ہوم / صحت / صحت کی اسکیمیں / وزیر اعظم صحتی تحفظ اسکیم
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

وزیر اعظم صحتی تحفظ اسکیم

مقصد

وزیر اعظم صحت حفاظت عمل (پی ایم ایس ایس وائی)عام طور پر ملک کے مختلف حصوں میں سَستی / قابِل اعتماد صحت خدمتوں کی دستیابی کی عدم مطابقت کو دور کرنا ہے اَور خصوصی طور پر ریاستوں میں کوالٹی علاج تعلیم کو حاصل کرنے کی سہولیات کی توسیع کرنا ہے۔ اِس اسکیم کو مارچ 2006 میں منظوری دی گئی تھی۔

تکمیل

اول حصہ

پی ایم ایس ایس وائی میں پَہلے حصے میں دو جُزو ہیں اکھِل بھارتیۓ میڈیکل سائنس ادارہ (ایمس)، جیسے چھے ادارہ، بِہار (پٹنا)، مَدھیہ پرَدیش (بھوپال)، اُڑیسا (بھُونیشوَر)، راجَستھان (جودھ پور)، چھَتّیس گَڑھ (رائے پور)اَور اُتّرانچل (رِشی کیش)، ہرایک میں ایک ایک قائم کرنا (اِن میں سے زیادہ تر  شروع ہو چُکے ہیں۔ )اَور موجود 13 میڈیکل اداروں کی فرازی ہے۔

اِن ریاستوں کا انتخاب انسانی ترقی اشاریہ، خواندگی در بستر تناسب، غریبی لکیر سے نیچے رہنے والی آبادی اَور فی شخص آمدنی مختلف صحت اشاریہ جیسے آبادی کی بنیاد پر بستروں کی دستیابی، سنگین سرایت کُن بیماریوں کے پھیلاؤ کی در، بچہ موت در وغیرہ مختلف سماجی مالی علامتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ ہرایک ادارہ میں ایک 960 بستروں والا ہسپتال ہوگا (500 بیڈ میڈیکل کالج کے ہسپتال کے لئے، اِسپیشلِٹی / سُپر  اِسپیشلِٹی کے لئے 300 بیڈ، آئی سی یو / حادثہ صدمے کے لئے 100 بیڈ، بالغداریہ اَور جسمانی علاج اَور بازآبادی دونوں کے لئے 30 بیڈ)جِس کا مقصد صحت کی دیکھ بھال 42 اِسپیشلِٹی / سُپر اِسپیشلِٹی موضوعات سے جُڑی سہولیات کی دستیابی آسانی سے ہو سکے۔ اس کے علاوہ، 10 ریاستوں میں پھَیلے 13 موجودہ طبی اداروں میں ہرایک ادارے کے حساب سے 120 کروڑ روپیے (اِس میں 100 کروڑ روپیے مرکزی سرکار سے اَور 20 کروڑ روپیے ریاستی سرکاروں کے ذریعے خرچ کیا جائے‌گا)کے مصارف کر  اُن کو ترقی یافتہ کیا جائے‌گا۔ یہ ادارے ہیں-

  • سرکاری میڈیکل کالج، جمّو، جَمّو اور کَشمیر
  • سرکاری میڈیکل کالج، شرینگر، جَمّو اور کَشمیر
  • کولکاتہ میڈِکل کالیج، کولکاتہ، جنوبی بنگال
  • سنجۓ گاندھی پوسٹ گریجویٹ طبی سائنس ادارہ، لکھنؤ، اُتّر پرَدیش
  • طبی سائنس ادارہ، بی ایچ یو، وارانسی، اُتّر پرَدیش
  • طبی سائنس کے نظام انسٹیٹیوٹ، حیدر آباد، تلنگانہ
  • شری وینکٹیشور طبی سائنس ادارہ، تِروپتی
  • سرکاری میڈیکل کالج، سیلم، تمِل ناڈو
  • بی۔ جے۔ میڈیکل کالج، احمد آباد، گُجرات
  • بنگلور میڈیکل کالج، بنگلور، کَرناٹَک
  • سرکاری میڈیکل کالج، تِرُوننت پورم، کیرل
  • میڈیکل سائنسیز کے راجیندر انسٹیٹیوٹ (آر)، رانچی
  • چندہ حاصل میڈیکل کالج اَور سر جے۔ جے۔ گروہ کے ہسپتال، مُمبئی، مَہاراشٹر۔

دوم حصہ

پی ایم ایس ایس وائی کے دُوسرے حصے میں سرکار نے اکھِل بھارتیۓ طبی سائنس ادارہ جیسے دو اَور اداروں، جِن میں سے ایک جنوبی بنگال اَور اُتّر پرَدیش ریاست کے ادارے کا اَور چھے میڈیکل کالج اداروں کی فرازی کو منظوری دی گئی ہے جو اس طرح ہیں-

سرکاری میڈیکل کالج، اَمرِتسَر، پنجاب
سرکاری میڈیکل کالج، ٹانڈا، ہِماچل پرَدیش
سرکاری میڈیکل کالج، مدورئی، تمِل ناڈو
سرکاری میڈیکل کالج، ناگ پور، مَہاراشٹر
جواہر لال نیہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
پنڈت۔ بی۔ ڈی۔ پوسٹ گریجوئیشن طبی سائنس ادارہ، روہتک
ایمس جیسے ادارے کے لئے مقرر لاگت 823 کروڑ روپیے ہے۔ اِن اداروں کے لئے مرکزی سرکار کے ذریعے ہرایک کے لئے کیا جانے والا خرچ 125 کروڑ روپیے ہے۔

تِیسرا حصہ

پی ایم ایس ایس وائی کے تِیسرے حصے میں موجودہ درج ذیل طبی کالج اداروں کی فرازی کرنے کے کام کی پیشکش ہے
سرکاری میڈیکل کالج، جھانسی، اُتّر پرَدیش
سرکاری میڈیکل کالج، ریوا، مَدھیہ پرَدیش
سرکاری میڈیکل کالج، گورکھ پور، اُتّر پرَدیش
سرکاری میڈیکل کالج، دربھنگا بِہار
سرکاری میڈیکل کالج، کوجھیکوڈ، کیرل
وجئےنگر طبی سائنس ادارہ، بیلّاری، کَرناٹَک
سرکاری میڈیکل کالج، مظفرپور، بِہار
ہرایک میڈیکل کالج کی فرازی پروجیکٹ کے لئے ادارہ کے مُطابق 150 کروڑ روپیے خرچ لگنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جِن میں سے 125 کروڑ روپیے مرکزی سرکار کی شراکت اَور باقی 25 کروڑ روپیے وابستہ ریاستی سرکاروں کے ذریعے خرچ کئے جائیں‌گے۔
ماخذ : پی ایم ایس ایس وائی

2.44444444444
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top