ڈیجیٹل گرفتاری کا فراڈ کیا ہے؟ ڈیجیٹل گرفتاری کے فراڈ میں دھوکہ باز لوگوں سے فون کال، واٹس ایپ میسج یا ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور خود کو پولیس افسر، سی بی آئی کے اہلکار، یا عدالت کے جج ظاہر کرتے ہیں۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ متاثرہ شخص کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہے اور اسے فوری طور پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا ورنہ اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ دھوکہ باز اکثر: ویڈیو کال کے دوران سرکاری دفتر جیسے پس منظر استعمال کرتے ہیں جعلی سرکاری شناختی کارڈ یا دستاویزات دکھاتے ہیں سنجیدہ اور سرکاری انداز میں گفتگو کرتے ہیں متاثرہ شخص کو فوری عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیںیہ دھوکہ دہی بھارت، چین، اور دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ امیر افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ فراڈ کیسے کام کرتا ہے؟ پہلا مرحلہ: جعلی کالفراڈیے متاثرہ شخص کو کال کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "آپ کے خلاف مجرمانہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔" "آپ کے نام پر منشیات یا پیسوں والا غیر قانونی پارسل پکڑا گیا ہے۔" "آپ کی آدھار یا بینک اکاؤنٹ کسی مجرمانہ سرگرمی سے جڑا ہوا ہے۔"یہ لوگ جعلی سرکاری نمبر استعمال کرتے ہیں تاکہ ایسا لگے کہ کال کسی پولیس اسٹیشن یا عدالت سے آئی ہے۔ دوسرا مرحلہ: خوف پیدا کرنادھوکہ باز متاثرہ شخص کو ڈراتے ہیں کہ: "اگر آپ تعاون نہیں کریں گے تو آج ہی گرفتار ہو جائیں گے۔" "آپ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کو ضبط کر لیا جائے گا۔" "آپ کے خاندان کو بھی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا۔"زیادہ تر لوگ گھبرا جاتے ہیں اور دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں جعلی عدالتی احکامات، ایف آئی آر، یا پولیس نوٹسز دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ: رقم کی ادائیگی کا مطالبہمتاثرہ شخص کو "معصوم ثابت کرنے" کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ: بینک اکاؤنٹ یا کرپٹو والیٹ میں رقم منتقل کرے گوگل پے، پے ٹی ایم یا کسی اور ایپ کے ذریعے ادائیگی کرے اپنے بینکنگ کی تفصیلات اور او ٹی پی شیئر کرےاکثر، دھوکہ باز متاثرہ شخص کو کئی گھنٹوں تک ویڈیو کال پر رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی اور سے مشورہ نہ کر سکے۔ حقیقی زندگی میں ہونے والے کچھ فراڈ کیسز نوئیڈا کے خاندان سے 1.1 کروڑ روپے کا فراڈنوئیڈا کے ایک بزنس مین کو دھوکہ بازوں نے 5 دن تک "ڈیجیٹل گرفتاری" میں رکھا۔ جعلسازوں نے خود کو ممبئی پولیس کا افسر ظاہر کیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ 1.1 کروڑ روپے مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرے۔ بہار کے ریٹائرڈ پروفیسر سے 13 لاکھ روپے کا فراڈایک 62 سالہ ریٹائرڈ پروفیسر کو کال موصول ہوئی کہ ان کا آدھار کارڈ غیر قانونی مالی لین دین میں استعمال ہوا ہے۔ خوفزدہ ہو کر، انہوں نے 13 لاکھ روپے دھوکہ بازوں کے حوالے کر دیے۔ آئی آئی ٹی دہلی کے طالب علم سے 4.3 لاکھ روپے کا دھوکہایک آئی آئی ٹی دہلی کے طالب علم کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ اس کا بینک اکاؤنٹ منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔ دھوکہ بازوں نے 4.3 لاکھ روپے نکلوا لیے۔ اپنے آپ کو اس فراڈ سے کیسے بچائیں؟ پرسکون رہیں اور گھبرائیں نہیںکوئی حقیقی پولیس افسر فون پر پیسے نہیں مانگے گا۔ کسی بھی فیصلے سے پہلے اچھی طرح سوچیں۔ کال کرنے والے کی شناخت کی تصدیق کریںاگر کوئی خود کو پولیس افسر ظاہر کرے، تو اس کا نام، عہدہ، اور محکمہ پوچھیں۔ پھر سرکاری پولیس اسٹیشن سے تصدیق کریں۔ فوری رقم نہ بھیجیںکسی بھی قانون کے تحت آپ کو فون کال پر جرمانہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیشہ کسی قانونی ماہر یا پولیس سے مشورہ کریں۔ نامعلوم ویڈیو کالز سے پرہیز کریںدھوکہ باز جعلی وردیوں اور جعلی دفاتر کا استعمال کرتے ہیں۔ کبھی بھی نامعلوم نمبروں کی ویڈیو کال قبول نہ کریں۔ فراڈ کی رپورٹ کریںاگر آپ کو کسی فراڈ کا شبہ ہو، تو سائبر کرائم ہیلپ لائن (1930) یا قومی سائبر کرائم پورٹل (cybercrime.gov.in) پر رپورٹ کریں۔ حکومت اس فراڈ کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟ عوامی آگاہی مہمات – حکومت میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو خبردار کر رہی ہے۔فراڈ اکاؤنٹس کی بندش – بینک اور یو پی آئی کمپنیاں دھوکہ دہی والے اکاؤنٹس کو مانیٹر کر رہی ہیں۔سائبر پولیس تحقیقات – حکام دھوکہ بازوں کو پکڑنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ نتیجہ: چوکنا رہیں، محفوظ رہیں ڈیجیٹل گرفتاری کا فراڈ خوف اور دباؤ کا استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ ہوشیار اور محتاط رہیں گے، تو آپ خود کو اس دھوکہ دہی سے بچا سکتے ہیں۔ تفصیلات یہاں پڑھیں