ہوم / صحت / زندگی کے سچ / آفت اَور ہنگامی صورت حال
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

آفت اَور ہنگامی صورت حال

اِس مضمون میں آفت اَور ہنگامی صورت حال کے موضوع میں تفصیل سے معلومات دی گئی ہے۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال کو لےکر اِن اطلاعات کا پھیلاؤ کرنا کیوں ضروری ہے ؟

آفت یا ہنگامی صورت حال میں بچّوں پر جلدی اَور سنگین نتائج ہوتے ہیں،ایسے میں اُن کی مخصوص دیکھ بھال کی جانی چاہئے دنیا کے 2 کروڑ 70 لاکھ مہاجر اَور اپنے مقام سے ہٹائے گئے افراد میں سے 80 فیصدی خواتین اَور بچّے ہیں۔تقریباً 1 ارب آبادی کو 1990 سے 1999 کے بیچ آفات کا شکار ہونا پڑا ہے۔
آفات غریبوں کو کافی ہدتک متاثر کرتی ہے۔مصیبت سے وابستہ 90 فیصدی موت ترقی پذیر ملک میں ہوتی ہے۔ اس دوران دنیا بھر میں 9 کروڑ بچّے یا تو مار ڈالے گئے،زخمی ہوئے یا یتیم ہوئے ہیں یا پھِر تنازعات کے چلتے اپنے ماں باپ سے الگ ہو گئے ہیں۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال اہم پیغام 1

آفت یا ہنگامی صورت حال میں بچّوں کی طرف خاص دھیان دیا جانا چاہئے،خاص کر اُن کی صحت پر۔اِس میں خسرے کا ٹیکہ،صحیح کھانا اَور غذائی خوراک  شامل ہے۔
جب کافی لوگ ساتھ ہوتے ہیں تو ایسی صورت حال میں بیماری کافی جلدی پھَیل سکتی ہے۔ایک ساتھ،گھُٹن بھرے مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچّوں کی جلد از جلد خسرہ کی ٹیکہ کاری کی جانی چاہئے۔اُن کو وٹامن اے کی خوراک بھی دی جانی چاہئے۔
اس طرح کی تمام ٹیکہ کاری ایک بار میں ہی خود ساکت ہو جانے والے سِرِنج کے ذریعے کی جانی چاہئے۔
جب بچّے بَدپَروردَہ ہو یا خراب حالات میں رہ رہے ہوں،ایسی حالت میں خسرہ ہونے کا خدشہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
چُونکہ خسرہ جلدی پھَیلتا ہے،ایسے میں خسرے سے بیمار بچّے کو دیگر بچّوں سے الگ،صحتی اہلکاروں کی دیکھ بھال میں رکھی جانی چاہئے۔اُس کو وٹامن اے کی اضافی خوراک دی جانی چاہئے۔
خسرے کی وجہ سے کافی جلدی ڈائریا ہو جاتا ہے،اس لئے خسرے کا ٹیکہ لگے ہوئے بچّے ڈائریا سے بچے رہتے ہیں۔ساتھ ہی،اُس سے نمونیہ ہونے کا خدشہ بھی کم ہوتا ہے۔
اَگر کِسی بچّے کی پہلے سال میں صحیح ٹیکہ کاری نہیں ہوئی ہے تو ایسے میں جلدازجلد اُس کی ٹیکہ کاری ضروری ہوتی ہے۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال اہم پیغام۔2

ہنگامی صورت حال میں دودھ پلانا انتہائی اہم ہے۔
پریوار کے ممبر،دیگر والدہ اَور صحتی اہلکاروں کے ذریعے دودھ پلوانے والی  والدہ کو یہ اہم معلومات دی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنے بچّے کو پہلے 6 مہینے تَک صرف  اپنے دودھ  پر رکھیں اَور آنے والے 2 سالوں تَک اُس کو اپنا دودھ پلائیں۔چھے مہینے کے بعد،بچّوں کو دودھ پلانے کے علاوہ بھی دیگر غذائی خوراک دی جانی چاہئے۔
خاص کر اُن ماؤں پر دھیان دئے جانے کی ضرورت ہے جو دودھ پلوا رہی ہیں اَور کشیدہ صورت حال سے گُزر رہی ہیں کیونکہ تناؤ کی وجہ سے دودھ پلانے پر اثر پڑتا ہے۔
اُن نَنہیں بچّوں کی طرف بھی خاص دھیان دیا جانا چاہئے جو 6 مہینے سے کم عمر کے ہیں اَور صرف ماں کے دودھ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔
اَگر بچہ کو خوردنی اشیا دینا   ہے،تب اِس کی جانچ صحتی اہلکار کے ذریعے کی جانی چاہئے۔مصنوعی خوراک پر پلنے والے بچّوں کو کافی زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔جب بھی وہ بوتل سے دودھ لے رہے ہوں تو اُن کو اَکیلا نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔اُن کو دودھ وغیرہ مائع مادہ کپ سے پِلانا زیادہ مناسب ہوگا۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال اہم پیغام۔3

تنازعہ وغیرہ کی صورت حال میں یہ سَب سے صحیح ہوگا کہ بچّوں کی دیکھ بھال اُن کے ماں باپ یا پھِر گھر کا کوئی بالِغ کرے۔اِس سے اُن میں تحفظ کا احساس آتا ہے۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال میں،یہ سرکار کا فرض ہے،یا اقوام متحدہ  کے نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اِس بات کا دھیان رکھیں کہ بچّے اُن کے ماں باپ یا سرپرستوں سے الگ نا ہوں۔
اَگر کسی وجہ سے بچّے الگ ہوتے ہیں،تب یہ سرکار یا دیگر نمائندوں کا فرض ہے کہ ایسے بچّوں کا خاص خیال رکھا جائے۔سرکار اَور دیگر نمائندوں کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بچّوں کے ماں باپ کی کھوج کریں اَور اُن کے پاس بچّوں کے بھیجنے کا انتظام کریں۔
ہنگامی صورت حال میں الگ ہوئے بچّوں کو عبوری راحت پہُنچانی ضروری ہے۔جب تک بچّہ اپنے پریوار یا گود لئے ہوئے پریوار تَک نہی پہُنچ جاتا،اُس کی حفاظت اَور دیکھ بھال کرنا سرکار کا فرض ہے۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال اہم پیغام۔4

گھر یا باہر میں ہونے والے تشدد یا تنازعہ بچّوں میں ڈر کی تعمیر کر سکتے ہیں۔جب ایسے حالات پَیدا  ہوتے ہیں،تب بچّوں کی طرف خاص دھیان دینا ضروری ہے۔اُنہیں زیادہ پیار دینا،اُن کے احساسات کو سُننا اَور سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
جب آپ کے اپنے مقام،مادہ آپ کے ساتھ نہیں رہتے یا ڈر کا ماحول ہوتا ہے،تب بالِغ بھی اپنی عادت بھول جاتے ہیں یا خوف زدہ رہتے ہیں۔ایسے میں بچّے بھی ڈر‌ کے سائے میں جیتے ہیں۔
آفت کی صورت حال میں سرپرستوں کے لئے اپنے بچّوں کو محبت اَور حفاظت کا احساس دینا بَڑا مشکل ہوتا ہے۔
کِسی لڑائی یا درد بھرے پرتشدد تجربے کے بعد،یہ مُمکِن ہے کہ بچّوں میں کشیدگی کے اظہار کی علامات دِکھائی دیں۔ کچھ بچّے ایک دم گم سم ہو جاتے ہیں تو کچھ اچانک پرتشدد ہو اُٹھتے ہیں۔کچھ بچّے اپنے ڈر کو دل میں رکھتے ہوئے بھی کافی اچھے طریقے سے برتاؤ کر لیتے ہیں۔مُمکِن ہے کہ بچّے لَمبے چلنے والے تشدد کے عادی ہو جائیں لیکِن یہ بات اُن کو تکلیف ضرور دیتی ہے۔
اَگر بچّوں کو کوئی سمجھنے والا بھی نہ مِلتا تو وہ اور زیادہ دُکھی ہو سکتے ہیں۔
باقاعدہ معمول کے مطابق روزانہ وقت پر اسکول جانا،وقت پر کھانا اَور کھیلنے جیسا باقاعدہ معمول کے مطابق بچّوں کو حفاظت دیتی ہے۔
بچّوں کو دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے بھی اُس کی کشیدگی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ایسا کچھ انتظام کیا جا سکتا ہے کہ مہاجر کیمپوں میں کوئی مقام محفوظ اَور پیغام بھرے کھیلوں کے لئے رکھا جائے جِس سے بغیر کِسی کشیدگی کے تمام متاثر پریواروں کے بچّے وہاں آکر کھیل سکیں۔تصویر سازی اَور کھلونہ کے ساتھ کھیلنا اَور کٹھ پتلیوں کا مظاہرہ بھی بچّوں کو اپنے دل کا ڈر دور کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔اپنے ساتھ ہوئی واردات کو بھُلانے کا،یہ بچّوں کا طریقہ ہوتا ہے۔
بچّوں کو یہ کہنے کے لئے متاثر کیا جانا چاہئے کہ اُن کو کِس چیز کی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے۔اُن کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا جانا چاہئے لیکِن اِس بات کا دَباؤ نہیں بنایا جانا چاہئے۔اُن کو پہلے کچھ سُنایا جائے تو وہ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ اُن کو کیا محسوس ہو رہا ہے۔
3 سے 6 سال کے درمیان کے بچّے کِسی واردات کے جوابدہی کو سمجھتے ہیں۔اِس خیال کے چلتے اُن میں جرم کے جذبات گھر کر سکتی ہے۔اس طرح کے بچّوں کو بالغوں کا ساتھ اَور سہارا چاہئے ہوتا ہے۔
بچّوں کو بار۔بار یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے،اُن کو ڈانٹ یا سزا نہیں دی جانی چاہئے۔اَگر کِسی قربت رشتہ دار کو دور جانا پڑ رہا ہو،تب بچّے کو پہلے سے یہ بات بتائی جانی چاہئے۔بچّے کو بتایا جانا چاہئے کہ وہ آدمی کہاں جا رہا ہے اَور اُس کی غیرموجودگی میں اُس کی دیکھ بھال کون کرنے والا ہے۔
چُونکہ نوخیز ہوتے بچّوں میں کسی بھی جنگ یا آفت کی بہتر سمجھ ہوتی ہے،اُن میں جرم جذبات بلوتی ہوتی ہے کہ وہ اِس واردات کو ہونے سے روک نہیں پائے۔ایسے میں اُن کو سنبھالنا اور بھی مشکل ہو سکتا ہے۔مُمکِن ہے کہ وہ عمومی برتاؤ کر رہے ہوں لیکِن اس طرح کی صورت حال سے اُبَرنا اُن کے لِئے مشکل ہوتا ہے۔نوخیز عمر میں کئی بار انتہائی مشتعل یا ڈِپریشن سے بھرا رویہ دیکھنے کو مِلتا ہے۔وہ افسروں کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں یا نَشِیلی دوائیوں کا استعمال،چوری وغیرہ کر سکتے ہیں یا ایک دم چپ چاپ ہوکر ماحول کے سامنے سپردگی بھی کر سکتے ہیں۔
بچّوں کو نوخیز عمر میں،بالغوں کے ساتھ کی،ضرورت ہوتی ہے۔سماج میں اُنہیں مقام دینا اَور اجتماعی سرگرمیوں میں سرگرم بنانا کافی مدد کر سکتا ہے۔
جو نوخیز اپنے پریوار پر نسبتاً کم انحصار  کرتی ہیں،اُنہیں  اُن کے ہم جماعت،استاد اَور سماج کے ممبر اس طرح کی صورت حال سے اُبرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔نوخیز کو اپنے تجربات کے موضوع میں بولنے اَور اعتماد کرنے لائق بالغوں کے ساتھ اپنے دل کی باتیں کہنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔اُن کو اجتماعی سرگرمیوں میں سرگرم کیا جانا چاہئے۔
اَگر بچّوں کے کشیدہ حالات لَمبے وقت تَک چلتے رہے تو اُن کو ماہر کی صلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔

آفت اَور ہنگامی صورت حال اہم پیغام 5

بارودی سرنگ اَور گولہ بارود انتہائی جوکھم بھرے ہوتے ہیں۔اُن کا اتصال یا اُنہیں پار‌کر جانا خطرناک ہوتا ہے۔ایسے میں بچّوں کے لئے محفوظ کھیلنے کا مقام بنانا ضروری ہے۔ساتھ ہی،اُن کو ہدایت دی جائے کہ وہ کِسی اَنجانی چیز کو نہ چھُوئیں۔
سرنگیں کئی قسم،شکل اَور رنگوں کی ہوتی ہیں۔کھانوں کو زمین کے اندر،پوال میں یا گھاس میں چھُپایا جا سکتا ہے۔جنگ لگی ہوئی کانیں بھلے ہی دِکھائی نہ دیں لیکِن وہ اُتنی ہی خطرناک ہوتی ہیں۔
سرنگیں عام طورپر دِکھائی نہیں دیتی۔جنگی  مشق والے علاقے میں کام کرنے والے لوگوں کو انتہائی حفاظت برتنی ضروری ہے۔سرنگ والے علاقوں کو کھوپڑی یا ہڈیوں کے نشان سے دِکھایا جا سکتا ہے۔کسی کو بھی اِن مقامات پر نہی جانا چاہئے۔
سرنگوں یا گولہ۔بارود کو چھُوا نہیں جانا چاہئے۔کئی بار یہ اوزار زمین کے رابطہ میں آنے پر دھماکہ کرتے ہے۔کئی بار اِن کو کچھ نہیں ہوتا۔پھر بھی،یہ ہمیشہ ہی خطرناک ہوتے ہیں۔کِسی مقام کو جلا دینے سے سرنگوں کو کچھ نہیں بِگڑتا اَور اُس مقام کو محفوظ نہیں کہا جا سکتا
کچھ سُرنگے وزن ہٹانے پر،کچھ کو کھینچنے پر یا کسی کو ہِلانے یا اتصال کرنے پر دھماکہ ہوتا ہے۔کسی کو بھی ایسے مقام پر نہیں جانا چاہئے جہاں اِن کے ہونے کی خدشہ ہو۔جہاں کہیں بھی ایک سرنگ ہوتی ہے،دیگر سرنگوں کے ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔
اَگر سرنگوں کی وجہ سے حادثہ ہوتے ہیں
خون بہاؤ پر اُس کے روکنے تَک صحیح دَباؤ بنائے رکھیں
اَگر خون بہاؤ بند نہیں ہو رہا ہے،تب زخم کے اوپر ایک بندھن باندھ دیں اَور طبی مدد حاصل کریں۔اَگر مدد مِلنے میں دیر ہوتی ہے،تب ہرایک گھنٹے میں بندھن کو کھول‌کر خون بہاؤ کی جانچ کریں۔اَگر خون بہاؤ بند ہو جاتا ہے،تب بندھن کو کھول دیں۔
اَگر بچّہ سانس لے رہا ہے لیکِن بےہوش ہے تو اُس کو ایک سے دُوسری سمت میں دھَکیلیں جِس سے اُس کی زبان کی وجہ سے سانس لینے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔تِجارتی طور پر  یہ مطمئن کر لینا صحیح ہوگا کہ یہ علاقہ محفوظ ہے یا نہیں۔

 

ماخذ : یونیسیف

2.6
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top