغی صحت کیا ہے؟

ملک کی ترقی کیلئے صحت ایک ضروری عامل ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحتWHOصحت کی تعریف بیان کرتا ہے۔ صحت جسمانی، ذہنی، سماجی اور روحانی بہبود کی حالت کا نام ہے ناکہ محض بیماری اور کمزوری کی غیر موجودگی کا نام۔ WHO دماغی صحت کو دماغی بہبود کا نام دیتا ہے جسمیں ایک فرد اسکی ذاتی صفات کو سمجھ کر زندگی کے نارمل دباو کو برداشت کرسکتا ہے اور فعالیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے سماج میں اپنا حصہ/رول اداکرسکتا ہے ان مثبت معنوں میں دماغی صحت کسی فرد کی بہبود اور سماج کی بہترکارکردگی کی بنیاد ہوتی ہے۔

دماغی صحت کے درج ذیل پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

  1. علیمی نتائج (استعداد)
  2. کام میں بہتر کارکردگی
  3. ثبت شخصی تعلقات میں بہتری
  4. رائم کی شرح
  5. راب اور نشہ سے ہونے والی زدوکوب

دماغی صحت کیوں ضروری ہے؟

ماغی بیماریوں سے 450 ملین سے زائد افراد متاثر ہیں WHO کے مطابق 2020 ء تک عالمی پیمانہ پر ڈپریشن، دباو دوسرا سب سے بڑا بیماریوں کا بوجھ بن جائیگا۔ (Murray4 loge 1996) دماغی صحت کا عالمگیر دباو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی رسائی سے باہر ہوجائیگا۔

بیمار دماغی صحت کے بڑھتے ہوئے دباو کے ساتھ جڑی سماجی اور معاشی قیمت کے سبب دماغی صحت کے فروغ کے امکانات کے ساتھ ساتھ اسکے سدباب اور علاج پر بھی توجہ کی ضرورت ہے اسطرح دماغی صحت رویہ سے جڑی ہوئی ہے اور جسمانی صحت اور زندگی معیار کی بنیاد ہے۔

  • سمانی صحت اور دماغی صحت ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ڈپریشن کے سبب دل کی بیماریاں درآتی ہیں۔
  • دماغی بیماریوں کے سبب فرد کی صحت کے رویہ جیسے کھانے کی حساسیت، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، محفوظ منسبی سرگرمیوں میں شمولیت، شراب اور تمباکو کا استعمال طبی علاج سے دوری جسکے سبب جسمانی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔
  • دماغی بیماریوں کے سبب سماجی مسائل جیسے بے روزگاری، غربت، خاندانوں کا بکھراو ، ڈرگ ابیوز اور اس سے متعلق جرائم میں اضافہ ہوا ہے ۔
  • راب دماغی صحت مدافعتی نظام کو بگاڑنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔
  • بی طور پر ذہنی بیمار مریض کی کارکردگی صحت مند فرد کے مقابلہ کافی خراب ہوتی ہے۔
  • کہنہ امراض جیسے ذیابطیس، کینسر، دل کے امراض سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مینٹل ہیلتھ پروگرام کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں

  • اغی بیمار کے ساتھ خوف بڑا ہوتا ہے اور سماج میں مریض کے ساتھ تمام محازوں جیسے تعلیم ، روزگار، شادی بیاہ وغیرہ میں امتیاز برتا جاتا ہے جسکے سبب طبی خدمات کے حصول میں دیری ہوتی ہے۔
  • اغی صحت اور بیماری کے نظریہ سے متعلق ابہام جسکے سبب متعین علامات اور نشانیوں کی کمی جسکے نتیجہ میں تشخیص میں شک ہوجاتا ہے۔
  • وگوں کا احساس ہے کہ ایسے افراد دماغی طورپر کمزور ہوتے ہیں یا ان میں ارواح کے سبب دماغی خلل واقع ہوتاہے۔
  • بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دماغی صحت کے معاملہ میں علاج کا الٹا اثر پڑتا ہے۔
  • ہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ احتیاطی تدابیر میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
  • بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ دماغی خلل کے علاج کیلئے استعمال کی جانے والی ادویات کا سائڈ افیکٹ ہوتا ہے اور اس سے اسمیں اضافہ ہوتا ہے انکا خیال ہے کہ ان ادویات سے صرف نیند میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • ۔ WHO کے جمع کردہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دماغی بیماری سے پڑنے والے دباو کے تناسب میں اور اسکے سدباب اور علاج کے ذرائع کی دستیابی میں بڑا فرق ہے۔
  • حالیہ ایام تک دنیا کے بیشتر حصہ میں دماغی امراض کا علاج دواوں اور ہیلتھ کیئر سے نہیں کیاجاتا تھا۔
  • فسیاتی مریض اور انکے خاندان پر یشرگروپ کی حیثیت سے کام کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں کیونکہ وہ یکجٹ آنے کے معاملہ میں زبردست سماجی خوف اور انکے حقوق سے متعلق معلومات میں کمی کے سبب کافی تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔
  • یہاں تک کہ غیر سرکاری تنظمیں (NGO)بھی اسے ایک مشکل میدان سمجھتی ہیں کیونکہ یہ ایک طویل سپردگی چاہتا ہے اور وہ دماغی طور پر متاثر افراد سے نپٹنے میں خود کو خوفزدہ محسوس کرتے ہیں۔

دماغی خلل کے اسباب:۔

حیاتیاتی عوامل

نیوروٹرانسمیٹرس۔دماغ میں موجود نیوٹرانسمیٹرس نامی مخصوص کیمیکل کے عدم توازن سے دماغی خلل کا تعلق ہوتا ہے۔ نیوروٹرانسمیٹرس دماغ میں موجود نیورو خلیات کے ایک دوسرے سے ربط میں مددگار ہوتے ہیں۔ اگر یہ کیمیکل غیر متوازن ہوجائیں یا برابر طریقہ سے کام کرنا بند کردیں دماغ میں پیغام کی ترسیل صحیح طورپر نہیں ہوپاتی جسکے سبب دماغی خلل کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

جینیاتی(موروثی)متعدد دماغی خلل خاندانی ہوتے ہیں یہ ثابت ہوا ہے کہ دماغی خلل سے متاثرہ خاندان سے متعلق افراد میں بھی دماغی خلل پیدا ہوتا ہے۔ جنین کے ذریعہ یہ خطرہ منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کئی (خلیات) جینس میں عدم توازن سے دماغی خلل کا تعلق ہوتا ہے ناکہ صرف ایک سے، اسی لئے ایک فرد میں دماغی خلل کا خطرہ منتقل ہوتا ہے لیکن یہ بیماری میں تبدیل ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایک سے زائد جنین کے ربط اور دیگر عوامل کے سبب بھی اس شخص میں جسمیں اسکا خطرہ درآیا ہو دماغی خلل واقع ہوتا ہے جیسے دباو ، تشدد پسندی، یاخوف جو غالب آسکتا ہے یابڑھ سکتا ہے ۔

انفیکشنمتعدد انفیکشن بھی دماغی خلل یا دماغی بیماری کے فروغ یا اسکی علامات سے شدت سے جڑے ہوتے ہیں مثلا PAN DA کے نام سے معروف جو اسٹرپٹوکوکس بیکٹیریا سے جڑا ہوتا ہے جسکے سبب بچوں میں ابیسیوکمپلیو ڈس آرڈر اور دیگر دماغی خلل پیدا ہوتے ہیں۔

دماغ میں خرابی یا زخمدماغ کے کچھ حصوں میں زخم یا خرابی کے سبب بھی دماغی صحت متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

شنل مینٹل ہیلتھ پالیسیوں کا دماغی خلل سے تعلق نہیں ہوتا لیکن وسیع تر مسائل کی شناخت کرنا اہم کیم ہےجو دماغی صحت کو فروغ دیتے ہیں۔ حکومت نجی سیکٹر بشمول تعلیم، مزدور، انصاف، حمل ونقل، ماحولیات، ہاوزنگ اور بہبود اسکے ساتھ ساتھ ہیلتھ سیکٹر کے پروگرامرس اور پالیسیاں بھی مینٹل ہیلتھ پرموشن میں شامل ہیں۔

دماغی صحت کو WHO کا ریسپانس

دماغی صحت کے استحکام اور فروغ کے مقصد میں WHO حکومت کی معاون ہے WHO نے دماغی صحت کے فروغ کے نکات کا تجزیہ کیا ہے اور حکومت کے ساتھ ملکر پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ کیلئے موثر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ابتدائی بچپن کی مداخلت (مثلاً حاملہ خواتین کے مکانات کی وزٹ، پری اسکول نفسیاتی سماجی سرگرمیاں، مشترکہ تغذیاتی اور نفسیاتی سماجی مدد برائے پسماندآبادی وغیرہ)

  • چوں کی معاونت (مثلاً اسکیل بلڈنگ پروگرام، پروگرام برائے فلاح اطفال ونوجوان)۔
  • واتین کی سماجی ، معاشی بااعتباری (مثلاً تعلیم اور مائیکروکریڈٹ اسکیموں تک رسائی میں بہتری)
  • عمر رسیدہ افراد کیلئے سماجی حمایت (مثلاً بزرگوں کے ساتھ دوستی، بوڑھوں کیلئے کمیونٹی اور ڈے مراکز}
  • سماندہ گروپوں کیلئے پروگرام بشمول اقلیتیں ،پچھڑے ہوئے افراد ،مہاجرین اور آفات اور تنازعات سے متاثرہ افراد (مثلاً آفات کے بعد نفیساتی سماجی مداخلت)
  • سکولوں میں دماغی صحت کے فروغ کی سرگرمیاں (مثلاً اسکولوں اور اطفال دوست اسکولوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر پروگرامس وغیرہ)
  • کام کے دوران دماغی صحت مداخلت (دباو کے سدباب کے پروگرام)
  • ہاوزنگ پالیسیاں (مثلاً مکانات میں بہتری)
  • تشدد کی روک تھام کے پروگرام (مثلاً کمیونٹی پالیسنگ اقدامات) اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرامس (مثلاً سماج جو اقدامات کی قدر کریں، دیہی ترقیات)

مآخذ: ڈاکٹر سدھارانی اسسٹنٹ پروفیسر برائے نفسیات انسٹی ٹیوٹ آف فیشل ہیلتھ حیدرآباد

2.44444444444
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Related Languages
Back to top