ہوم / صحت / زندگی کے سچ / ٹیکہ کاری
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

ٹیکہ کاری

اِس مضمون میں ٹیکہ کاری کی اطلاع کو بانٹنا اَور اُس پر کاروائی کرنا اہم کیوں ہے کے موضوع میں تفصیل سے معلومات دی گئی ہے۔

ٹیکہ کاری کی اطلاع کو بانٹنا اَور اُس پر کاروائی کرنا اہم کیوں ہے ؟

ہرایک سال 1.7 مِلِین بچّے اُن بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں جِنہیں میسّر ٹیکوں سے روکا جا سکتا تھا۔ جو بچّے ٹیکہ شدہ ہیں وہ اُن خطرناک بیماریوں سے محفوظ ہوتے ہیں،جو اکثر معذوری یا موت کی وجہ بنتی ہیں۔ تمام بچّوں کو اِس حفاظت کا حق ہے۔
ہرایک لڑکی اَور لڑکے کو ٹیکہ شدہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اَور حاملہ خاتون کو خود کو اَور اپنے بچّے کو ٹِٹنس سے بچانے کے لئے ٹیکہ لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ جاننا تمام ماں-باپ کے لئے ضروری ہے کہ کیوں،کب،کہاں اَور کتنی بار بچّے کا ٹیکہ لگوانا چاہئے۔ اُن کو یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ بیمار بچّے یا معذور یا غذائی قلت سے متاثر بچّے کو بھی ٹیکہ لگوانا محفوظ ہوتا ہے۔

ٹیکہ اہم پیغام۔1

ٹیکہ ضروری ہے۔ہر ایک بچّے کو اپنے شروعاتی پہلے سال کے دوران مسلسل ٹیکے لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
زندگی کی شروعات میں بچّوں کی جدرین کاری کروانا ضروری ہوتا ہے۔کُکر کھانسی سے ہونے والی آدھے سے زیادہ اموات،ایک۔تہائی پولِیو کے معاملے اَور خسرے سے ہونے والی تمام اموات کا ایک۔چوتھائی بچّوں میں ایک سال کے اندر ہی ہو جاتا ہے۔
بچوں کو تمام ٹیکے لگوانا بہت ضروری ہوتا ہے نہی تو ہو سکتا ہے کہ ٹیکہ کام نہ کریں۔
زندگی کی شروعات کے پہلے سال کے دوران بچّے کو محفوظ کرنے کے لئے نیچے دئے گئے چارٹ میں دِکھائے گئے ٹیکے لگوانا ضروری ہوتا ہے۔ٹیکہ کاری تب زیادہ موثر ہوتی ہے،جب اُس کو خاص عمر یا جِتنا مُمکِن ہو سکے اُس کے آس پاس کروایا گیا ہو۔
اَگر کِسی وجہ سے کِسی بچّے کو پہلے سال میں پُورے ٹیکے نہیں لگوائے گئے ہوں، تو یہ بےحد اہم ہے کہ جِتنا مُمکِن ہو سکے،اُتنی جلدی خاص قَومی ٹیکہ کاری دنوں پر اُس کی ٹیکہ کاری کروائیں۔
کچھ ممالک میں ضمیمہ ٹیکے کی خوراک جِس کو ' بُسٹر شاٹس ' کہتے ہیں،شروعاتی سال کے بعد دی جاتی ہے۔یہ شاٹس ٹیکے سے حفاظت کو اور زیادہ موثر بناتی ہیں۔

بچّے کے لئے ٹیکہ کاری مدت

پیدائش کے وقت۔ٹیکے جو دئے جانے چاہئے : بی سی جی * *،پولیو اَور کچھ ممالک میں ہیپیٹائٹِس بی کے ٹیکے
6 ہفتے کے ہونے پر جو ٹیکے دئے جانے چاہئے : ڈی پی ٹی * *،پولِیو اَور کچھ ممالک میں ہیپیٹائٹِس بی اَور ہِب کے ٹیکے
10 ہفتے کے ہونے پر جو ٹیکے دئے جانے چاہئے : ڈی پی ٹی،پولِیو اَور چند ممالک میں ہیپیٹائٹِس بی اَور ہِب کے ٹیکے
14 ہفتے کے ہونے پر جو ٹیکے دئے جانے چاہئے : ڈی پی ٹی،پولِیو اَور چند ممالک میں ہیپیٹائٹِس بی اَور ہِب کے ٹیکے
9 مہینے کے ہونے پر جو ٹیکے جو دئے جانے چاہئے : خسرہ (ترقی یافتہ ممالک میں 12۔15 مہینے کے درمیان)اَور کچھ ممالک میں پیلیا،گلسوآ (ممپ)اَور ہَلکا خسرہ کے ٹیکے
* قَومی ٹیکہ کاری مدت الگ۔الگ ممالک میں کچھ آگے۔پیچھے ہو سکتی ہے۔
* * بی سی جی جَذّام اَور ٹی بی کی کچھ شکلوں سے حفاظت فراہم کرتا ہے ؛ ڈی پی ٹی ڈِفتھیرِیا،ککر کھانسی اَور ٹِٹنس سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔

ٹیکہ کاری اہم پیغام۔2

ٹیکہ کاری مختلف سنگین بیماریوں سے حفاظت فراہم کرتا ہے جِس بچّے کی ٹیکہ کاری نہ ہوئی ہو وہ انتہائی بیمار ہو سکتا ہے،مستقل طور پر معذور یا کَم خوراکی کا شِکار اَور مر سکتا ہے۔

ٹیکہ کاری بچپن کی سب سے زیادہ سنگین بیماریوں سے بچّوں کو حفاظت فراہم کرتی ہے۔معذور بچّوں سَمیت تمام بچّوں کو ٹیکہ شدہ کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک بچّہ جِس کو اینجکشن یا دوا پِلائی گئی ہو،ٹیکہ شدہ مانا جاتا ہے۔ٹیکے بیماریوں کے خلاف بچّے کی مزاحمانہ صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔ٹیکہ کاری صرف تبھی کام کرتی ہے جب وہ بیماری کے ہونے سے پہلے دیا گیا ہو۔

جو بچّہ ٹیکہ شدہ نہ ہو،وہ خسرے،ککر کھانسی اَور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے اَور جِس سے اُس کی موت بھی ہو سکتی ہے۔جو بچّے اِن بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کمزور ہو جاتے ہیں اَور وہ اچھی طرح بالیدگی نہیں پاتے یا مستقل طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔اِس وجہ سے ناقص غذا اَور دیگر بیماری اُس کو مار بھی سکتی ہے۔

تمام بچّوں کو خسرے کے خلاف ٹیکہ شدہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے جو غذائی قلت، خراب دماغی بالیدگی اَور سُننے اَور دیکھنے میں عیب کا سبب ہوتا ہے۔دو تین دن یا اُس سے زیادہ دن سے کھانسی کے ساتھ ناک بہنا اَور آنکھیں لال ہونا،بخار اَور دانے خسرے کے علامات ہوتے ہیں۔خسرہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

تمام مقامات پر سبھی بچّوں کو پولِیو کے ٹیکے لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعضأ کا ملائم ہونا یا ہِلنے میں ناقابل ہونا،پولِیو کی اہم علامات ہیں۔جراثیم زدہ ہر 200 بچّوں میں ایک تاعمر کے لئے معذور ہو جاتا ہے۔

ٹِٹنس بيکٹيريا یا جراثیم کٹی ہوئی جگہ پر گندگی کی وجہ سے بڑھتا ہے۔وہ ٹِٹنس کے ٹیکے کے بغیر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

حالتِ حمل سے پہلے یا اُس کے دوران ٹِٹنس ٹاکسِڈ کی کم از کم دو خوراک نہ صرف خاتون،بلکہ اُس کے نوزائیدہ بچے کو اُس کے شروعاتی ہفتے میں ٹِٹنس سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔

چھے ہفتے کا ہونے پر بچّے کو ڈی پی ٹی کی پَہلی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹِٹنس کے متعلق مزاحمانہ صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

اُن ممالک میں جہاں ہیپاٹائٹس بی ایک مسئلہ ہے،وہاں ہر 100 میں سے 10 بچّے اِس کے انفیکشن  سے تاعمر متاثر ہوتے ہیں اَور ٹیکہ شدہ نہیں کروانے کی حالت میں بَڑے ہونے پر اُن کو لِیور کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔

کچھ ممالک میں پیلیا بہت سے بچّوں کی زندگیوں کو خطرے میں رکھتا ہے۔ٹیکہ کاری اِس بیماری کو روک سکتی ہے۔

بہت سے ممالک میں چھوٹے بچّوں کو مارنے والا ہِموفِلس انفلواینزا ٹائپ  بی (ہِب)نمونیہ کی وجہ بنتا ہے۔ہِب جراثیم بال میننجائٹس کا بھی سبب ہو سکتا ہے۔یہ جراثیم بچّوں خاص کر پانچ سال سے کم عمر کے بچّوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ہِب ٹیکہ کاری اِس سے ہونے والی اموات کو روک سکتا ہے۔

ماں کا دودھ اَور کولیسٹروم،گاڑھا پیلا دودھ جو پیدائش کے شروعاتی دنوں میں نِکلتا ہے،نمونیہ،ہیضہ اَور دیگر بیماریوں سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔جب تک بچّا ماں کا دودھ پیتا رہتا ہے تب تک وہ محفوظ رہتا ہے۔

وٹامن اے رتوندھی اَور انفیکشن کے خلاف بچّوں کی مدد کرتا ہے۔وٹامن اے ماں کے دودھ،لیور،مچھلی،دودھ کا ہونا،کچھ سنتری اَور پیلے پھلوں اَور سبزیوں اَور کچھ ہرے پتوں والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔جِن علاقوں میں وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے وہاں چھے مہینے سے زیادہ عمر کے بچّوں کو یوم قَومی ٹیکہ کاری   کے دوران یا ٹیکہ شدہ ہو جانے پر وٹامن اے کی گولیاں یا مادہ دیا جانا چاہئے۔ وٹامن اے خسرے کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیکہ کاری اہم پیغام۔3

کوئی بھی بچّہ جو ہَلکا بیمار،معذور یا کَم خوراکی کا شِکار ہو،اُس کی ٹیکہ کاری کروانا محفوظ ہوتا ہے۔
بچّوں کو ٹیکہ شدہ کروانے کے لئے نہ لانے کی اہم وجہ ہوتی ہے کہ جِس دن ٹیکہ کاری کی جانی ہوتی ہے اُس دن وہ بخار،کھانسی،سردی،ہیضہ یا دیگر بیماریوں سے گھِرے ہوتے ہیں۔ہالانکہ،اَگر بچّہ ہَلکا بیمار ہو تو اُس کو ٹیکہ شدہ کروانا محفوظ ہوتا ہے۔
کبھی۔کبھی جو بچّہ معذور یا کَم خوراکی کا شِکار ہو اُس کی ٹیکہ کاری نہ کروانے کے لئے صحتی کارکن ہی صلاح دیتے ہیں۔یہ صلاح غلط ہے۔معذور یا کَم خوراکی کا شِکار بچّوں کی ٹیکہ کاری کروانا محفوظ ہوتا ہے۔
اینجکشن کے بعد بچّا رو سکتا ہے یا اُس کو بخار،تھوڑا لالی پن یا وہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ یہ عام ہوتا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے پر دودھ پلانا یا بچّے کو کثیر مقدارمیں مادہ یا کھانا کھلوائیں۔اَگر بچّے کو تیز بخار ہو،تو بچّے کو صحتی مرکز لےکر جانا چاہئے۔
کیونکہ کَم خوراکی کے شِکار  بچّے کے لئے خسرہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے،اُن کو خسرے کے خلاف ٹیکہ شدہ کروانا چاہئے،خاص کر اَگر ناقص غذا کی حالت سنگین ہو۔

ٹیکہ کاری اہم پیغام۔4

تمام حاملہ خواتین کا ٹِٹنس سے بچنے کے لئے ٹیکہ شدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اَگر کِسی خاتون سے کچھ وقت پہلے ہی ٹیکہ لگوایا ہو،توبھی اُس کو اضافی ٹِٹنس کے ٹیکے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ٹِٹنس کا ٹیکہ لگوانے اَور صلاح کے لئے صحتی کارکن سے بات کرنی چاہئے۔
دنیا کے بہت سے حصوں میں ماں غیر صِحتی حالات میں بچّے کو جنم دیتی ہیں۔ یہ ماں اَور بچّے دونوں کو ٹِٹنس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے،یہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی اہم وجہ ہوتا ہے۔
اَگر حاملہ خاتون ٹِٹنس سے ٹیکہ شدہ نہیں ہے،تو ٹِٹنس کا بیکٹیریا یا وائرس اُس کے جسم میں داخل ہو کر اُس کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ٹِٹنس بيکٹيريا یا وائرس کٹی ہوئی گَندی جگہ پر بڑھوتری کرتا ہے۔اَگر ناف سے متعلق کارڈ کے آخری سرے کو گَندے چاقو سے کاٹا یا اُس کو گَندے ہاتھوں سے چھُوا گیا ہو تو یہ وائرس بڑھ  سکتا ہے۔کارڈ کو کاٹنے کا کسی بھی طرح کے اوزار کو سب سے پہلے صاف کر اور پھر اُبالا یا آگ پر گرم کر ٹھَنڈا کیا جانا چاہئے۔ پیدائش کے پہلے چھے ہفتوں کے لئے بچّے کی ناف سے متعلق کارڈ کو صاف رکھنا چاہئے۔
تمام حاملہ خواتین کو مطمئن ہونے کے لئے ٹِٹنس کے ٹیکے لگوائے ہیں یا نہیں یہ دیکھ لینا چاہئے۔یہ ماں اَور نوزائیدہ بچہ دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
ٹِٹنس کے خلاف ٹیکہ لگوانا حاملہ خاتون کے لئے محفوظ ہوتا ہے۔اُس کو مدت کے مطابق ٹیکہ کاری کروانا چاہئے۔

ٹِٹنس کے ٹیکے لینے کا وقت

  • پَہلی خوراک : جب بھی اُس کو یہ پتہ چلے کہ وہ حاملہ ہے۔
  • دُوسری خوراک : پَہلی خوراک لینے کے ایک مہینے بعد اَور مقرر تاریخ کے دو ہفتہ بعد سے پہلے،بعد میں نہیں۔
  • تِیسری خوراک : دُوسری خوراک کے 6 سے 12 مہینوں بعد یا اگلی بار حاملہ ہونے کے دوران۔
  • چؤتھی خوراک : تِیسری خوراک کے ایک سال بعد یا حالت حمل کے دوران۔
  • پانچوی خوراک : چؤتھی خوراک کے ایک سال بعد یا حالت حمل کے دوران۔

اَگر ایک لڑکی یا خاتون نے مقرر وقت کے مطابق پانچوں بار ٹیکہ کاری کروائی ہو،تو وہ تاعمر کے لئے محفوظ ہے۔اُس کے بچّے بھی زندگی کے کچھ ہفتوں کے لئے محفوظ ہوں‌گے۔

ٹیکہ کاری اہم پیغام۔5

ہرایک آدمی کو ٹیکہ لگانے کے لئے نئی یا اُبلی ہوئی سوئی اَور سِرِنج ہی استعمال ہونی چاہئے۔لوگوں کو اِس کے لِئے زور دینا چاہئے۔
سوئی یا اوزار جو نَئے یا پوری طرح صاف نہ ہوں،زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔پریوار کے ممبروں کے درمیان بھی ایک ہی سِرِنج اَور سوئی کا استعمال زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی بیماریوں کو پھَیلا سکتا ہے۔
صرف نئی اَور صاف سوئی اَور سِرِنج ہی استعمال میں لائی جانی چاہئے۔

ٹیکہ کاری اہم پیغام۔6

جب لوگ بھیڑ۔بھاڑ والے جگہ میں ہوتے ہیں تو بیماری تیزی سے پھَیل سکتی ہے۔ انتہائی شدتی حالات میں خاص کر مہاجر یا خطرناک ماحول میں رہنے والے تمام بچّوں کو جلد از جلد خاص کر خسرے کا ٹیکے لگوانے چاہئے۔
ہنگامی اَور گھر چھوڑنے جیسی حالات میں اکثر لوگ تَرسیلی بیماریوں کے پھَیلنے کو بڑھا دیتے ہیں۔اس لئے 12 سال سے کم عمر کے تمام مُنْتَقِل شُدَہ بچّوں کا جلد از جلد ٹیکہ کاری کروانا چاہئے،رابطہ اَور انتظام کے پہلے پوائنٹ،خاص کر خسرے کے لئے۔
ہنگامی صورت حال میں ٹیکہ کاری کے لئے استعمال کی جانے والی سِرِنج خود ساکت ہو جائے یعنی اپنےآپ جو ایک بار کے بعد کام نہ کرے۔
خسرہ تب اور زیادہ سنگین ہوتا ہے،جب بچّہ ناقص غذا یا غیر صِحتی ماحول میں رہ رہا ہو۔
چُونکہ،خسرہ بہت تیزی سے پھَیلتا ہے،اس لئے اِس سے متاثر بچّے کو دیگر بچّوں سے الگ رکھنے اَور تربیت یافتہ صحتی کارکن کے ذریعے جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
خسرہ سنگین ہیضہ کا سبب ہو سکتا ہے۔خسرے سے ٹیکہ شدہ بچّے ہیضہ کو روک سکتے ہیں۔
اَگر ٹیکہ کاری کا سلسلہ کِسی وجہ سے ٹُوٹ جائے تو قَومی ہدایات کے مطابق اُس کو پُورا کرنے کے لئے صحتی کارکن سے صلاح مشورہ کرنا چاہئے۔

ماخذ : یونیسیف

2.9
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top