ہوم / دیہی توانائی / دیہی ایجادات / زراعت،کھیتی باڑی
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

زراعت،کھیتی باڑی

کاٹن اسٹریپرمشین

موجد:جناب منسکھ بھا ئی پٹیل احمدآباد،گجرات

  1. ایک بہترین اورکارآمدمشین جسکے ذریعہ کپاس کو خول سے علحٰدہ کیاجاتاہے۔
  2. انسانی محنت/مزدوری کے کم ہونے کہ سبب خرچ میں کمی اورعورتوں اوربچوں کی جفاکشی میں کمی ہوتی ہے۔
  3. اسے سوت کاتنے کی ملوں میں کاٹن پری کلیرنرکے طورپربھی استعمال کیاجاسکتاہے یہ خام کپاس سے قبل ازوقت بڑھی ہوئی کاٹن بالس کنکر،پتھر،اوردیگرمتعددگندگیوں کوالگ کرنےکے لئے بھی قابل استعمال ہ
  4. کپاس کی کوالیٹی قدرمیں اضافہ ہوتا ہے اوراسطرح روئی دھنکنے کی قدر میں بھی کافی اضافہ ہوتا ہے۔
  5. درانتی/کنٹہ سے کاٹے کارواج ختم ہوگیا ہے

مزید معلومات کیلے یہاں کلک کریں, یہاں کلک کریں.

چوہوں/کترنے والے جانوروں کے خطرہ سے نپٹنے کا نیا طریقہ چوہے بالخصوص مانسون

کے موسم میں ذراعت کیلے بڑا چیلنج ہوتے ہیں۔.

چوہوں کے خطرہ سے نپٹنے کیلے کسانوں کے اختیارات کردہ دیگر طریقہ کسان ایک
  • پلاسٹک کورکے اندر جوار/باجری کے آٹے اور چوہے مارنے کے زہر کو ملاکر پیٹرکے ٹاپ پر پھینک دیتے۔ اس آمیزہ کو کھانے کے بعد چوہے مرجاتے۔ لیکن مانسون کے دوران یہ زہر اتنا اثر وار ثابت نہیں ہوتا۔.
  • کسان ایک کپڑے میں پسی ہوئی مونگ پھلی، تل، دھنیا اور چوہے مارزہر کاآمیزہ کو کھاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔
  • کسان پیشہ ور چوہے پکڑنے والے افراد کو استعمال کرتے لیکن وہ کافی مہنگے ہوتے ہیں کیونکہ ایک چوہے کے لیے وہ 25تا 30روپئےچارج کرتے ہیں۔

نئی ایجاد کردہ جال کے بارے میںچھ

کرناٹک کے ٹمکور ضلع کے ارون کمار نے ان جانوروں کیلئے ایک ماحولیات دوست جال تیار کیا یہ جال ایک بائنڈنگ تارکو ایک پرانے بامبو کے باسکٹ کے چاروں کونوں پر باندھ کر انہیں ایک واحد پلاسٹک کے دھاگے سے جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ پلاسٹک کا دھاگہ ایک ناریل کے ورق (خراونڈ) سے جڑا ہوتا ہے جسے اوپر اور نیچے کھینچا جاسکتا ہے۔ ایک اسنیپ ٹریپ بامبو باسکٹ کے اندر رکھا جاتا ہے اور ناریل کا ایک کٹا ہوا ٹکڑا اس سے جوڑ دیا جاتا ہے چوہے ناریل کے ٹکڑے کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جال کے اندر مارے جاتے ہیں۔ مرے ہوئے چوہوں کو نکال کر انہیں زمین میں دفنا دیا جاتا ہے۔ اسطرح کے طریقہ سے 3تا 4چوہے پکڑ کر مارے جاسکتے ہیں لیکن یہ مستقل حل نہیں فراہم کرتا کیونکہ مارے گئے چوہوں میں سے ایک بو نکلتی ہے جو دوسرے چوہوں کے لیے آلارم کا کام کرتا ہے تاکہ وہ اس احاطہ میں دوبارہ داخل نہ ہوسکیں اور دوسرے علاقہ میں چلے جائیں۔ کمار کے تیار کردہ جال کی قیمت 30تا35روپئےفی ٹریپ ہے۔.

مآخذ: دی ہندو
2.81818181818
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top