ہوم / صحت / زندگی کے سچ / کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں

اِس دستاویز میں کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریوں کے موضوع میں تفصیل سے معلومات دی گئی ہے۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریوں کے بارے میں اطلاع بانٹنا اَور اُس کے مُطابق کام کرنا کیوں ضروری ہے۔ کھانسی،زکام،گَلا خراب ہونا اَور ناک بہنا بچّوں کے زندگی کے عام واقعات ہوتے ہیں۔ پھر بھی،کچھ معاملات میں،کھانسی اَور زکام نیہومونِیا یا تپ دق (ٹی۔بی۔) جیسی سنگین بیماریوں کی علامات ہوتی ہیں۔سال 2000 میں 5 سال سے چھوٹِی عمر کے 20 لاکھ بچّوں کی موت سانس کی نالی کے جراثیم زدہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں خاص پیغام 1

جِس بچّے کو کھانسی یا سردی زکام ہو اُس کو گرم رکھا جانا چاہئیے اَور وہ جِتنا کھا پی سکے اُتنا ہی کھانے پینے کے لئے پرجوش کرنا چاہئے۔
نَنہیں اَور بہت چھوٹے بچّے جسم کی گرمی آسانی سے کھو دیتے ہیں۔جب اُن کو سردی زکام یا کھانسی ہو تو اُن کو کپڑا اوڑھاکر گرم رکھا جانا چاہئے۔
جِن بچّوں کو کھانسی،سردی زکام،ناک بہنا اَور گَلا خراب ہونے کی شکایت ہو اَور وہ عام طریقے سے سانس لے پا رہے ہوں تو وہ گھر میں ہی کسی بھی دوائی کے بِنا ٹھِیک ہو جائیں‌گے۔اُن کو گرم رکھنے کی ضرورت ہے،لیکِن بہت گرم نہیں،اَور اُن کو اچھی طرح کھانا پینا دیا جانا چاہئے۔جب کوئی صحتی اہلکار کہے تب ہی دوائی دینی چاہئے۔
جِس کو بخار یا تیز بخار ہے ایسے بچّے کو معمولی ٹھَنڈے پانی سے نہ کہ بہت زیادہ ٹھَنڈے پانی سے سپانج (گیلے کپڑے سے جسم پوچھنا)کیا جانا چاہئے۔ جہاں ملیریا کا قہر ہے ایسے علاقوں میں، بُخار خطرناک ہو سکتا ہے۔ بچّے کو فوراً صحتی اہلکار کو دِکھایا جانا چاہئے۔
کھانسی یا سردی زکام میں بچّے کی بہتی ہوئی ناک اکثر صاف کی جانی چاہئے، بالخصوص : بچّے کے سونے سے پہلے۔ نمی پر مشتمل ماحول سانس لینے میں مدد کر سکتا ہے اَور اَگر بچّا اُبلتے ہوئے پانی کے پتیلے سے تو نہیں پر گرم پانی کے پتیلے سے نفس کے ذریعے بخارات لے تو اُس کو اَور آرام مِل سکتا ہے۔
دودھ پینے والے بچّے کو کھانسی اَور سردی زکام کے دوران دودھ پینے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔ لیکِن دودھ پینا بیماری سے لڑنے اَور بچّے کے بڑھنے کے لئے بہت ہی ضروری ہوتا ہے، اس لئے ماں کو چاہئے کہ وہ بچّے کو دودھ پِلانا جاری رکھے۔ اَگر بچّا دودھ چوس نہیں پا رہا، تو پستان کا دودھ ایک صاف کپ میں نِکال‌کر بچّے کو پِلایا جا سکتا ہے۔
جو بچّے دودھ نہیں پی رہے ہیں تو اُن کو تھوڑے تھوڑے وقفے پر تھوڑا سا کھانے پینے کے لئے کہنا چاہئے۔ جب بیماری ختم ہو جائے تو بچّے کو کم سے کم ایک ہفتے تَک ایک وقت اور زیادہ کھانا دیا جانا چاہئے۔ جب تک بچّے کا وزن بیمار ہونے سے پہلے جِتنا تھا اُتنا نہیں ہو جاتا اُس کو صحت مند نہیں مانا جاتا۔
کھانسی اَور سردی زکام آسانی سے پھَیلتے ہیں۔جِن کو کھانسی اَور سردی زکام ہے اُن لوگوں کو بچّوں کے آس پاس چھِینکنا،کھانسنا یا تھُوکنا نہیں چاہئے۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں اہم پیغام 2

کبھی کبھار،کھانسی اَور سردی زکام کِسی سنگین بیماری کی علامات ہوتے ہیں۔ جِس بچّے کو ایسے میں سانس لینے میں پریشانی ہو رہی ہو یا وہ جلدی جلدی سانس لے رہا ہو تو اُس کو نیومونِیا ہو سکتا ہے، جو پھیپھڑے کا ایک انفیکشن ہے۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے اَور اُس بچّے کو فوراً کِسی صحتی سہولت مرکز سے علاج کی ضرورت ہے
۔ کھانسی اَور سردی زکام،گَلا خراب ہونا اَور بہتی ناک کے زیادہ تر دور دوا کی ضرورت کے بِنا ہی ٹھِیک ہو جاتے ہیں۔ لیکِن کبھی کبھار یہ بیماریاں نیومونِیا کی علامات ہوتی ہیں،جو پھیپھڑے کا متعدی مرض ہے اَور عام طورپر : اُس میں اینٹِبایوٹِکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اَگر کوئی صحتی اہلکار نیومونِیا کے علاج کے لئے اینٹِبایوٹِکس دیتا ہے،تو یہ ضروری ہے کہ ہدایات پر عمل کیا جائے اَور اُنہی ہدایتوں کے مُطابق جب تک ضرورت ہو دوا دی جائے،چاہے بچّا ٹھیک ہی کیوں نہ ہو جائے۔
سرپرستوں کے ذریعے بیماری کی سنجیدگی نہیں پہچان پانے اَور فوراً طبی سہولت نہیں میسّر ہونے سے بہت سارے بچّے مر جاتے ہیں۔ نیومونِیا کی وجہ سے مرنے والے بہت سارے بچّوں کو بچایا جا سکتا ہے اَگر :
ماں باپ اَور سر پرست یہ سمجھ جائیں کہ تیز رفتار سے سانس لینا اَور سانس لینے میں پریشانی ہونا،دونوں ہی خطرہ کی علامات ہیں اَور ایسی حالت میں فوراً طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
طبی مدد اَور کم خرچِیلی دوائی فوراً میسّر ہے۔
اَگر بچّے میں درج ذیل علامات دِکھائی دیں تو اُس کو فوراً کِسی تربیت یافتہ صحتی اہلکار یا صحتی مرکز جانا چاہئے :
بچّا حسب معمول سے زیادہ رفتار سے سانس لے رہا ہو : 2 سے 12 مہینے کے بچّے کے لئے ایک منٹ میں 50 یا زیادہ بار سانس ؛ 12 مہینے سے 5 سال تک کے بچّے کے لئے ایک منٹ میں 40 یا زیادہ بار سانس لے رہا ہو
بچّا مشکل سے سانس لے رہا ہو یا ہوا کے لئے چھَٹپَٹا رہا ہو
جب بچّا سانس اندر کھینچتا ہے تو سینہ کا نِچلا حصہ اندر دھنس رہا ہو،یا پھِر ایسا لگ رہا ہو جیسے پیٹ اوپرنیچے کی طرف کر رہا ہو۔
بچّے کو دو ہفتے سے زیادہ وقت سے کھانسی ہو۔
بچّا دودھ پینے یا کچھ پینے میں ناقابِل ہو۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں اہم پیغام 3

پریوار کے ممبر بچّے کی نیومونِیا سے حفاظت کر  سکتے ہیں بشرطیکہ بچّوں کو پیدائش سے چھے مہینے تَک پوری طرح سے زیادہ تر دودھ پلایا جائے اَور تمام بچّوں کو اَچھی غذائی خوردنی اشیا دی جائے اَور اُن کو سارے ٹیکے لگائے جا چُکے ہوں۔
دودھ پینا بچّوں کو نیومونِیا اَور دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے۔بچّے کے زندگی میں چھے مہینے تَک دودھ پلایا جانا بہت ہی اہم ہے۔
کسی بھی عمر میں جِس بچّے کو غذائی خوردنی اشیا دی جاتی ہے اُس کے بیمار ہونے یا مرنے کے امکان بہت کم ہو جاتے ہے۔
وٹامن اے نفس سے وابستہ بہت ساری سنگین بیماریوں اَور دیگر بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے اَور تیزی سے صحت مند کرتا ہے۔وٹامن اے ماں کے دودھ میں،لال پام تیل میں،مچھلی،ڈیری مصنوعات،اَنڈا،سنترہ اَور پیلے رنگ‌کے  پھل اَور سبزیاں اَور ہَری پتّےدار سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔
بچّا ایک سال کا ہو جائے اِس سے پہلے ٹیکہ پُورا ہو جانا چاہئے۔تب بچّا خسرہ نامی بیماری سے محفوظ رہے‌گا،جِس کی وجہ سے نیومونِیا یا دیگر نفس متعلق بیماریاں،جِن میں کالی کھانسی اَور تپ دق کی بھی آمیزش ہے،ہو سکتا ہے۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں اہم پیغام 4

بچّے کو اَگر بہت زیادہ زکام ہے تو اُس کو فوراً طبی مدد مِلنی چاہئے۔بچّے کو تپ دق ہو سکتا ہے،جو پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے۔
تپ دق ایک سنگین بیماری ہے جِس سے بچّے کا پھیپھڑا ہمیشہ کے لئے برباد ہو سکتا ہے یا بچّے کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ تپ دق سے حفاظت کرنے میں پریوار ساتھ دے سکتا ہے اَگر وہ اِس بات کی تصدیق کر لیں کہ اُن کے بچّوں کو :
بی۔سی۔جی کا ٹیکہ لگ چُکا ہو جو تپ دق سے حفاظت کرتا ہے
اُن دُوسرے بچّوں سے دور رکھا جا رہا ہے جِس کو تپ دق ہے یا جِس کو خون بھرے بلغم کے ساتھ کھانسی آتی ہے
اَگر صحتی اہلکار تپ دق کے لئے خاص دوائی دیتا ہے،بچّے کو وہ ساری دوائی وقت پر اَور ہدایتوں کے مُطابق اُسی مقدار میں،اُتنے وقت کے لئے دینا بہت ضروری ہے،چاہے بچّا صحت مند ہی کیوں نہ لگے۔

کھانسی،زکام اور زیادہ سنگین بیماریاں اہم پیغام 5

بچّے اَور حاملہ خواتین دونوں کا رابطہ تمباکو یا کھانا پکانے کے دھوئیں سے ہو جائے تو وہ خطرہ کے دائرے میں ہوتے ہیں۔ بچّے اَگر دھوئیں سے بھرے ماحول میں رہیں تو اُن کو نیومونِیا یا سانس سے متعلق دُشواریاں ہو سکتی ہیں۔ پیدائش سے پہلے بھی ایسے اتصال بچّوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ حاملہ خواتین کو تمباکو نوشی نہیں کرنی چاہئے اَور نہ ہی دھوئیں کے رابطہ میں رہنا چاہئے۔

تمباکو کا استعمال اکثر : نوجوانی کے دوران آغاز ہوتا ہے۔اَگر تمباکو سے وابستہ اشتہار اَور تمباکو کے مصنوعات سَستے اَور آسانی سے میسّر ہوں،یا اُن کے آس پاس کے بالِغ اَگر تمباکو نوشی کرتے ہوں تو بہت مُمکِن ہے کہ نوجوان بھی تمباکو نوشی کرنا شروع کر دیں۔نوجوانوں کو تمباکو نوشی چھوڑنے کے لئے پرجوش کیا جانا چاہئے اَور اُن کے دوستوں کو بھی اِس کے خطرات کے بارے میں واقف کرایا جانا چاہئے۔

ماخذ : یونیسیف

2.7
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top