অসমীয়া   বাংলা   बोड़ो   डोगरी   ગુજરાતી   ಕನ್ನಡ   كأشُر   कोंकणी   संथाली   মনিপুরি   नेपाली   ଓରିୟା   ਪੰਜਾਬੀ   संस्कृत   தமிழ்  తెలుగు   ردو

پیشاب کی نالی میں انفیکشن

گردے پیشاب کی نالی اور مثانہ ان سب کی مجمیی شکل سے پیشاب کی نالی تیار ہوتی ہے جس میں بیکٹیریا اور جراثیم کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن کو یورینری ٹریکٹ انفیکشن کہ جاتا ہے

پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی کیا نشانی ہوتی ہے ؟

پیشاب کی نالی کے الگ الگ حصّے میں انفیکشن کے اثر ہونے کی نشانی مختلف ہوتی ہے یہ نشانی انفیکشن کی کیفیت کے مطابق کم یا زیادہ مقدار میں دکھائی دے سکتی ہے

زیادہ تر مریضوں میں پآیی جانے والی نشانی

  • پیشاب کرتے وقت جلن اور درد ہونا
  • بار بار پیشاب لگنا اور قطرے قطرے ہوکر پیشاب کا نکلنا
  • بخار آنا

مثانے میں انفیکشن کی نشانی

  • پیٹ کے ذیل حصّے میں درد ہونا
  • لال رنگ کا پیشاب آنا
  • گردے کے انفیکشن کی نشانی
  • ٹھنڈ کے ساتھ بخار کا آنا
  • کمر میں درد ہونا اور کمزوری کا احساس ہونا
  • اگر مناسب علاج نہ کرایا جایا تو اس انفیکشن سے موت بھی واقعی ہو سکتی ہے

بار بار پیشاب کے راستے میں انفیکشن ہونے کی کیا وجہ ہے ؟

بار بار پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہونا اور مفید اور بہتر علاج کے بعد بھی انفیکشن کے کنٹرول میں نہ آنے کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں

  • عورتوں میں پیشاب کنالی چھوٹی ہونے کیوجہ سے مسنے میں انفیکشن جلدی ہو سکتا ہے
  • ڈائبٹیز میں خون اور پیشاب میں گلوکوز کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے
  • زیادہ عمر کے بہت سے مردوں میں پروسٹیٹ غدود بڑھ جانے کی وجہ سے اور زیادہ عمر کی بہت سے عورتوں
  • کے پیشاب کی نالی سکڈ جانے کی وجہ سے پیشاب کرنے میں تکلیف ہوتی ہے اور مثانہ مکمل طرح سے خالی نہیں ہو پا تا ہے پیشاب کی نالی پتھری کی بیماری
  • پیشاب کی نالی رکاوٹ : مثانہ سکڈ گیا ہو اور گردوں اور پیشاب کی نالی کا درمیانی حصّہ سکد گیا ہو
  • دیگر وجوہات مثانہ مکمل طور پر کام نہ کر رہا ہو بلکہ اس میں کچھ خامی ہو پیشاب کے راستے میں پیدایشی خرابی جس کی وجہ سے پیشاب مثانے سے نالی میں الٹا جایے

کیا پیشاب کی نالی میں بار بار انفیکشن سے گردے کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ؟

عموما طفولت کے بعد پیشاب کے راستے میں انفیکشن بار بار ہونے پر بھی گردے کو نقصان نہیں ہوتا ہے لیکن پیشاب کے راستے میں پتھری رکاوٹ اور ٹی .بی. جیسی بیماری پآیی جاتی ہو تو پیشاب کے انفیکشن سے گردے کو نقصان ہونے اندیشہ رہتا ہے

بچوں میں پیشاب کی نالی کا علاج اگر مناسب وقت پر نہیں کرایا جایے تو گردے پھر سے ٹھیک نہ ہو سکے اس قسم کا نقصان ہو سکتا ہے اس لیے پیشاب کے راستے میں انفیکشن کی پریشانی دیگر لوگوں کے مقابل بچوں میں زیادہ خطرناک ہوتی ہے

پیشاب کے راستے میں انفیکشن کی تشیخیص

پیشاب کی عمومی جانج

پیشاب کی میکرواسکوپ کے ذریعہ ہونے والی جانج میں مواد کا ہونا پیشاب کے راستے میں انفیکشن کے ہونے پر دلالت کرتا ہے

پیشاب کی کیفیت اور ماہیت یعنی سنسٹیویٹی کی جانج انفیکشن کیلئے ذمدار جراثیم کی نوعیت اور اس کے علاج کیلئے موثر دوا کی پوری معلومات ملتی ہے

اور دوسری جانج

خون کی جانج میں خون میں موجود وائٹ بلڈ سیل کی زیادہ مقدار انفیکشن کی شدت پر دلالت کرتی ہے

پیشاب کی نالی کا انفیکشن بار بار ہونے کی وجہ سے تشیخیس کس طرح کی جاتی ہے ؟

پیشاب میں بار بار مواد ہونے کے اور انفیکشن کے علاج کارگر نہ ہونے کی وجہ سے معلوم کرنے کیلئے مندرجہ ذیل جانج بروے کرلیی جاتی ہے

  • پیٹ کا اکسر اور التراسونڈ
  • انترونس پیلوگرافی
  • مکچیوریتنگ سیستھویوریتھروگرام
  • پیشاب میں تی بی کے جراثیم کی جانج
  • بذریعہ یورولوجسٹ مخصوص قسم کی خوردبین سے پیشاب کی نالی اور مثانے کے اندر کے حصّے کی جانج
  • عورتوں کے سلسلے میں ماہرین طبیب کے ذریعہ جانج اور تشخص

پیشاب کے راستے کے انفیکشن کے علاج

پانی وافر مقدار میں پینا

پیشاب کے انفیکشن کے مریضوں کو وافر مقدار میں پانی پینے کا خاص طور پر مشورہ دیا جاتا ہے

گردے میں انفیکشن کی وجہ سے کچھ مریضوں کو بہت زیادہ الٹیاں ہوتی ہیں انھیں ہسپتال میں داخل کرکے گلوکوز کی بوتل چڑھانے کی ضرورت بھی پڑتی ہے

بذریعہ دوا علاج

مثانے میں انفیکشن والی مریضوں کو عام طور پر کروترایمیکسوجول ریفولوسپورین اور کوینولونس گروپ کی دوا کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے یہ دوائیاں باضابطہ رات دن کیلئے دی جاتی ہے عام طور پر ریفولوسپورین اور کوینولونس آیمنوم لائیکسیڈس گروپ کی دوا انجکشن میں استعمال کیے جاتے ہیں پیشاب کی کیفیت کی رپورٹ کی مدد سے زیادہ موثر دوائیاں اور انجکشنوں کا انتقاب کیا جاتا ہے علاج کے بعد کی جانا والی پیشاب کی جانج سے علاج سے کتنا فائدہ ہوا ہے اس کا علم ہوتا ہے دوائیاںمکمل ہونے کے بعد پیشاب میں مواد نہ ہونا انفیکشن پر کنٹرول کرنے کی طرف مشیر ہے

پیشاب کے انفیکشن کے اسباب کا علاج

ضروری جنچوں کی مدد سے پیشاب کی نالی میں موجود کون سے پرشانی کی بنا پر بار بار انفیکشن ہورہا ہے یا علاج کا فائدہ نہیں ہورہا ہے اس کاپتہ لگایا جتا ہے اس تشخیص کو دھیان میں رکھتے ہوۓ دوا میں ضروری تبدیلی اور کچھ مریضوں میں آپریشن کیا جاتا ہے

پیشاب کنالی میں تی بی

  • یہ بیماری عام طور پر ٢٥ سے ٤٠ سال کے عمر کے دوران اور عورتوں کی بنسبت مردوں میں زیادہ پایی جاتی ہے
  • ٢٠ سے ٣٠ فیصد مریضوں میں اس مرض کے کوئی اثر نظر نہیں اتے ہیں لیکن دوسری پرابلم کی جانج کے دوران بلواسط اس بیماری کا پتہ لگ جاتا ہے
  • پیشاب میں جلن ہونا بار بار پیشاب کا ہونا اور عام فہم علاج سے فائدہ نہ ملنا
  • پیشاب لال ہونا صرف ١٠ سے ٢٠ فیصد مریضوں کو شام کو بخار آنا تھکاوٹ محسوس ہونا وژن کم ہونا بھوک کا احساس نہ
  • ہونا وغیرہ تی . بی کے اثر دکھائی دتیے ہیں
  • پیشاب کنالی میں تی.بی کے شدید اثر کی وجہ سے بہت زیادہ انفیکشن ہونا پتھری ہونا خون کا دباؤ بڑھنا اور پیشاب کی نالی میں رکاوٹ انے سے گردے پھلنے کی وجہ سے گردے خراب ہونا جیسی پرشانیوں کا بھی خطرہ ہے

پیشاب کنالی میں تی. بی کی تشخیص

یہ سب سے اہم جانج سمھجی جاتی ہے پیشاب میں مواد اور خون دونوں کا دکھائی دینا اور پیشاب تیزاب کا ہونا

  • مخصوص قسم کی بہترین جانج کرانے پر پیشاب میں تی بی کے جراثیم نظر اتے ہیں
  • پیشاب کی کیفیت کی جانج میں کسی طرح کے جراثیم کا نظر نہ آنا
  • التراسونڈ ابتدا میں اس میں کچھ پتہ نہیں چلتا ہے کیی بار تی بی کے زیادہ گہرے اثر سے گردے پھولی اور سکڈی

آیی . وی . پی بہت ہی مفید اس جانج میں تی بی کی وجہ سے پیشاب کی نالی سکدی ہوئی ہو گردے کے دائرے میں ہوئی تبدیلی پھولی ہوئی ہو یہ سکدی ہوئی ہو اور

مثانے کا سکڈ جانا جیسی تکلیفیں دیکھیں جاتی ہیں

دیگر جانج کیی مریضوں میں پیشاب کی نالی اور مثانے کی خردبین سے جانج اور بایوپسی سے کافی مدد ملتی ہے

پیشاب کی نالی کی تی بی کا علاج

دوائیاں پیشاب کی نالی میں تی. بی پھیپھڑے کی تی بی میں استعمال کی جانے والی دوائیاں ہی دی جاتی ہیں عموما شروع کے دو مہینے میں چار طرح کی دوائیاں اور اس کے تین طرح کی دوائیاں دی جاتی ہیں

دیگر علاج پیشاب کی نالی میں ڈی .بی کی وجہ سے اگر پیشاب کی نالی میں کسی طرح کی رکاوٹ ہو تو اس کا علاج دوربین اور آپریشن کا ذریعہ کیا جاتا ہے کسی مریض میں اگر گردے مکمل طریقے سے خراب ہوگیا ہو تو ایسی گردے کو آپریشن کے ذریعہ نکال دیا جاتا ہے



© 2006–2019 C–DAC.All content appearing on the vikaspedia portal is through collaborative effort of vikaspedia and its partners.We encourage you to use and share the content in a respectful and fair manner. Please leave all source links intact and adhere to applicable copyright and intellectual property guidelines and laws.
English to Hindi Transliterate