ہوم / سماجی بہبود / دیہی غریبی بیخ کنی / پرادھان منتری کھَنِج شیکتر کلیان یوجنا
شیئر

پرادھان منتری کھَنِج شیکتر کلیان یوجنا

اِس حصے میں معدنیاتی علاقے میں شروع کی گئی معدنیاتی علاقہ کی فلاح و بہبود اسکیم کی معلومات دی گئی ہے ۔

پس منظر

ہندوستان میں کھیتی کے بعد سب سے زیادہ روزگار کان کنی کے علاقوں میں میسّر ہیں ۔ ہندوستان کے زیادہ تر معدنیات جنگلی علاقے میں واقع ہیں ، جہاں قبائلی ، پَسماندہ اَور غَیر مُتبَرّک آبادی رہتی ہے ۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اَگر اِس علاقے کو اہمیت دی جاۓ تو بےروزگاری کے مسئلہ سے بَڑی حد تَک نِپٹا جا سکتا ہے اَور شمولیتی ترقی کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ دیگر قابل ذکر اصلاحوں سَمیت کان کنی علاقے کو دھیان میں رکھتے ہوئے نَئے قانون میں دو مدعوں پر گفتگو کی گئی ہے -
شفافیت اَور ریسرچ پر زیادہ زور دیتے ہوئے کان کنی صنعت میں نَئی جان پھُونکنا متاثر لوگوں کے لئے مثبت کان کنی ماحول تیار کرنے کے تعلق میں خوشحالی کا فائدہ اُن تَک پہُنچانا ۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار اِس تعلق میں کان کنی سرگرمیوں سے متاثر لوگوں اور  مقامات کے ساماجی اَور اقتصادی فرازی کے لئے الگ سے فنڈ کو مختص کیا گیا ہے ۔ ایم ایم ڈی آر ترمیم قانون 2015 کے تحت ریاستی سرکاروں کو ضلع معدنیات فاؤنڈیشن ( ڈی ایم ایف ) کی ساخت کا قبضہ مِلتا ہے ۔ اِس کے تحت ریاستی سرکاریں ضلع معدنیات فاؤنڈیشن کے لئے اصول بنا سکتی ہیں ۔

اسکیم

ستمبر 2015 میں کان کی وزرات نے ڈی ایم ایف کے فنڈ کے استعمال کے لئے ہدایات جاری کی تھیں ۔ اِس اسکیم کو پرادھان منتریکھَنِج شیکتر کلیان یوجنا کہا جاتا ہے اَور یہ تمام ریاستی سرکاروں پر لاگو ہوتی ہے ۔ ترقی ، ساماجِی اَور اقتصادی حالت اَور طویل مدتی امکان کو دھیان میں رکھتے ہوئے پرادھان منتریکھَنِج شیکتر کلیان یوجنا کے تین مقصد ہیں -

  1. کان کنی متاثرہ علاقوں میں مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں / پروگراموں کی تکمیل  جو ریاست اور مرکزی حکومت کے موجودہ اسکیموں / منصوبوں کے مطابق ہوں۔
  2. ماحول، صحت اور کان کنی مِلوں میں لوگوں کی سماجی، اقتصادی صورتحال پر پڑنے والے ضمنی اثرات کو ختم کرنا۔
  3. کان کنی علاقے کے متاثر لوگوں کے لئے طویل مدتی پائیدار، ذریعہ معاش کو یقینی بنانے۔
  4. ان مقاصد کو واضح کر دیا گیا ہے تاکہ ہدف مقرر ہو اور زندگی کا معیار بہتر ہو سکے۔

اسکیم کے اہم نقاط

اِس اسکیم سے وابستہ خاص نقاط اس طرح ہیں جِن سے وابستہ ناشرین ، قانون سازوں اَور عوام کو مدد مِلے‌گی -

  • عمل 12 جنوری ، 2015 سے اثر آفریں ہے
  • 12 جنوری، 2015 کے پہلے جو کان کنی پٹّے دیئے جا چکے ہیں ان کے سلسلے میں اداروں کو ڈي ایم ایف میں قابل ادائیگی رایلٹی کا 30 فیصد حصہ دینا ہوگا۔
  • 12 جنوری، 2015 کے بعد جو کان کنی پٹّے دیئے جا چکے ہیں ان کے سلسلے میں اداروں کو ڈي ایم ایف میں قابل ادائیگی رایلٹی کا 10 فیصد حصہ دینا ہوگا۔
  • اِس اسکیم کے تحت ممکنہ فنڈ لگ بھگ 6 ہزار کروڑ روپیے سالانہ ہوگا ۔

اسکیم کا نظام

پرادھان منتریکھَنِج شیکتر کلیان یوجنا کے تحت کان کنی سے متاثر لوگوں کی زندگی کا معیار  بڑھانے کے تعلق میں سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈی ایم ایف کے فنڈ کو بہتر طریقے سے خرچ کیا جائے ۔ اسکیم کا نمونہ اس طرح تیار کیا گیا کہ وہ خود اپنی حمایتی نظام تیار کرے اور صرف سرکار کے سہارے نہ چلے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اِس اسکیم کو لوک لُبھاون اسکیم بننے سے روکا جائے ۔ اس لئے اِس بات پر بھی دھیان دیا گیا ہے کہ مہتوپورن کاموں کو ہنگامی کاموں کی وجہ سے نا روکا جائے ۔

اعلی برتری والے علاقہ

دیگر برتری والے علاقہ

پینے کے پانی کی فراہمی

جسمانی تحفظ

ماحولیاتی تحفظ اَور آلودگی کنٹرول اقدامات

آب پاشی

صحت کی خدمات

توانائی اَور بنیادی ترقی

تعلیم

کان کنی والے ضلعوں میں ماحول کی خوبی بڑھانے کے دیگر اقدامات

خاتون اَور اطفالی فلاح و بہبود

 

بزرگوں اور معذوروں کی فلاح و بہبود

 

صلاحیتی ترقی

 

صفائی

 

اسکیم کے تحت بُلند برتری والے علاقوں میں 60 فیصدی اَور دیگر ابتدائی علاقوں میں 40 فیصدی فنڈ خرچ کیا جائے‌گا ۔ اِس کی تفصیل اس طرح ہے :-

اسکیم کے ہدفی مستفید

تمام دُہراووں کو ختم کرتے ہوئے پی ایم کےکےکےوائی نے واضح طور پر اِن کی تعریف بیان کی ہے :

  1. براہ راست متاثرہ علاقے: جہاں کھدائی، کان کنی، دھماکے، فائدہ مند اور فضلات کو رفع وغیرہ جیسے کان کنی سے متعلق آپریشن واقع ہیں۔
  2. بالواسطہ طور پر متاثر علاقے: جہاں کان کنی متعلقہ اعمال کی وجہ سے اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی مضر اثرات کی وجہ سے مقامی آبادی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے پانی کی، مٹی اور ہوا کے معیار میں فرسودگی ہو سکتی ہے، جھرنوں کے بہاؤ میں کمی آ سکتی ہے اور زمینی پانی کم ہو سکتا ہے وغیرہ۔
  3. متاثر لوگ / کمیونٹی: تحویل اراضی، بحالی اور دوبارہ تعین ایکٹ، 2013 میں مناسب معاوضہ اور شفافیت کی اتھارٹی کے تحت '' متاثر خاندان '' اور '' بے گھر خاندان '' کے طور پر نشاندہ خاندان اور گرام سبھا کے مشورے سے نشاندہ دیگر خاندان۔
  4. اِن وضاحتوں کے مُطابق ، یہ ڈی ایم ایف کو اِن طبقات کے تحت لوگوں اَور مقامات کی ایک فہرست بنانے کی ہدایت دیتا ہے جِن کو پی ایم کےکےکےوائی اسکیم کے حقیقی مستفیدین کی شکل میں سمجھا جائے‌گا ۔

    درج فہرست علاقوں کے لئے خاص اہتمام

    پی ایم کےکےکےوائی فنڈ کے استعمال کا طریقہ کار درج فہرست علاقوں اَور قبائلی علاقوں کے انتظامیہ سے وابستہ آئین کی فہرست V اَور فہرست VI کے ساتھ قانون 244 میں بیان شدہ اہتمام اَور پنچائت ( درج فہرست علاقوں کی توسیع ) پنچائتی قانون ، 1996 اَور درج فہرست قبائلی اَور دیگر روایتی جنگلی باشندگان ( جنگلی حقوق کی منظوری ) قانون ، 2006 کے اہتمام کے ذریعے ہدایتدادہ ہوگی ۔ متاثر گاؤں کی گرام سبھا کی اسکیموں کی منظوری اَور رپورٹوں کی جانچ میں اہم کردار ہوگا ۔

    اسکیم کی دیگر صفات

    • پی ایم کےکےکےوائی کی یکجا رقم کو ترجیح کے ساتھ مرکز / ریاست کے ذریعے بنائی گئی فی الحال میں جاری فلاحی اسکیموں کے مُطابق ہونی چاہئیے ۔
    • فاؤنڈیشن کی سالانہ حصولیابی کے 5 فیصدی تَک کی رقم ، جِس کی زیادہ تر حد ریاست سرکار کے ذریعے مقرر کی جائے‌گی ، کا استعمال فاؤنڈیشن کے انتظامی ، نگرانی اَور فاضل خرچ کے لئے کیا جا سکتا ہے ۔
    • پیۓمکےکےکےوائی عمل کے کرِیانوین کے لئے اہلکار / شرمبل کو انُبمدھاتمک بنیاد پر لیا جائے‌گا ؛ ستھایی روزگار کی کوئی امکان نہیں ۔
    • ایسے کان کنی سے متاثر علاقوں کے لئے ، جو دو ضلعوں میں پڑتے ہیں ، یا ایسی فلاحی اسکیم کے لئے جو جاری عمل کے ضلع کے باہر کے لوگوں / مقامات سے وابستہ ہیں ، ہدایات میں ظاہر اصول بیان کئے گئے ہیں ۔
    • تمام کام / معاہدہ ریاستی سرکاروں کے ذریعے جاری اصولوں کے مُطابق عطا کئے جائیں‌گے ۔
    • اجینسیوں / مستفیدین کو فنڈ کی منتقلی سِیدھی بینک کھاتوں میں کی جائے‌گی۔
    • ہرایک ڈی ایم ایف ایک ویب سائٹ کی قیادت کرے‌گا اَور اپنے ، مستفید کے لئے  ذخیرہ شدہ فنڈ ، اجلاس کی تفصیل ، کاروائی رپورٹ ، سالانہ اسکیمیں جاری پروجیکٹ کی حالت وغیرہ سے وابستہ تمام تفصیلات کے آنکڑے عام کرے‌گا ۔
    • ڈی ایم ایف کے کھاتوں کا ہرایک سال محاسبہ کیا جائے‌گا اَور اِس کو سالانہ رپورٹ میں شامل کیا جائے‌گا ۔
    • ڈی ایم ایف مالی سال کے خاتمہ کے تین مہینوں کے اندر سالانہ رپورٹ تیار کرے‌گا ، جِس کو ریاستی اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہئیے اَور اِس کو ویب سائٹ پر جگہ مِلنی چاہئیے ۔

    ماخذ : پريس اطلاعات دفتر ، حکومتِ حند

2.5
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top