شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

سکنّیا سمردھی یوجنا

اس حصّے میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤاسکیم کے تحت شروع کی گئی’’سکنّیا سمردھی یوجنا‘‘سے متعلق معلوبات فراہم کی گئی ہے۔

سکنّیا سمردھی یوجنا۔کم بچت، سکنّیا سمردھی یوجنا۔طریقہء کار،سکنّیا سمردھی یوجنا۔اکاؤنٹ کھولنا،سکنّیا سمردھی یوجنا۔شرح سود، سکنّیا سمردھی یوجنا۔جمع پالیسی، سکنّیا سمردھی یوجنا۔ارتھڈنڈ، سکنّیا سمردھی یوجنا۔کھاتا چلانا،سکنّیا سمردھی یوجنا،سکنّیا سمردھی یوجنا۔نکاسی،سکنّیا سمردھی یوجنا۔ٹیکس میں راحت

تعارف

4 دسمبر 2014 میں حکومت نے چھوٹی بچت کو تقویت دینے کے لیے بچیوں کی خصوصی جمع اسکیم ’’سکنّیا سمردھی یوجنا‘‘Sukanya Samridhi Acount کا آغاز کیا ۔ 3 دسمبر 2014 کو سکنّیا سمردھی اکاؤنٹ قواعد۔2014 کو بھارت کے راج پتّر میں شائع کیا گیا تھا۔سکنّیا سمردھی اکاؤنٹ بچی کے والدین یا ولی یا محافظ کے ذریعے بچی کے نام سے اس کی پیدائش کے دس سال کی عمر تک کھولا جا سکتاہے۔

بنیادی نکات

  • اگر کسی بچی نے اس اسکیم کی شروعات ہونے سے ایک سال پیشتر دس برس کی عمرحاصل کر لی تھی وہ بھی اکاؤنٹ کھولنے کی حق دار ہوگی۔
  • جمع کرنے والا بچی کے نام پر صرف ایک ہی اکاؤنٹ چلا سکتا ہے۔ والدین یا محافظ حضرات صرف دو بچیوں کے لیے ہی اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ جڑواں بچوں سے متعلق سند فراہم کرنے پر ہی تیسرا اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
  • یہ اکاؤنٹ ایک ہزار روپے کی شروعاتی جمع رقم سے کھولا جائے گا اور ایک آمدن سال میں اس میں کم ازکم ایک ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے جمع کیے جا سکیں گے۔
  • کھاتے میں رقم کھاتا کھولنے کی تاریخ سے چودہ برس مکمل ہونے تک جمع کی جا سکے گی۔
  • اگر اکاؤنٹ میں کم از کم رقم جمع نہیں کی گئی ہے توبشمول کم سے کم جمع رقم پچاس روپے فی سال کے جرمانے کے ساتھ اکاؤنٹ کو درست کیا جا سکتا ہے۔
  • شرح سود سالانہ یا ماہانہ ہوگی۔
  • اکاؤنٹ بچی کی دس سال کی عمر ہونے تک والدین کے ذریعے چلایا جائے گا۔دس سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد بچی خود اپنا اکاؤنٹ چلا سکے گی۔کھاتا پورے ہندوستان میں کہیں بھی کھلوایا جا سکتا ہے۔
  • کھاتے میں سے پچاس فی صد تک کی جمع رقم نکالنے کی اجازت تب ہی دی جائے گی جب بچی اٹھارہ سال کی ہو جائے گی۔
  • خدا نخواستہ بچی کی موت ہو جانے پر ولی کی طرف سے کھاتا بند کر دیا جائے گا اور پوری رقم مع سود ادا کر دی جائے گی۔
  • کھاتا کھولنے کی تاریخ سے اکیس سال مکمل ہونے پر کھاتا واجب الاداہوگا۔
  • اگر بچی کی شادی اکیس سال مکمل ہونے سے پہلے ہوتی ہے تو شادی کی تاریخ کے بعد کھاتا چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد اکاؤنٹ سلپ کے ذریعے جمع کی گئی رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔

طریقہء کار:

کھاتہ کھولنا

اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے سب سے پہلے کسی بھی بینک یا پوسٹ آفس میں ایک کھاتہ کھولنا ہوگا۔یہ کھاتہ بچی کے والدین یا ولی اس کے دس سال کا ہونے تک کھول سکتے ہیں۔ ایک بچی کے نام پر ایک ہی کھاتہ کھو لا جا سکتا ہے۔اگر کسی کی دو بیٹیاں ہیں تو اسے الگ الگ دو اکاؤنٹ کھلوانے ہوں گے اور اگر کسی کے تین بیٹیاں ہیں تو اسے بھی اس اسکیم کا فائدہ ملے گا۔

عمر

سکنّیا جمع یوجنا کے تحت دس سال سے زیادہ عمر کی بچی کا اکاؤنٹ نہیں کھولا جا سکتا حالانکہ اس سال ایک سال کی رعایت دی گئی ہے۔

شرح سود

اس اسکیم کے تحت کھاتے میں جمع رقم پر ہر سال حکومت ہندوستان کی طرف شرح سود کا اعلان کیا جائیگا۔

کھاتہ منتقل کرنے کی سہولت

یہ کھاتہ کسی بھی شہر میں کھولا جاسکتا ہے اور پھر وہاں سے کسی بھی دوسرے شہر میں آسانی سے منتقل کیا جا سکے گا یعنی پورے ہندوستان میں کہیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جمع رقم

اس کھاتے کو کم از کم 1000 روپے کی رقم یا اس کے 100 روپے کے مضروب سے کھولا جا سکتا ہے۔ ایک آمدن سال میں کم از کم 1000روپے اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک جمع کیے جا سکے گے۔یہ رقم کھاتہ کھولنے سے لے کر 14 برس مکمل ہونے تک جمع رہے گی۔

کھاتہ چلانا

سکنّیا جمع یوجنا کے کھاتے کی دیکھ ریکھ بچی کے ولی کے ذریعے تب تک کی جائے گی جب تک کہ بچی کی عمر 10 سال کی نہ ہو جائے۔10 برس کی ہونے کے بعدوہ بچی اپنے اکاؤنٹ کی دیکھ بھال خود کر سکتی ہے۔

نکاسی

جب لڑکی 18 سال کی ہو جائے گی تب اسے جمع رقم کا 50 فی صد اعلیٰ تعلیم کے لیے دیا جائے گا۔

ٹیکس میں راحت

سکنّیا سمردھی یوجنا کے تحت کھلنے والے کھاتوں کو ٹیکس سے چھوٹ ملے گی۔ اس اسکیم کے تحت کھلنے والے کھاتوں کو انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 80۔جی کے تحت چھوٹ دی جائے گی۔

اسکیم سے متعلق تازہ ترین معلومات

پی پی ایف سے زیادہ سود

سکنّیا سمردھی کھاتہ دس سال تک کی لڑکیوں کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ بیٹی کی عمر اٹھارہ سال ہونے پر اس میں سے 50 فی صد ی رقم تعلیمی خرچ کے لیے نکالنے کی اجازت ہے۔ 21 برس کی عمر کے بعد اس میں سے پوری رقم نکال سکتے ہیں۔حکومت اس پر 10. ۹ فی صدی سود دے رہی ہے۔سکنّیا کھاتہ میں سالانہ ایک ہزار روپے کی سرمایہ کاری ضروری ہے اور زیادہ سے زیادہ 50.1 لاکھ روپے جمع کر سکتے ہیں۔

سکنّیا کھاتہ میں سرمایہ کاری کی رقم پر ہی پہلے ٹیکس چھوٹ تھی لیکن اس بجٹ میں اس کے سود اور واجب الادا ہونے پر ملنے والی رقم پر بھی چھوٹ دی گئی ہے۔لیکن سود کے معاملے میں سکنّیا کھاتہ پی پی ایف سے زیادہ دلکش ہے۔پی پی ایف پر 75.8 فی صدیسود مل رہا ہے جب کہ سکنّیا کھاتہ پر 35.0فی صد سود زیادہ ہے۔

منبع۔ای گزٹ آف انڈیا،حکومت ہندوستان

2.81818181818
محمد عبد اللہ Jan 20, 2019 07:52 AM

کیا شرعی اعتبار سے یہ جائز ہے ؟

اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Related Languages
Back to top