ہوم / صحت / آیوش / ورزش، یوگ اور فٹنیس / تحفظ برائے گھریلو  آب مشروب/ گھریلو پینے کا پانی کی حفاظت
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

تحفظ برائے گھریلو  آب مشروب/ گھریلو پینے کا پانی کی حفاظت

تعارف

صاف  پینے والا پانی/ آب-مشروب صحت کی اصل بنیاد ہے۔ بچپن میں اچھی پرورش و پرداختکے لئے صاف پینے کا پانی/آب-مشروب بالکل ضروری ہے۔ پیچش، دست، پیلیا، پولیو  وغیرہ کئی بیماریاں گندہ پینے کے پانی سے پھیلتی ہیں۔ ان بیماریوں سے سبھی کو نقصان ہوتا ہے لیکن بچّوں کا کچھ زیادا ہی نقصان ہوتا ہے۔ صاف آب-مشروب/پینے کاپانی  سے یہ سارے نقصانات ہم ٹال سکتے ہے اور دواؤں کا خرچ بھی۔ سامدائک پےئجل اہتمام اچھا بھی ہو تب بھی گھریلو حفاظت برتنا جرری ہے۔ اس کے لئے کئی پدّھتی اور طریقے میسّر ہے۔

پینے کا پانی ملاوٹی کیسے ہوتا ہے

مرض-آور جرثومہ اور وائرس گھل ملنے سے پینےکاپانی ملاوٹی بنتا ہے۔ یہ خوردبینی جرثومہ انسان اور جانوروں کے پاخانے سے پانی میں داخل ہوتے ہے۔ شہروں میں  آب-مشروب نلوں میں گندا پانی گھس‌ کر  پینےکاپانی  غیرمحفوظ بنتا ہے۔ اس لئے گھریلو تحفظ بھی ضروری ہے۔
پانی میں کیمیا وغیرہ  مل‌کر بھی پانی خراب ہوتا ہے۔ لیکن کیمیاوی آلودگی جانچنے کے لئے گھریلو طریقے نہیں ہیں۔ اس کے لئے سرکاری اور ذاتی/نجی تجربہ گاہ /لیب ہوتے ہیں۔ بورویل پانی کا کیمیاوی تجزیہ ہرسال ایک بار تو کرنا چاہئیے۔

آب-مشروب/ پینےکاپانی تحفظ کے لئے آسان طریقے

  • پینےکاپانی 24 گھنٹے جمع رکھنا یہ تحفظ کے لئے سب سے آسان بات ہے۔ اس سے مٹی اور دیگر مادہ جم کر سطح میں جاتے ہے۔ اسی کے ساتھ جرثومہ بھی برباد ہوتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کی ایک دن کا باسی آب-مشروب/پینےکاپانی حقیقتا تازہ پینےکاپانی سے زیادہ صاف ہوتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ باسی پانی استعمال نہ کریں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لئے پھٹکری یا سہجن کے سکھے بیجونکا سفوف استعمال کئے۔ اس سے 6-8 گھنٹوں میں پانی پریاپت محفوظ ہوتا ہے۔
  • دیہی استعمال کے لئے وردھا کے ایک ادارہ کے ذریعے ایک آسان  فلٹر کا سجھاؤ ہے۔ اس میں دھان کے بھوسے کی حفاظت، کنکڑ اور دو بالٹیوں کا استعمال کیا ہے۔ اس سے پینےکاپانی موٹے ذرات اور 98 % جرثومہ الگ کئے جاتے ہے۔ اس فلٹر کو ہرسال دو بار صاف کرکے تبدیل/چارج کرنا ضروری  ہے۔ یا دس لیٹر پانی میں 1-2 بوند کلورین تحلیل کی جائے تو  آدھے گھنٹے میں پانی محفوظ ہوتا ہے۔ بوتل کی سطح پر اس بارے میں جانکاری ہوتی ہے۔ پیلییا جیسے وائرس انفیکشن کے دنوں میں اس کا ثبوت دوگنا کرنا چاہئیے۔ پانی ابال‌کر جرثومہ-آزاد ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے 5-10 منٹ پانی ابلتے رکھنا چاہئیے۔ جرثومہ یعنی وائرس کے لئے 15 منٹ ابلنا چاہئیے۔ آبِ_مشروب تحفظ کے لئے کلورین کی گولی دستیاب ہے۔ آدھے گرام کی یہ گولی 20 لیٹر پینےکےپانی میں آدھے گھنٹے میں جرثومہ آزاد کرتی ہے۔
  • ویسے ہی بالائے بنفشی یعنی الٹراوائلیٹ کا استعمال بھی ہم کر سکتے ہے۔ اس کا ایک سادہ آلہ 9 واٹ کی ٹیوب سے 254 این-ایم روشنی ملتی ہے۔ اس کے لئے 12 وولٹ کی بیٹری یا سائیکل کا ڈائنامو بھی چلتا ہے۔ اس آلہ کے ذریعے 10 منٹ میں 20 آبِ-مشروب محفوظ ہوتا ہے۔ آپ یہ آلہ پڑوس والے فیملی کو بھی استعمال کرنے کے لیے دیں۔ اس کی قمیت 2200 سے 3000 روپیوں تک ہوتی ہے۔
  • الٹراوائلٹ روشنی والے جدید  آلہ بھی دکانوں میں ملتے ہے۔ ان کی قیمت 6000-7000 روپیوں تک ہوتی ہے۔ اس کے لئے نل کا پانی اور بجلی ضروری ہے۔ اس سے فی منٹ 4 لیٹر پینےکاپانی صاف ہوتا ہے لیکن بالائے بنفشی گندہ غیرشفاف پانی صاف نہیں کر سکتے۔
  • آج کل دکانوں میں مینبرین فلْٹرْس دستیاب ہے۔ اسی طرح آر-او۔ یعنی ریہورس آسماسس تکنیک والے فلٹر بھی ملتے ہے۔
  • کچھ فلٹرْس میں نمکینیت بھی نکالی جا سکتی ہے۔ بورویل کے پانی کے لئے اس فلٹر کا استعمال کر سکتے ہے۔

ذرائع : ہندوستان صحت

3.0
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top