کردار ہندوستان میں نامیاتی کاشتکاری کی روایت اَور اہمیت شروع سے ہی رہی ہے۔مکمل طور پر نامیاتی کھادوں پر منحصر فصل پیدا کرنا نامیاتی پرمپراگت کرشی وِکاس یوجنا کھیتی کہلاتا ہے۔دنیا کے لئے بھلے ہی یہ نئی تکنیک ہو،لیکِن ملک میں روایتی طور پر نامیاتی کھاد پر منحصر کھیتی ہوتی آئی ہے۔نامیاتی کھاد کا استعمال کرنا ملک میں روایتی طور پر ہوتا رہا ہے۔ پرمپراگت کرشی وِکاس یوجنا قَومی دوامی زرعی مِشن کے تحت مٹی صحتی انتظام کا ایک توسیعی عنصر ہے۔پرمپراگت کرشی وِکاس یوجنا(پی کے وی وائی)کے تحت نامیاتی کاشتکاری کو کلسٹر طریقہ کار اَور پی جی ایس استناد کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔زراعت اَور اِشتراک محکمہ،حکومت ہند کے ذریعے سال 2015۔16 سے ایک نئی۔پرمپراگت کرشی وِکاس یوجنا کی شروعات کی گئی ہے۔اِس اسکیم کا مقصد نامیاتی مصنوعات کا استناد اَور کاروبار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔یوجنا کے تحت شامل عنصر شراکت داری نامیاتی سیکورٹیز نظام یا پارٹيسپیٹري گارنٹی اسکیم(پی.جی.ایس.)کو مضبوتی فراہم کرنے کے تال میل میں ہیں۔ اسکیم کے تحت این جی او کے ذریعے ہرایک کلسٹر کو مختلف سہولیات دستیاب کرائی جائیںگی۔ایک کلسٹر پر کُل 14.35 لاکھ روپیے خرچ کئے جائیںگے۔پہلے سال میں 6.80 لاکھ روپیے،دُوسرے سال میں 4.81 لاکھ روپیے اَور تِیسرے سال میں 2.72 لاکھ روپیے کی مدد ہرایک کلسٹر کو دی جائےگی۔ اِن روپیوں کا استعمال کسانوں کو نامیاتی کاشتکاری کے بارے میں بتانے کے لئے ہونے والے اجلاس،ایکسپوزر ویزِٹ،ٹریننگ سیشن،آن لائن رجسٹریشن،مٹی کی ٹیسٹنگ،آرگینِک کھیتی اَور نرسری کی معلومات،لِکویڈ بایوفرٹیلائزر،لِکویڈ بایوپیسٹی سائڈ دستیاب کرانے،نیم تیل،برمی کمپوسٹ اَور زرعی آلات وغیرہ دستیاب کرانے پر کیا جائےگا۔ورمی کمپوسٹ کی پیداوار اَور استعمال،بایوفرٹیلائزر اَور بایوپیسٹی سائڈ کے بارے میں تربیت،پنچ ڈیری،کے استعمال اَور پیداوار پر تربیت وغیرہ اس کے ساتھ ہی نامیاتی کاشتکاری سے پیدا ہونے والے مصنوعات کی پیکِنگ اَور ٹرانسپورٹیشن کے لئے بھی امداد دی جائےگی۔ متوقع نتائج اِس اسکیم کی قیاس آرائی کی گئی ہے نیچے دئے گئے مقاصد کی حصولیابی کے لئے جو اس طرح سے ہیں- مستند نامیاتی کاشتکاری کے ذریعے تجارتی نامیاتی پیداوار کو بڑھاوا دینا۔ پیسٹی سائیڈ۔فری پیداوار ہوگی جو صارفین کی اَچھی صحت کو بڑھاوا دینے میں شراکت دےگا۔ یہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرےگا اَور کاروباریوں کے لئے ممکنہ بازار دےگا۔ یہ پیداوار داخلی کے لئے قدرتی وسائل جُٹانے کے لئے کسانوں کو متاثر کرےگا۔ پروگرام کی تکمیل کسانوں کی جماعت کو پرمپراگت کرشی وِکاس یوجنا کے تحت نامیاتی کاشتکاری شروع کرنے کے لئے متاثر کیا جائےگا۔اِس اسکیم کے تحت نامیاتی کاشتکاری کا کام شروع کرنے کے لئے 50 یا اُس سے زیادہ ایسے کسان ایک کلسٹر بنائیںگے،جِن کے پاس 50 ایکڑ زمین ہوگی۔اس طرح تین سالوں کے دوران نامیاتی کاشتکاری کے تحت 10،000 کلسٹر بنائے جائیںگے،جو 5 لاکھ ایکڑ کے علاقے کو کَوَر کریںگے۔ استناد پر خرچ کے لئے کسانوں پر کوئی بھار/ذمہ داری نہیں ہوگی۔ فصلوں کی پیداوار کے لئے،بیج خریدنے اَور پیداوار کو بازار میں پہُنچانے کے لئے ہر کسان کو تین سالوں میں فی ایکڑ 20،000 روپیے دئے جائیںگے۔ روایتی وسائل کا استعمال کرکے نامیاتی کاشتکاری کی حوصلہ افزائی کی جائےگی اَور نامیاتی مصنوعات کو بازار کے ساتھ جوڑا جائےگا۔ یہ کسانوں کو شامل کرکے گھریلو پیداوار اَور نامیاتی مصنوعات کی توثیق کو بڑھائےگا۔ ماخذ : کاشتکاری اَور اِشتراکی محکمہ،حکومت ہند