ہوم / سماجی بہبود / سماجی تحفظ / قانونی اعانت
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

قانونی اعانت

یہ پیج معاشرے کے پسماندہ طبقے کو مفت قانونی اعانت و حعاونت فراہم کروانے سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

آئینِ ہندوستان کی دفعہ 39 اے کے مطابق یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایک ایسا نظام عدلیہ قائم کریں گی جس میں سبھی کے لیے برابر مواقع ہونگے اور بطور خاص مفت قانونی اعانت کے ذریعے توضیح آئین یا کسی اسکیم یا کسی اور طریقے سے یعنی وہ اس بات کو یقینی بنالے کہ مالی یا کسی اور طرح کی کمی کی وجہ سے کوئی شہری انصاف سے محروم نہ رہ جائے۔ دفعہ 14 اور 22 (1) کے مطابق بھی یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مساوات کو یقینی بنا لئے اس سے پیشتر کہ قانون اور نظام عدلیہ کے ذریعے عدل و انصاف کو فروغ دیتے ہوئے سب کے لیے برابر موقعے پیدا کرلے۔ قانونی اعانت سے یہ کوشِش کی جائے گی کہ قانونی کفالت کو یقینی بنایا جائے تاکہ معاشرے کے غریب ، پسماندہ اور کمزور طبقے کے لوگوں کو حق و انصاف دلایا جا سکے۔

مجازِ آئینی خدمات: نیشنل لیگل سروسز آتھاریٹی (NALSA ) نلسا

لیگل سروسز آتھاریٹی ایکٹ 1987 کے تحت نیشنل لیگل سروسز آتھاریٹی (نلسا) کی تشکیل عمل میں لائی گئی تاکہ سماج کے کمزور اور پسماندہ طبقے کو مفت قانونی خدمات مہیا کروائی جائیں اور ساتھ ہی لوگ عدالتوں کا انعقاد کرکے جھگڑوں اور مقدمات کا حل آپسی رضامندی کے ذریعے حل کرے۔

مجازِ قومی آئینی خدمات کا قائم مقام دہلی ہے۔ ہندوستان کے ہر صوبے میں مجازِ صوبائی آئینی خدمات کی تشکیل و تعمیر کی گئی ہے تاکہ نلسا کے منصوبوں اور ڈائریکشنز کو عمل میں لاتے ہوئے عام لوگوں کو مفٹ قانونی سہولیات مہیا کروائی جا سکیں اور صوبے میں لوگ عدالتوں کا بھی انعقاد کیا جا سکے۔ مجازِ صوبائی آئینی خدمات کی صدارت وہاں کی ہائیکورٹ کے عزت مآب منصفِ اعلیٰ( چیف جسٹس) کریں گے اور وہی اس مجازِ صوبائی آئینی خدمات کے چیف پیٹرن (مشیر اعلیٰ) بھی ہونگے۔

اس کے علاوہ ہر ضلعے میں ڈسڑک لیگل آتھارئیٹی قائم کی جائے گی تاکہ ہر ضلعے کے آئینی خدمات پروگرام کو نافذالعمل کیا جائے۔ ڈسٹرک لیگل سروسز آتھارئیٹی ہر ضلعے کے ڈسٹرک کورٹ کمپلیکس میں قائم ہوگی اور اس کر صدارت اُسی عدالت کے ڈسڑک جج صاحب فرمائیں گے۔

نیشنل لیگل سروسز اتھاریٹی؍اسٹیٹ اتھاریٹی ؍دسڑک اتھاریٹی کی طرف سے مفت قانونی خدمات:

  • کورٹ فیس کی ادائیگی ، اجرائے کار کی فیس اور تمام طرح کے دوسرے اخراجاتجوقانونی چارہ جوئی یا کاروائی سے متعلق ادائیگی کے لایق ہوں:
  • قانونی چارہ جوئی کے لیے وکیل مہیا کروانا۔
  • قانونی چارہ جوئی یا کاروائی سے متعلق تمام طرح کے حکم ناموں اور دوسری اسنادکے لین دین پر کیا جانے والا خرچہ۔
  • اپیل یا چارہ جوئی کی تیاری، پیپر بُک مع چھپائی اور ترجمہ وغیرہ کے کاغذات کاخرچہ جو اس تمام چارہ جوئی پر ہوا۔

مفت قانونی خدمات حاصل کرنے والے اُمیدوار اشخاص:

  • عورتیں اور بچے
  • پسماندہ طبقوں اور ذاتوں کے لوگ Members of SC/ST
  • کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگ۔
  • کسی بڑے حادثے، لڑائی جھگڑے یا تشدد، سیلاب، قحط ، زلزلے اور کارخانوں کے متاثرہ اور مظلوم لوگ۔

لوک عدالت

لوک عدالت ایک اجلاس یا عدالت ہے جہاں پر جھگڑوں اور قانونی عدالتوں کے زیر التوا مقدموں یا پھر قانونی چارہ جوئی سے بیشتر جھگڑوں اور مسلوں کو باہمی رضامندی یا صلح صفائی سے حل کیا جاتا ہے لوک عدالت کو لیگل سروسز اتھاریٹی ایکٹ 1987 کے تحت لوک عدالت کی طرف سے کیا گیا فیصلہ سول کورٹ کی طرح مستند اور حتمی مانا جائے گا جس کو دونوں فریقین کو ماننا ہوگا۔ بعد میں اس فیصلے کے خلاف کسی بھی عدالت میں، کہیں بھی کوئی اپیل نہیں کی جاسکے گی۔

لوک عدالت میں پیش کیے جانے والے مقدموں کی نوعیت یا شرِشت:

  • کوئی بھی مقدمہ ، جو کسی بھی عدالت میں زیر تجویز یا زیر التوا پڑا ہو۔
  • کوئی بھی جھگڑا ، جو ابھی کسی عدالت میں زیر تجویز نہ ہو یعنی جو ابھی کسی عدالت میں داخل نہ کیا گیا ہو۔

* بشرط یہ کہ کوئی ایسا مسئلہ یا جرم جس کی آپسی رضامندی یا باہمی فیصلے کےتحت لوک عدالت میں شنوائی نہیں ہو سکتی۔

لوک عدالت میں شنوائی کے لیے مقدمہ کیسے دائر کریں:
1۔ عدالتوں میں زیر تجویز مقدمات:

  1. اگر دونوں فریقین اپنے جھگڑے کو لوک عدالت میں حل کرنے کے لیے باہمی طورپر رضامند ہوں۔
  2. دونوں فریقین میں سے اگر کوئی ایک عرضی داخل کرتا ہے۔
  3. اگر عدالت اس بات پر مطمئن ہے کہ اس مسلے یا مقدمے کو لوک عدالت میں حل کیا جا سکتا ہے۔

2۔ قانونی کاروائی سے پیشتر کوئی بھی جھگڑا:
مجاز صوبائی قانونی خدمات یا مجاز ضلعی قانونی خدمات کو کسی بھی شخص یا تنظیم کی طرف سے عرضی دئیے جانے پر قانونی کاروائی سے پیشتر اس مسئلے کو لوک عدالت میں باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ لیگل سروسز اتھاریٹی کی ویب سائیٹز:

  1. انڈیمان اور نکو بار
  2. آندھرا پردیش
  3. اروناچل پردیش
  4. آسام
  5. بہار
  6. چنڈی گڈھ
  7. چھتیس گڑھ
  8. دادر اور ناگر حویلی
  9. دمن اور دیو
  10. دہلی
  11. گوا
  12. گجرات
  13. ہریانہ
  14. ہماچل پردیش
  15. جموں کشمیر
  16. جھار کھنڈ
  17. کرناٹک
  18. کیرلہ
  19. لکشدیپ
  20. مدھیہ پردیش
  21. مہاراشٹر
  22. منی پور
  23. میگھالیہ
  24. میزورم
  25. ناگالینڈ
  26. اُڈیسہ
  27. پانڈی چیری
  28. پنجاب
  29. راجستھان
  30. سِکم
  31. تامل ناڈو
  32. تری پورہ
  33. اترپردیش
  34. اترانچل
  35. مغربی بنگال

مجازِ صوبائی آئینی خدمات کی تفصیل برائے رابط

مخرج : مجاز قومی آئینی خدمات

2.6
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top