ہوم / صحت / آیوش / یوگا
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

یوگا

یوگا کی تعریف:۔ کسی فرد کی پیدائشی/جبلی قوت کو متوازن شکل میں بڑھانے یا نشونما دینے کا طریقہ یوگا کہلاتا ہے۔ یوگا مکمل خود اکتسابی کے ذرائع فراہم کرتا ہے سنسکرت لفظ یوگا کے لغوی معنی 'یوک' ہے اسطرح یوگا انفرادی قوت اور خدا کی کائناتی قوت کو ساتھ ملانے کا ایک ذریعہ کہلایا جاسکتا ہے۔ مہارتی پتانجلی کے مطابق یوگا

یوگا۔ ایک عالم گیر عملی نظم وضبط

یوگا ثقافت، قومیت، نسل، ذات عمر اور جسمانی حالات کے قطع نظر ایک عالم گیر عملی نظم وضبط کا مظہر فعل ہے نہ کتابیں پڑھ لینے سے اور نہ ہی ایک یوگی کا روپ اختیار کرلینے سےکوئی ایک مکمل یوگی نہیں بن سکتا بغیر مشق کے کوئی بھی یوگا تکنیکوں کا فائدہ نہیں حاصل کرسکتااور نہ ہی اسکے پیدائشی فوائد/صلاحیتوں کو جان سکتا ہے صرف باقاعدگی سے مشق(سادھنا) ہی جسم اور دماغ میں اسے ارتقاء دینے کا سانچہ پیدا ہوتا ہے ۔ اسکے لیے متعلقہ شخص کے اندر شدید خواہش کا ہونا بہت لازمی ہ

یوگا بطور ارتقائی عمل

انسانی شعور کے نشونما کا ارتقائی عمل یوگا ہے۔ کسی مخصوص فرد میں مکمل شعور کا ارتقاء ضروری نہیں ہے کہ شروع ہو جب تک کہ وہ خود اسکا آغاز نہ کرے۔ برائیاں جیسے شراب اور ڈرگ کا استعمال، بہت زیادہ کام، جسمانی خواہشات میں بے پناہ ملوث ہونا اور دیگر محرکات تاکہ بیہوشی اور مدہوشی حاصل ہوں۔ ہندوستانی اس نکتہ سے شروعات کرتے ہیں جہاں مغربی نفیسات ختم ہوتی ہے۔ اگر فرائیڈ کی نفسیات بیماری کی نفسیات ہے اور میسلو کی نفسیات صحت مند مرد کی نفسیات ہے تب ہندوستانی نفسیات روشن خیالی کی نفیسات ہے۔ یوگا میں کسی انسان کی نفسیات کا سوال نہیں ہے بلکہ اسکے شعور کا سوال ہے یہ نہ صرف انسانی صحت کا سوال ہے بلکہ یہ روحانی ارتقاء کو بھی مخاطب کرتا ہے۔ یوگا بطور روحانی علاج

یوگا کی قسمیں:

کرم یوگا

ناسمجھ اپنے خود کے مفاد کیلئے کام کرتا ہے ۔ ارجن عقلمندی یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی کیلے کام کرو بغیر اپنے بارے میں سوچتےہوئے

گیان یوگا

یہ ہمیں خودی اور بے خودی میں فرق سکھاتا ہے اور صحیفوں کے مطالعہ، سنتوں کی قربت اور مراقبہ کی حالت کے ذریعہ اپنے روحانی حیثیت کا ادراک کرواتا ہے۔

بھکتی یوگا

بھکتی یوگا الہٰی مرضیات کے مطابق خود کو مکمل طورپر قربان کردینے/پیش کرنے کا ایک نظام ہے۔ بھکتی یوگا کےصحیح معتقدین انانیت سے پاک، رحمدل اور دنیاوی خدمات سے غیر متاثر ہوتے ہیں۔

راجایوگا

راج یوگا عام طورپر "استھا تک یوگا" کہلاتا ہے جو انسان کی ہم پہلو ترقی کیلئے ضروری ہے یہ ماما، نیامہ، آسن، پرنایما، پرتھارا، دھرنہ دھیان اور سمادھی ہیں۔

کریا ہوگا

کریا یوگا اندرونی قوتوں پر کام کی مشق ہے تاکہ انکی شدت میں اضافہ ہو اور روشن خیالی بھی درآئے اس مقصد کیلئے یوگ کریاس ، پرنایما، ہاتھا یوگا اور دیگر مشقیں کی جاتی ہیں۔ جسم کے مختلف حصوں میں قوتوں کی رہنمائی کیلئے ہاتھوں کی مختلف پوزیشن( مدراوں )کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یوگا کی فعلیت (فزیالوجی)

کندالینی

کندالینی یوگا تانترک روایات کا حصہ ہے تخلیق کی ابتداء ہی سے تانترک اور یوگیوں نے یہ جان لیا کہ اس جسم میں ایک سات چکروں کے پہلے چکرموں دھارہ چکر میں ایک قوت بستی ہے۔ریڑھ کی ہڈی کی بنیاد میں ایک چھوٹا غدود ہوتا ہے۔ مردوں میں یہ پیشاب اور نکالنے والے اعضاء کے درمیان میں ہوتا ہے جبکہ عورتوں میں یہ رحم کے جڑ میں سروکس میں ہوتا ہے وقت روایات اور تہذیب کے لحاظ سے وہ لوگ جو اس قوت کو جگالیتے ہیں یوگی سدھی اور دیگر کہلائے جاتے ہیں۔اس قوت کا جگانے کیلئے کسی مرد کو یوگ تکنیکیوں جیسےشت کریا ، آسن، پرنایامہ، بندحا، مدرا اور مراقبہ کی ضرورت پڑتی ہے کندالینی کو جگانے کے نتیجہ میں دماغ میں ایک دھماکہ ہوتا ہے اور سوئے ہوئے اعصاب جاگ اٹھتے ہیں جیسے

ناڈی

یوگی کتب کے مطابق ناڈی، قوت کے بہاو کا ذریعہ ہیں جو جسمانی سطح پر روشنی، رنگ، آواز اور دیگر خصوصیات کے ذریعہ پہچانے جاسکتے ہیں۔ ناڈی کا پورانیٹ ورک کافی وسیع ہے یہاں تک کہ یوگی کتب بھی اسکے صحیح نمبر کے حساب سے اتفاق نہیں رکھتے۔ مثال کے طورپر گوکشا ستاکہ/گورکشہ سمہتا اور ہاتھا یوگا پردپیپکا 72000 کی تعداد میں ہیں یہ تمام ناڈیاں ناف کے مرکزسے ملتی ہیں، منی پور چکر، جوانسانی جسم کے سات چکروں (دائروں)میں سے نیچے کی جانب سے تیسرا ہے ۔ ہزاروں ناڈیوں میں سے تین اہم ترین ادا، پنگلہ اور سشمنا نادیاں ہیں سشمنا ریڑھ کی تک جاتی ہے جبکہ ادا اور پنگلہ اوپر کی جانب بڑھتی ہیں۔ یہ تینوں ناڈیاں دماغ کے درمیانی حصہ/ تاج تک پہنچتی ہیں اور کندالینی کی حرکت میں مدد کرتی ہیں۔ مئیو اسرودیا کے مطابق 10اہم ناڈیاں ہیں جو جسم کے اندر اور باہر جانے والے اہم راستوں کو جوڑتی ہیں ان دس میں سے ادا، پنگلہ اور سشمنا اہم ترین ہیں وہ ہائی وولٹیج وائر میں جو توانائی کو سب اسٹیشن تک پہنچاتی ہیں یا ان چکروں تک جوریڑھ کی ہڈی میں پائے جاتے ہیں۔

یوگا کی مشق کے تائیدی اجزاء

رودراکشہ:۔

رودراکشہ درخت کا بیج ہے جو روحانی ارتقاء کی طلب گاروں کیلئے اہم ترین کردار ادا کرتا ہے یہ سادھنا کیلئے کسی شخص کو قوت/توانائی کے ارتکاز میں مدد کرتی ہے۔

الھامی علم:۔

سدھانہ کی معاونت کیلئے الھامی کتب کا مطالعہ بھی کافی مددگار ہے۔ بالخصوص شیوپُران اور وشنوپران پڑھنا جبکہ کچھ حلقوں میں اشت وکارہ گیتا بھی کافی مقبول ہے۔

برہما چاریہ:

وہ لوگ جو شدت کے ساتھ یوگا کے راستہ پر توجہ دینا اور چلنا چاہتے ہیں اپنے خاندانوں اور سماج سے کٹ کر سادھنا پر توجہ کیلئے وقت صرف کرسکتے ہیں یہ برہما چاریہ کہلاتا ہے کسی زمانہ میں ہندوستان میں ہر فرد کی زندگی کا یہ ایک لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔

ہندوستان میں یوگا کے قومی سطحی ادارے

مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا، نئی دہلی

  • مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا(ایم ڈی این آئی واے) سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860کے تحت ایک رجسٹرڈ خود مختار ادارہ ہے جسے حکومت ہند کے منسٹری آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیر کے تحت شعیہ آیوش سے مکمل طورپر فنڈنگ کی جاتی ہے ۔ ۔ یہ ادارہ ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے قلب شہر علاقہ 68اشوک روڈ کے لیوئنس زون میں قائم ہے
  • یہ ادارہ ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے قلب شہر علاقہ 68اشوک روڈ کے لیوئنس زون میں قائم ہے۔
  • یوگا بحیثیت ہیلتھ سائنس بالخصوص ذہنی دباو سے متعلق بیماریوں میں بہت زیادہ اہمیت کوذہن میں رکھتے ہوئے اس وقت کی سنٹر کونسل فارریسرچ ان انڈین سسٹمس آف میڈیسن اور ہومیوپیتھی نے 1970 میں اس وقت کے ایک نجی ادارے وشویاتن یوگا آشرم سے ملحق ایک 5بیڈ پر مشتمل یوگا ریسرچ سنٹر کا قیام کیا تھا۔ اس میدان میں ہونے والی سائنسی تحقیقات کے بعد یوگا کی حفظ ماتقدم، معالجانہ اہمیت وافادیت کو جان لینے کے بعد یکم جنوری6197 کو سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یوگا (CRIY) کا قیام عمل میں آیا اور یوگا ریسرچ ہاسپٹل میں کام کررہے اسٹاف کو اسمیں ضم کرلیا گیا۔
  • ۔ CRIY کا اہم مقصد عام عوام کو یوگا کی تربیت فراہم کرنا اور یوگا کی مختلف مشقوں پر سائنسی تحقیق انجام دینا ہے۔ 1998 تک CRIY یوگا کا تحقیقی اور تربیتی مرکز رہا جہاں اسکی منصوبہ بندی اس پر عمل درآمد اور باہمی ربط وضبط کا کام انجام پاتا تھا۔ یوگا کی ملک گیر اہمیت میں اضافہ اور ہائی کوالیٹی خدمات کو دیکھتے ہوئے مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا (MDNIY) کے نام سے یوگا کے لیے ایک قومی ادارہ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جسمیں سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یوگا کو ضم کرلیا

مآخذ : شعبہ آیوش، وزارت صحت اور خاندانی بہبود، حکومت ہند۔

2.44444444444
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Related Languages
Back to top