ہوم / تعلیم / ٹیچرس کارنر / تدریس میں ٹیکنالوجی ٹولس (آلات)
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

تدریس میں ٹیکنالوجی ٹولس (آلات)

تعلیم میںI C T کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کیلے مناسب ٹیکنالوجیکل آلات کا انتخاب ایک اہم ترین قدم ہے یہ سیکشن ان ٹیکنالوجیس کی معلومات فراہم کرتی ہے جو تعلیم میں اسلام ہوتی ہے اور ان چیلنجوں کی بھی معلومات ہوگی جو تعلیم میںI C T کے استعمال سے پیدا ہوگی۔

I C T کیا ہے

اصطلاح انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجس ICIٹیکنالوجی کے ان شکلوں کی حیثیت سے استعمال کی جاتی ہے جوالیکٹرانک ذرائع سے معلومات کی منتقل ، محفوظ کرنا، تیارکرنا، ڈسپلے کرنا یاتبادلہ کرنا میں استعمال ہوتی ہے۔ ICT کی اس وسیع تر تعریف میں ٹیکنالوجیس جیسے ریڈیو، ویڈیو، ڈی وی ڈی، ٹیلی فون (دونوں لینڈلائن اور موبائیل) سٹیلائیٹ نظام، کمپیوٹر اور نیٹ ورک ہارڈوئیر اور سافٹ ویر اسکے ساتھ ساتح ان ٹیکنالوجیس سے وابستہ آلات اور خدمات جیسے ویڈیو کانفرنسنگ ای میل اور بلاکس وغیرہ

انفارمیشن ایج کے تعلیمی مقاصد کے ادراک کیلے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیس ICT کے ماڈرن فارمس کو تعلیم میں مربوط کرنا ضروری ہے۔ اسکو بہتر طریقہ سے انجام دینے کیلے تعلیمی پلانرس پرنسپانس، ٹیچرس اور ٹیکنالوجی ماہرین ضرور بہ ضرور ٹیکنالوجی، تربیت فینانشیل ، تعلیمی اور انفرااسٹرکچر ضروریات میدانوں میں کئی فیصلہ لینے ضروری ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ ایک بھی کافی پیچیدہ ٹاسک ہے اسی طرح جیسے نئی زبان کا نہ صرف سیکھنا بلکہ یہ بھی سیکھنا کہ کسطرح سے اس نئی زبان کو سکھانا ہے۔

یہ سیکشن بذات خود آلات ، سٹیلائٹس جو ممالک کو جوڑتے ہیں سے لیکر ان مشینوں تک جن پر طلباء نصاب بنانے والوں اور دیگر کی مدد کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے تذبذب کا شکار ICT ٹولس اصطلاحات اور نظاموں میں اپنی راہ کھوج سکیں۔

تعلیم میں ICT کا کردار

موٹے طورپر معلمین، پالیسی ساز اور محققین ICT کی صلاحیت پر متفق ہوگئے ہیں کہ تعلیم پر اہم اور مثبت اثرات ڈالنے کی صلاحیت ICT میں موجود ہے جو بات ابھی بھی زیر بحث ہے کہ کیا تعلیمی اصلاحات میںICT کو اپنا رول ادا کرنا چاہیئے اور کسطرح اس صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔

اس سیکشن میں مضامین، رپورٹس اور آن لائن جرنلس اور ویب سائٹس کو لنکس موجود ہے جو بتاتے ہیں کہ کسطرح ICT نے تعلیم پ اثرات مرتب کیے ہیں اور کس رخ پر اسکولوں میں ٹیکنالوجی کو بڑھنا چاہیئے۔ اس سیکشن میں ایجوکیشن میں ICT کے استعمال سے مل رہے فوائد کو بیان کرنے والے مضامین بھی دستیاب ہیں۔ اسکے علاوہ تعلیمی پروگراموں بشمول لائق توجہ مسائل، یاد کردہ اسباق اور عام غلطیاں جن سے بچاجاسکتا ہے پر مضامین اور اسٹڈیز بھی موجود ہیں جو تعلیم میں ICT کے استعمال کیلے رہنمایانہ ہدایات فراہم کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجیس ایٹ ورک

دنیا بھر سے ریسرچ کامیابی اور ناکامی کی کہانیاں لائی گئی ہیں تاکہ ٹیکنالوجیس کے استعمال کیلے پالیسیوں، لائحہ عمل اور عملی اقدامات کو دکھایا جاسکے۔

اس میں شامل موضوعات درج ذیل ہیں:

  • ملٹی چینل لرننگ
  • تعلیمی ٹیل ویژن
  • تعلیمی ریڈیو
  • ویب سیڈ انسٹرکشن
  • استعمال کیلے لائبریریاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی میں عملی اقدامات
  • میڈیا کا استعمال
  • میدانوں جیسے ابتدائی بچپن، کم کثافت آبادی، بالغ خواندگی، خواتین کی تعلیم اور افرادی قوت میں بہتری میں ٹیکنالوجیس کا استعمال
  • معلمین کی تیاری اور کیرئیر لانگ ٹریننگ کیلے ٹیکنالوجیس
  • پالیسی پلاننگ، ڈیزائن اور ڈاٹا مینجمنٹ کیلے ٹیکنالوجیس
  • اسکول مینجمنٹ کیلے ٹیکنالوجیس

آج کی ٹیکنالوجی

لرننگ کیلے ٹیکنالوجی کیلے مہیا متعدد چیزوں کا تجزیہ

  • تعلیمی مواد
  • آڈیو، ویڈیو اور ڈیجیٹل مصنوعات
  • سافٹ ویر اور کنٹینٹ وئیر
  • رابطہ/ کنکٹوٹی کے طریقہ
  • میڈیا
  • تعلیمی ویب سائٹس

ریڈیو اور ٹیل ویژن

ابتدائی 20 ویں صدی سے تعلیم میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا استعمال ہورہا ہے اسطرح کے ICT کے فارمس 3 اہم طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں۔

  • بالراست کلاس ٹیچنگ بشمول انٹرایکٹیو ریڈیوانسٹرکشن IRI اور ٹیلی وائزرڈ اسباق
  • اسکول براڈ کاسٹنگ جہاں ابتدائی تعلیم کے پروگرام فراہم کیئے جاتے ہیں
  • جنرل ایجوکیشنل پروگرامنگ جوجنرل اور انفارمل تعلیمی مواقع فراہم کرتی

ہیں۔ IRIروزآنہ کی بنیاد پر اسباق نشر کرنے پر مشتمل ہے۔ خاص موضوعات پر اور مخصوص لیول کی نشان دہی کرتے ہوئے، مخصوص لیولس پر ٹیچرس کی مدد فراہم کرنے والے ریڈیو اسباق سے تدریس کے معیار میں اضافہ اور درس وتدریس میں اضافہ ہوگا۔ تعلیم تک رسائی کی توسیع ایسے اسکول اور ادارہ جنہیں کچھ ہی وسائل دستیاب ہیں جو دوردراز کے علاقوں میں ہیں کیلے ریڈی میڈاسباق کو لاکر تعلیم تک رسائی میں توسیع کا کام IRI کررہا ہے۔ مطالعہ بتاتے ہیں کہ پروجیکٹس نے دونوں رسائی اور نارمل اور نان فارمل ایجوکیشن کی کوالیٹی پر مثبت اثرات مرتب کیئے ہیں یہ ایک کم خرچ ذریعہ ہے جسکے ذریعہ بڑی تعداد میں افراد تک تعلیمی مواد منتقل ہوتا ہے۔

دیگر کورس میٹرئیل کو مدد فراہم کرنے کیلے یہ ٹیلی وائزرد اسباق استعمال ہوسلتے ہیں یا بھی علحدہ اسباق بھی ہوتے ہیں۔ تعلیمی ٹیلی وائزڈ پروگرام عام طورپر پرنٹ شدہ میٹرئیل اور دیگر ذرائع کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ تعلیم اور تبادلہ خیال میں بہتری آئے۔ ایشپاپیسیفک ریجن میں بڑے پیمانہ پر تعلیمی نشریات پھیلی ہوئی ہیں مثال کے طور پر ہندوستان میں اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) ٹیلی ویژن اور ویڈیوں کانفرنس پروگرام نشر کرتی ہے۔

متعین اسباق کو نشر کرنے کے علاوہ ریڈیوں اور ٹیلی ویژن عمومی تعلیمی پروگرامس بھی نشر کرسکتے ہیں۔ بنیادی طورپر کوئی بھی ریڈیو یا ٹیلی ویژن پروگرام جوتعلیمی قدر رکھتا ہو ایک عمومی تعلیمی پروگرام تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک مثال امریکہ کا (Sesame Street) بچوں کیلے ایک تعلیمی ٹیلی ویژن پروگرام ہے دوسری مثال کینڈیائی تعلیمی ریڈیو کا ڈسکشن فورم"ریڈیو فورم" ہے۔

تعلیم کیلے ریڈیو اور ٹی وی براڈ کاسٹنگ کا استعمال

1920 اور 1950 کے دہے سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا تعلیمی وسائل کے طورپر استعمال بڑے پیمانہ پر کیا جارہا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی نشریات کے تعلیم میں استعمال کے 3 عمومی اپروچ ہیں۔

  • بالراست کلاس ٹیچنگ جہان نشریاتی پروگرام عارضی بنیادوں پر ٹیچرس کا متبادل ہوتے ہیں۔
  • اسکولی نشریات جہاں نشریاتی پروگرام اعزازی طورپر دی جاتی ہیں یا پھر لرننگ ذرائع دستیاب نہیں ہوتے۔
  • کمیونٹی تھی، بین الاقوامی سطح پراسٹیشن عمومی تعلیمی پروگرامنگ عمومی اور معلوماتی تعلیمی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

راست کلاس ٹیچنگ طریقہ کار کی سب سے اہم ترین اور بہترین تیار کردہ مثال آئی آرآئی ہے یہ روزآنہ کی بنیاد پر ریڈی میڈی 20 تا 30 منٹ پر مشتمل ڈائریکٹ ٹدریس اور لرننگ کی سرگرمی ہے مخصوص لرننگ مقاصد کے اطراف ریاضی، سائنس ، صحت اور ریاستی اور ملکی نصاب میں زبان کے مخصوص لیولس پر ریڈیواسباق تیار کیئے جاتے ہیں اور اسکے ذریعہ کلاس روم تدریس کے معیار میں بہتری اور غیر تربیت یافتہ /کم تربیت یافتہ ٹیچرس کو اسٹرکچرڈ مدد فراہم کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ ہندوستان اور دیگر ساوتھ ایشیائی ممالک میں IRIپروجیکٹ پر عمل کیا گیا ہے۔ ایسا میں سب سے پہلے تھائی لینڈ میں 1980 میں IRI پر عمل درآمد کیا گیا ہے 1990 کے دہے میں پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور نیپال نے اپنے خودکہ IRI پروجیکٹس تیار کیے دیگر فاصلاتی تعلیمی پروگراموں سے ICT مختلف ہے کیونکہ اسکا بنیادی مقصد لرننگ کی کوالیٹی بڑھانا ہے تاکہ تعلیمی اکسس کو توسیع دینا اور یہ دونوں رسمی اور غیر رسمی میٹنگ میں کافی کامیاب ہوا ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق سے پتہ چلاہے کہ کئی IRIپروجیکٹس کا لرننگ آوٹ کم اور تعلیمی مساوات پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے اور اسکے معاشی پہلو کے حساب سے یہ دیگر اقدامات کے مقابلے میں کافی سستا طریقہ ثابت ہوا۔ ملک کے اسکولوں میں جہاں ایک ہی طرح کا ثانوی نصاب ہوتا ہے وہاں اسکولی اوقات میں مرکزی طورپر تیار کردہ ٹیلی ویژن پروگرام سٹیلائٹ کے ذریعہ نشر کیے جاتے ہیں۔ ہر گھنٹہ میں مختلف موضوع پر ٹیچرکی زیر رہنمائی سرگرمی پر توجہ دی جاتی ہے۔ طلباء کو ٹیلی ویژن پر مختلف قسم کے اساتذہ میسرآتے ہیں جبکہ اسکول میں ہر گریڈ کیلے تمام ڈسیپلین کیلے ایک ہی ہوم ٹیچر مہیا ہوتا ہے۔

سال بہ سال پروگرام کے ڈیزائن (خاکہ) میں کئی تبدیلیاں کی گئیں صرف بولنے والے طریقہ کار کی بجائے زیادہ پرکشش، ڈائنمک تبادلہ خیال پر مبنی پروگرامس کو ٹیچنگ میتھڈ میں استعمال کیا جانے لگا۔ نئے طریقہ کار میں سماجی مسائل کو پروگرام میں شامل کیا گیا بچوں کو مربوط تعلیم ۔۔کی گئی، سماج کو بڑے پیمانے پر تنظیم اور اسکولی مینجمنٹ میں شامل کیا گیا ساتھ ہی متوازی طور پر طلباء کو بھی سماجی کام انجام دینے پر ابھارا گیا ٹی وی پروگرامس کے تجزیہ کافی ہمت افزا ہیں۔ عمومی ثانوی اسکولس کے مقابلہ میں ڈراپ آوٹ کی شرح قدرے کم ہوئی اور ٹیکنکل اسکولس کے مقابلہ یہ شرح نمایاں طور پر بہترہوئی۔ ایشیا میں چین میں 44 ریڈیو اور ٹی وی یونیورسٹیاں {بشمول چائنہ سینٹرل ریڈیو اور ٹیلی ویژن یونیورسٹی} انڈونیشیا میں یونیورسٹیاں ٹربوکہ اور IGNOV نے ریڈیو اور ٹی وی کا وسیع تر استعمال کیا انہوں نے انکے طلباء تک {آبادی تک} پہنچنے کیلے راست کلاس ٹیچنگ اور اسکولی نشریات دونوں کا استعمال کیا ان اداروں میں نشریات عمومی طور پر پرنٹ شدہ میٹرئیل اور آدیوکیٹ کے ساتھ ہوتی ہیں۔

2000ء میں جاپان کی یونیورسٹی آف دی ائیر 160 ٹیلی ویژن اور 160 ریڈیو کورسس رکھتی تھی ہر کورس 15 تا 45 منٹ کے لیکچر پر محیط ہوتا تھا جو ملکی سطح پر ہفتہ میں ایک روز 15 ہفتوں تک نشر ہوتا ہے 6تا 12 بجے کے درمیان یونیورسٹی کی ملکیت والے اسٹیشن پر پروگرام نشر ہوتا ہے طلباء کو افسانی پرنٹ میٹرئیل، دوبدوہدایات اورآن لائن ٹیوٹورئیلس فراہم کیے جاتے ہیں۔ قومی نصاب کے حساب سے اور مختلف موضوعات کی ایک رینج کیلئے تیار کردہ نصاب کے ساتھ ساتھ عام طورپر پرنٹ میٹرئیل کیٹس، سی ڈی رومس اسکول براڈ کاسٹنگ راست کلاس ٹیچنگ کیلے بھجوائے جاتے ہیں۔ لیکن راست کلاس انسٹرکشن کے برخلاف اسکول براڈ کاسٹنگ ٹیچر کا متبادل نہیں ہوتا بلکہ صرف رسمی کلاس روم انسٹرکشن کو مزید بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ اسکول براڈکاسٹنگ IRI سے زیادہ لچکدار ہوتا ہے اس لیے ٹیچرس فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ نشر کردہ میٹرئیل کو انکی کلاس میں کسطرح مربوط کرسکتے ہیں۔ وسیع تر براڈ کاسٹنگ کارپوریشن جو اسکول براڈ کاسٹس فراہم کرتے ہیں بشمول یونائیٹد کنگڈم میں کارپوریشن ایجوکیشن ریڈیو ٹی وی اور NHIL جاپانی براڈکاسٹنگ اسٹیشن اہم ترہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں اسکول براڈ کاسٹس منٹری آف ایجوکیشن اور منسٹری آف انفارمیشن کے درمیان شراکت کا نتیجہ ہے۔

عمومی تعلیمی پروگرامنگ پروگرام کی اقسام کی وسیع رینج رکھتے ہیں۔ نیوز پروگرامس، ڈاکیومنٹری پروگرامس ، کوز شوز، تعلیمی کارٹونس وغیرہ جو تمام قسم کے سیکھنے والوں کی غیر رسمی تعلیمی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ سمجھنے کیلئے کوئی بھی ریڈیو اور ٹی وی پروگرامنگ جو معلوماتی اور تعلمی مواد رکھتا ہو اس قسم کے تحت تصور کیا جاسکتا ہے اسکی کچھ اہم ترین مثالیں جنکی عالمی پہنچ ہے میں امریکہ کا ٹیلی ویژن شو Sesame Steet تمام معلوماتی ٹی وی چیانلس، نیشنل جغرافیہ اور ڈسکوری اور ریڈیو پروگرام وائس آف امریکہ ہیں 1940 میں کینڈا میں شروع ہوا فارم ریڈیو فورم اور جو تب ہی سے دنیا بھر میں ماڈل دسکشن پروگرام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ غیر رسمی تعلیمی پروگرامنگ کی دوسری مثال ہے۔

تحقیق سے یا ثابت ہوا ہے کہ ICT کے مناسب استعمال سے 21 ویں صدی کی تعلیمی اصلاحات کے قلب میں موجود تعلیم اور مواد دونوں کے تعلیمی رجحان میں تبدیلی (محرک) Catalyst کا کردار ادا کیا ہے۔ اگر مناسب طریقہ سے تیار کیا جائے اور عمل میں لایا جائے ICTکی تائید کردہ تعلیم علم اور صلاحیتوں کے حصول کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے جس سے طلباء تاحیات بااختیار بن سکتے ہیں۔

جب ICT کا مناسب استعمال ہوگا۔ بالخصوص کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیس تدریس اور لرننگ کے نئے راستہ کُھلیں گے جو معلمین اور طلباء کو جو کچھ وہ ماضی میں مددگار ثابت ہونگے۔ یہ تدریس اور سیکھنے کے نئے راستہ تدریس کے کنسٹرکٹوسٹ نظریات کے ذریعہ انٹررینڈ کیئے گءے اور ٹیچر مرکوز تعلیم سے ایک شفٹ {بدلاو} قائم ہوا۔ یاد کرنے اور رٹنے کے بدتر طریقہ سے اب یہ لرنر سینٹرڈ ہوتی ہے

فعال سیکھنا (اکٹیولرننگ) امتحانات، معلومات کا میاب اور تجزیہ اسطرح اسٹوڈنٹ انکوائری کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرنا، نئی معلومات کا تجزیہ اور تعمیر کیلئے سیکھنے کے ٹولس (وسائل) کو ICT نے استعمال میں لایا ہے اسی لیے سیکھنے والے جیسا وہ سیکھ سکتے ہیں جب کبھی بھی مناسب ہوتا ہے سیکھتے ہیں گہرائی کے ساتھ حقیقی زندگی کے مسائل پرکام کرتے ہیں اسطرح لرننگ کولرنر کی زندگی حالات سے زیادہ موافق بنانا ہے اس طریقہ سے اور رٹنے اور یاد کرنے کی بنیاد پر سیکھنے سے علیٰ الرغم ICT سے لیس لرننگ سیکھنے والے کی شمولیت کو زیادہ بڑھاوا دیتی ہے۔ ICT سے لیس لرننگ بروقت لرننگ ہے جسمیں سیکھنے والا کیا سیکھنا ہے اور اسے یہ سیکھنے کی ایک ضرورت ہے کا انتخاب کرسکتا ہے۔

باہمی تعاون سے سیکھنا تائیدی لرننگ طلباء ، ٹیچرس اور ماہرین قطع نظر اسکے وہ کہاں ہیں کے درمیان تعامل اور تعاون کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ لرننگ سیکھنے والے کو مختلف تہذیبوں کے حامل افراد کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیتی ہے اسطرح سیکھنے والے کی کمیونکشن اور ٹیمنگ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اسکے علاوہ اسمیں دنیا سے متعلق بیداری پیدا ہوتی ہے۔ سیکھنے والے کی پوری زندگی پر یہ لرننگ ماڈل محیط ہوتا ہے اسمیں نہ صرف ساتھیوں بلکہ مختلف میدانوں رہنماوں اور ماہرین سے بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

رسائی میں اضافہ
بنیادی تعلیم تک رسائی کی توسیع میں ICT کتنا مددگار ثابت ہوا اسکا درجہ طئے کرنا کافی مشکل امر ہے کیونکہ اس مقصد کے زیادہ تر معاملات چھوٹے پیمانہ پر اور غیر روپورٹ شدہ ہیں جبکہ پرائمری سطح پر کچھ ہی ثبوت ملتے ہیں کہ ICT پر مبنی ماڈلس کامیاب واقع ہوئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور اڈلٹ ٹریننگ میں کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جہاں روایتی یونیورسٹیوں میں شرکت سے مجبور افراد اور گروپس کیلے تعلیمی مواقع اس سے پیدا ہوئے ہیں۔ 11نام نہاد میگا یونیورسٹیاں جو دنیا میں عظیم الشان اور اچھی طرح سے قائم اوپن اور فاصلاتی یونیورسٹیاں ہیں {جسمیں برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی، انڈیا کی اگنو، دی چائنا ٹی وی یونیورسٹی سسٹم انڈونیشا کی یونیورسٹی ٹروکہ اور یونیورسٹی سسٹم ، انڈونیشیا کی یونیورٹی ٹروکہ اور یونیورسٹی آف ساوتھ افریقہ اور دیگر میں سالانہ داخلہ100,000سے زائد ہے اور وہ تقریباً 2.8ملین کی خدمت کررہے ہیں۔ اسکا تقابل امریکہ کے 3500 کالجس اور یونیورسٹیوں میں مشترکہ طورپر 15 ملین داخلوں سے کیا جاسکتا ہے۔

بڑھتا معیار تعلیمی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات کا بنیادی تعلیمی معیار پر اثر ایک زیر تحقیق موضوع ہے، لیکن تھورٹی بہت ریسرچ بتائی ہے کہ یہ طریقہ کار اتنے ہی پراثر ہیں جتنے روایتی کلاس روم طریقہ کار متعدد تعلیمی نشریاتی پروجیکٹس میں سے IRI پروجیکٹ کا باریکی سے تجزیہ کیا گیا نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ تعلیمی کے معیار میں اس پروجیکٹ سے خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ معیار یاتی کسٹس میں بڑھے ہوئے نشانات اور حاضری میں بہتری سے یہ بات ثابت ہوئی اسکے برخلاف کمپیوٹرس انٹرنیٹ اور متعلقہ ٹیکنالوجیس کا فاصلاتی تعلیم میں استعمال کافی مبہم نظرآیا۔ رسل نے اسکے تجزیہ اور تحقیق میں دعویٰ کیا کہ ICT پر مبنی فاصلاتی تعلیمی کورس اور دوبدو سیکھنے والے افراد کے ٹسٹ نتائج میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں ہے، حالانکہ دیگر کا دعویٰ ہے کہ اسطرح کی عمومیت غیر قطعی ہیں انہوں نے نشان دہی کی کہ حقیقی تجرباتی تحقیق یا ۔۔اسٹڈی میں بڑے پیمانہ پر ICT پر مبنی فاصلاتی تعلیم پر مضامین کو شامل نہیں کیا گیا ہے دیگر ناقدین کا خیال ہے کہ جہاں ICT کے ذریعہ فاصلاتی طریقہ تعلیم سے سکھایا جاتا ہے وہاں ڈراپ آوٹ کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ معیاری ٹسٹنگ کے ذریعہ ایسی بھی متعدد اسٹڈیز ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ کمپیوٹر کے استعمال نے موجودہ نصاب کو بہتر اور کارکردبنایا ہے۔

خاص طورپر تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مضامین میں روایتی تدریس کے مقابلہ ہیں کمپیوٹر کے بحیثیت ٹیوٹر استعمال سے، مشق اور تربیت، تدریسی ترسیل کیلئے روایتی تدریس سے جوڑکر روایتی نصاب کے سیکھنے اور بنیادی صلاحیتوں کے نتائج میں اضافہ اسکے علاوہ اعلیٰ ٹسٹ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ طلباء تیزی سے سیکھنا زیادہ دیر تک یادرکھنا اور زیادہ پرجوش اس وقت نظر آئے جبکہ وہ کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں۔ لیکن ایسے بھی بہت سے ہیں جن ک دعویٰ ہے کہ یہ معمولی فوائد کی نمائندگی کرتے ہیں اور کسی بھی صورت میں کئی ایک محققین جنکی بنیاد پر یہ دعویٰ ہیں وہ ناقص طریقہ کار اختیار کیئے ہوئے ہیں۔

اسی طرح تحقیق سمجھاتی ہے کہ کمپیوٹرس، انٹرنیٹ اور اس سے متعلق ٹیکنالوجیس کے استعمال مناسب ٹیچر ٹریننگ اور سپورٹ دینے کے بعد یقیناً تعلیمی ماحول لرنر سینٹرڈ ماحول میں تبدیل ہوجائیگا۔

لیکن یہ مطالعہ تنقید کا شکار ہونے انکی وضاحتی فطرت اور تجرباتی سختی کے سبب ابھی تک ایسے مضبوط دلائل نہیں ہے کہ یہ نیالرننگ ماحول بہترلرننگ نتائج فروغ دیتا ہے جو کچھ موجود ہے وہ معیاری ڈاٹا ہے جو طلباء اور ٹیچرس کے تصورات کے مشاہدات اور تجزیات پر مبنی ہے جو لرننگ پر مثبت اثرات ثابت کرتا ہے۔

کمپیوٹر کی افادیت اور انٹرنیٹ کا تبدیلی کے ٹول کی حیثیت سے تجزیہ کرنے میں ایک نازک ترین مسئلہ یہ ہے کہ معیاری ٹسٹس ان فوائد کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا جولرنر سینٹرڈماحول سے مطلوب تھے اسکے علاوہ، چونکہ ٹیکنالوجی کا استعمال مکمل طورپر بڑے لرننگ سسٹم میں مربوط ہے لہذا ٹیکنالوجی تغیرات کو الگ کرنا اور یہ معلوم کرنا کہ کوئی مشاہدہ کردہ فائدہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہوئے یادیگر عوامل یا عوامل کے اشتراک سے ہوئے کافی مشکل ہے۔

متعلقہ ذرائع

  1. ٹیچنگ اینڈ لرننگ
  2. ٹیچرس، ٹیچنگ اور آئی سی ٹی
3.125
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top