অসমীয়া   বাংলা   बोड़ो   डोगरी   ગુજરાતી   ಕನ್ನಡ   كأشُر   कोंकणी   संथाली   মনিপুরি   नेपाली   ଓରିୟା   ਪੰਜਾਬੀ   संस्कृत   தமிழ்  తెలుగు   ردو

کم قیمت کا ادرک ذخیرہ کا اسٹرکچر

شمال مشرقی ہندوستان میں ادرک کے اسٹوریج کی ضرورت

ادرک شمال مشرقی ہندوستان کے علاقہ میں اپریل مئی کے دوران بوئی جاتی ہے فصل 8تا9 ماہ میں یک جاتی ہے اور دسمبر، جنوری کے دوران کٹائی کی جاتی ہے ۔ اس وقت کسانوں کو خاطرخواہ قیمت نہیں ملتی۔ کسان ادرک اور اسکے افزائشی مٹیرئیل کو محفوظ ذخیرہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگلی کاشت تک اسٹوریج ضروری ہوتا ہے۔ روایتی طریقہ میں کسان ادرک کے پنجہ کھود کر نہیں نکالتے بلکہ انہیں کھیت ہی میں رہنے دیتے ہیں۔ یہ بہتر طریقہ نہیں ہے دوسرا طریقہ جو کسان اختیار کرتے ہیں اسکے مطابق وہ کھیت میں گڑھا کھودتےہیں اور رائزومس (ادرک ) کا اسمیں ذخیرہ کرتے ہیں۔ اسمیں بھی سڑنے گلنے اور تازہ کونپلنے نکلنے کے سبب 30تا40 فیصد تک نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے ذخیرہ/اسٹوریج کے مسئلہ کو حل کرنے کی غرض سے کلے (ملتانی مٹی) بامبواور دیگر مقامی دستیاب خام مال کی مدد سے کم قیمت کا اسٹوریج اسٹرکچر بنایا جاتا ہے۔

ادرک کے اسٹوریج کا اسٹرکچر

بامبو اور کلے پر مبنی دیوار سے بنے ادرک کے اسٹوریج کے اسٹرکچر کے تصوری ڈھانچہ کو تصویر میں بتایا گیا ہے(اونچائی) 2mx2mx1.4m کے دوچیمبرس پر یہ اسٹرکچر مبنی ہوتا ہے۔ اس اسٹرکچر کی دیواریں، بامبو، کیچڑ کلے اور گوبر سے بنائی جاتی ہیں۔ دیوار کی موٹائی 20 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ یہ دوہری دیوار ہوتی ہے جو بامبو اور جی آئی وائر کے فریم سے بنتی ہے۔ دیوار کے خلاء میں 4تا5 مرحلوں میں کلے اور گوبر بھرا جاتا ہے دیواروں کے باہری حصہ پر کلے اور گوبر سے پلاسٹر کیا جاتا ہے۔ سوکھنے کے بعد یہ اسٹرکچر ادرک کے اسٹوریج کیلے تیار ہوتا ہے۔

ginger_storage_1 ginger_storage_2

اس چیمبرمیں ادرک، سوکھی ریت اور ادرک کے تنوں کو متبادل تہوں کی شکل میں اسٹور کیا جاتا ہے جسمیں موٹائی کا تناسب 2.5:10 سینٹی میٹر رکھاجاتا ہے۔ ریت کی نچلی اور اوپری تہہ 8 سینٹی میٹر موٹی رکھی جاتی ہے چیمبر کا اوپری حصہ پالی تھین سے ڈھک دیا جاتا ہے اور کناروں کو بامبو کے کھونٹیوں کے ذریعہ زیادہ پریشر سے سیل کیا جاتا ہے۔

اس اسٹرکچر کے استعمال کے فوائد

اسطرح کے اسٹرکچر میں ادرک کو 5 ماہ تک رکھا جاتا ہے یہ مشاہدہ کیا گیا (a) وزن اور نمی میں کوئی کمی نہیں ہوئی (b) کونپلیں نہیں نکلی (c) سڑنے اور گلنے کے سبب کوئی نقصان نہیں ہوا(d) ادرک کے تنوں کی کوالیٹی برقرار رہی۔ اگلی بوائی تک ادرک کے تنوں کو محفوظ رکھنے کیلے اسٹرکچر کافی پرفیکٹ ثابت ہوا۔ اسطرح کے اسٹوریج کی گنجائش تقریباً 4 ٹن ادرک کے تنوں کی ہے اسٹرکچر کی یونٹ کیاپیسٹی 350 تا 400کلو گرام فی مرکب میٹر جگہ ناپی گئی۔ مزید معلومات کیلئے ربط کیجیے۔

سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لدھیانہ 14004(pb)

فون: 91-161-2308669

ای میل:   Ciphet@sif.com
ویب سائٹ :  http://www.ciphet.in
مآخذ: CIPHET نیوز لیٹر

متعلقہ ذرائع

1۔ اننویٹو جوٹ ریٹنگ
2۔ منی رائیس مل



© 2006–2019 C–DAC.All content appearing on the vikaspedia portal is through collaborative effort of vikaspedia and its partners.We encourage you to use and share the content in a respectful and fair manner. Please leave all source links intact and adhere to applicable copyright and intellectual property guidelines and laws.
English to Hindi Transliterate