ہوم / دیہی توانائی / توانائی کی بچت / توانائی کی بچت کی اہمیت
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

توانائی کی بچت کی اہمیت

گاندھی جی نے کہا تھا زمین ہر ایک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے لیکن ہر ایک کی لالچ پوری کرے کیلئے کافی نہیں۔ توانائی کی بچت (حفاظت) کیوں ضروری ہے اسکو درج ذیل میں واضح کیا گیا ہے۔
  • ہم توانائی کا استعمال اسکی پیداوری صلاحیت سے زیادہ کرتے ہیں۔ زیادہ استعمال ہونے والے ذرائع،کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس تیاری کیلئے ہزاروں سال لیتے ہیں۔
  • توانائی کے ذرائع محدود ہیں ہندوستان میں دنیا کے 1فیصد توانائی کے ذرائع ہیں لیکن اسکی آبادی دنیا کی آبادی کا 16فیصد ہے۔.
  • زیادہ تر توانائی کے ذرائع جن کا ہم استعمال کرتے ہیں دوبارہ قابل استعمال یا قابل پیداوار نہیں ہوتے ۔ غیر قابل تجدید توانائی کے ذریعہ استعمال ہونے والے ایندھن کا 80فیصد ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے توانائی کے ذرائع مزید 40سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ تک باقی رہیں گے۔
  • ہم توانائی کو بچائیں گے تو ہمارے ملک کا خوب پیسہ بچے گا۔ ہمارے خام تیل کی ضرورت کا 75فیصد درآمد سے پورا ہوتا ہے جسکا تخمینہ 50,000کروڑروپے فی سال ہوتا ہے۔
  • ہم توانائی کی حفاظت کریں گے توہماری دولت بچے گی، تصور کیجیے اگر آپ کا ایل پی جی سلینڈر ایک زائد ہفتہ چلے یا پھر آپ کی بجلی کے بل میں تخفیف ہو۔
  • ہم توانائی کو بچائیں گے تو ہماری قوت بچے گی۔ جب ہم لکڑی کے ایندھن کم استعمال کریں گے، ہمیں لکڑی کے ایندھن کی ضرورت کم ہوئی اسطرح اسکے ذخیرہ کرنے میں لگنے والی طاقت کا کم استعمال ہوگا۔
  • جب ہم ہماری اپنی قوت بچائیں گے تو توانائی پیدا ہوگی۔ جب ہم ایک یونٹ توانائی بچائیں گے یہ 2یونٹ پیدا ہونے والی توانائی کے مساوی ہوگی۔
  • توانائی کے تحفظ سے آلودگی کم ہوگی۔ توانائی کی پیداوار سے بڑے پیمانے پر ہوائی آلودگی ہوتی ہے اور 83فیصد سے زائد گرین ہاوس گیس نکلتی ہے۔

ایک پرانی ہندوستانی کہاوت جو واضح کرتی ہے ہیکہ زمین، پانی اور ہوا ہمارے والدین کا ہمارے لیئے تحفہ نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے بچوں کا قرض ہے ۔ اس لیے توانائی کی بچت کو ہمیں اپنی عادت بنالینا چاہیئے۔

ماخذ: انرجی کنزرویشن مشن حیدرآباد

2.33333333333
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top