অসমীয়া   বাংলা   बोड़ो   डोगरी   ગુજરાતી   ಕನ್ನಡ   كأشُر   कोंकणी   संथाली   মনিপুরি   नेपाली   ଓରିୟା   ਪੰਜਾਬੀ   संस्कृत   தமிழ்  తెలుగు   ردو

کرانک ( گردوں کی دائمی بیماری ) علامات اور تشخیص

کرانک گردے فیلر میں دونوں گردوں کو خراب ہونے میں مہینوں سے سالوں تک کا وقت لگ سکتا ہے . شروعات میں دونوں کی قوت عمل میں زیادہ کمی نہ آنےکی وجہ سے کوئی آ شار دکھایی نہیں دتے ہیں ، لیکن جیسے جیسےگردے زیادہ خراب ہونے کگتے ہیں . ویسے ویسے مریض کی تکلیف بڑھتی رہتی ہے بیماری کی علامتوں کی تفصیل گردے کے فنکشن کو دھیان میں رکھتے ہوۓ . تین الگ الگ حالتوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں ابتدایی درمیانی انتہایی

ابتدایی دور میں دکھایی دینے والے اثار

کرانک گردے فیلرکی ابتدا میں جب گردے کی قوت عمل میں ٣٥ ثے٥٠ فیصد کی کمی آجاتی ہے اس وقت تک مریضوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہے

ارضی جانج

ان حالات میں کئی بیماریاں کے جانج کے دوران زیز میڈیکل چیک اپ کےدوران اکثر مریضوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے . اس وقت خون میں کراتیں اور یوریا کی جانج صرف تھودا سا فرق دکتا ہے چہرہ پرسوجن جو صرف صبح کے وقت نظر اتا ہے اس بیماری کی ابتدایی علامتیں ہیں

ہائی بلڈ پریشر

اگر کسی تیس سال سے کم عمر شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہوگیا ہے اور تشخیص کے وقت خون کا دباؤ بہت ہی زیادہ جیسے ١١٠/٢٢٠ ہو اور دواؤں کے استعمال کے باوجود بے چین رہتا ہے تو اس کی اصل وجہ کرانک گردے فیلر ہوسکتا ہے

درمیانی حالات میں نظر انے والے آثار

جب گردے کے عمل میں ٦٥سے ٨٠ فیصد کی کمی آجاتی ہے تب خون میں کراتیں اور یوریا کی مقدار میں بھی تھوڑا فرق نظر اتا ہے ان حالات میں بھی کئی مریضوں میں کسی طرح کے کوئی آثار دکھایی نہیں دتے ہیں جب کہ زیادہ تر مریضوں میں کمزوری خون کی کمی سوجن ہائی بلڈ پریشر رات کے وقت پیشاب کی مقدار میں تھوڑا فرق وغیرہ جیسی علامتیں دکھائی دیتی ہیں

آخری حالات میں نظر انے والی علامت

گردے کی قوت عمل میں جب ٨٠ فیصد کمی آجایے تب گردے فیلر آثار میں اضافہ ہونے لگتا ہے

پھر بھی کئی مریضوں میں دوا کے استعمال سے طبیعت مطمین رہتی ہےجب گردے کی قوت عمل ٨٥ سے ٩٠ فیصد تک کی کمی آجایے تب اسے گردوں کی انتہایی کہتے ہیں گردے فیلرے کی ایسی حالت میں دوا لینےکے باوجود بھی مریض کی تکلیف کو کنٹرول میں نہیں کیا جاسکتا ہے ایسے موقع پر ڈائلسیز اور تبدیلی گردہ کی شدید ضرورت پڑتی ہے گردے کے زیادہ خراب ہوجانے پر بدن میں خون کی صفائی کے سلسلے میں پانی تیزاب اور بنیادی توازن کو بنانے میں واضح طور پر کمی دکھائی دیتی ہے ساور مریضوں میں ہونے والی تکلپف بڑھنے لگتی ہے

اور گردے فیلر کی اصل پہچان

ہر مریض میں گردے خراب ہونے کی علامت مقتلف اور خطرہ کی کیفیت الگ الگ ہوتی ہے اس بیماری میں پا ے جانی والی علامتیں منددرجہ ذیل ہیں

  • کھانے میں رخبتی ، الٹی ، جی متلانا
  • کمزوری محسوس ہونا ، وژن کم ہونا
  • تھوڑاکام کرنے پر تھکاوٹ محسوس ہونا سانس پھولنا
  • خون میں پکھا پن یہ نمونیا کا ہونا
  • خون میں بننے والا ئیریتھرپتیں نام جیسے ہارمونز کی کمی انے سے کی وجہ سے بدن میں خون کم بنتا ہے
  • بدن میں کجلی ہونا
  • کھانے میں رخبتی کمزوری اور جمتلانا گردے فیلر ڈیزیز کے اکثر مریضوں میں پایی جاتی ہیں
  • یادواشت میں کمی ہونا چکر آنا کسی چیز پر توجہ نہ کرپانا
  • دوا لینے کےبعد بھی ہائی بلڈ پریشر پر کنٹرول نہ ہونا
  • مردوں می جنسی خویش میں کمی آنا اسی طرح عضوخاض کا کھڑا نہ ہونا عورتوں میں ماہواری میں رکاوٹ آنا
  • گردے میں وٹامن ڈی کا کم بننا جس سے بچوں کا قد نہیں بڑھتا ہے اور بڑا لوگوں کی ہڈیوں میں درد رہتا ہے

اینڈا اسٹیج گردے فیلر کی خطرناک نشانی

گردے فیلر کی وجہ سے ہونے والی تکلیفوں کے بڑھیں پر بھی اگر بیماری صحیح اور موثر علاج نہ کریا گیا تو مندرجہ ذیل جان لیوا تکلیفیں ہوسکتی ہیں

  • سانس کا بہت زیادہ پھولنا
  • خون کون کی الٹی ہونا
  • مریض کو سکون محسوس نہ ہونا بدن کا اینٹھنا بے ہوس ہونا
  • خون میں پوتسیم کی مقدار بڑھنے پر دل پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے ، جس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ رہتا ہے

تشخیص

کسی بھی مریض کی تکلیف کو دیکھ کر یا مریض کی جانج کے دوران گردے فیلر ہونے کا خطرہ ہو تو مندرجہ ذیل جانج کے ذریے بیماری کی تشخیص کی جاسکتی

خون میں ہیوموگلوبیں کی مقدار .1

یہ مقدار کرانک گردے فیلر کے مریضوں میں ہوتی ہے

پیشاب کی جانج .2

اگر پیشاب میں پروٹین جاتا ہے تو یہ کرانک گردے فیلر کی ابتدائی اورخطرناک علامت ہوسکتی ہے یہ بھی درست ہے کہ پیشاب میں پروٹین کا جانا گردے فیلر کے علاوہ مقتلف اسباب سے بھی جاتا ہے اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ پیشاب میں پروٹین کا جانا کرانک گردے فیلر کا معمولا ہے پیشاب کے انفیکشن کی تشخیص بھی جانج کے واسطے سے ہوسکتی ہے

خون میں کراتیں اور یوریا کی جانج .3

کرانک گردے فیلر کی جانج اور علاج کو موثر بنانے کے لیے سب سے اہم جانج خیال کیا جاتا ہے گردے کے زیادہ خراب ہونے کے ساتھ ساتھ خون میں کراتیں اور یوریا کی مقدار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے گردے فیلر کے مریضوں میں متینہ مدد میں جانج کرتے رہنے سے یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ گردے کتنے خراب ہوا ہیں اور علاج کرنے سے کس حد تک افاقہ ہوا ہے

گردے کا التراسونڈ .4

گردے کے ڈوکٹروں کی تیسری آنکھہ کہی جانا والی یہ جانج کہ گردے کس وجہ سے خراب ہوا ہے اس کے لیے بے حد اہمیت کے حامل ہے - عام طور پر گردے فیلر کے مریضوں میں گردے کا سائز چٹا اور سکڈ جاتا ہے - اکیوت گردے فیلر زیباٹیز جیسی بیماریوں کی وج سے گردے جب خراب ہوتا ہے تب گردے کے دائرے میں انفیکشن دکھےداتا ہے ، پتھری ، مثانے ،میں رکاوٹ اور پولسسٹک گردے ڈیزیز جیسے گردے فیلر کی وجہ کا الٹراساؤنڈ سے پتہ لگایا جاسکتا ہے

خون اور دیگر جانج .5

کرانک گردے فیلر کے مریضوں میں دیگر تشخییضوں میں سرم ایکتروولیٹس کلشیم فاسفورس پروٹین بائیکروبیٹ، وغیرہ ہیں گردے کے کام نہیں کرنے سے ہونے والی دوسری پرابلم کے بارے میں معلومات خون کی اس تشخیص سے مل سکتی ہے



© 2006–2019 C–DAC.All content appearing on the vikaspedia portal is through collaborative effort of vikaspedia and its partners.We encourage you to use and share the content in a respectful and fair manner. Please leave all source links intact and adhere to applicable copyright and intellectual property guidelines and laws.
English to Hindi Transliterate