ہوم / دیہی توانائی / اچھی سرگرمیاں / شمسی استعمالات (سولار اپلیکیشنس)
شیئر

شمسی استعمالات (سولار اپلیکیشنس)

طویل تجربات اور مشاہدات انسان کی مدد کرتے ہیں، یہ عوام کو نئے اقدامات پر تجربہ کرنے کیلئے ابھارتے ہیں جو ملک کیلئے ممدومعاون ہوتے ہیں اس صفحہ پر شمسی توانائی کے استعمال کے لیے کیئے گئے تجربات ومشاہدات کو نمایاں کیا جائیگا تاکہ سماج کو اس سے مہمیز مل.

جوس کے چھوٹے سے تاجر کی مثال

رام داس نے جب پانڈیچری میں جوس کی دکان شروع کی وہ کافی مثبت سوچ رکھتا تھا حالانکہ اسکا جذبہ اس وقت ٹھنڈا پڑجاتا جب وہ باربار کی لوڈشیڈنگ کے نتیجہ میں بہتر زندگی کیلئے اچھی آمدنی کمانے سے قاصر ہوجاتا وہ آہستہ آہستہ اپنے گراہک کھونے لگا۔لیکن وہ اپنا کاروبار چھوڑ نہیں سکتا تھا کیونکہ اسے اپنے خاند ان کی پرورش بھی کرنی ، اچانک اسکے ایک دوست کے ساتھ بات چیت کے دوران ایک اہم ترکیب اسکے ذہن میں آئی اس نے اپنی ترکیب کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا اور ایسٹ کوسٹ روڈ پانڈیچری میں سولار آلات کی تنصیب کے بعد اسکی جوس کی دکان نے منافع دینا شروع کردیا۔.

ٹمل ناڈو کے چھوٹے سے قصبہ وللاپورم سے تعلق رکھنے والے رام داس نے اپنے نئے کاروبار پر بہت زیادہ سرمایہ نہیں لگایا بجلی سے چلنے والی اشیاء ، فریج، مکسر اور ایک لائٹ جو گاڑی کی چھت پر نصب شدا سولار پینل سے پیدا ہونے والی بجلی سے کارکرد ہوگئے۔.

اسکے مطابق میں ایک چائے کی دکان میں روزانہ کی بنیاد پر نوکری کرتا تھا اسکے بعد میں نے ایک کرایہ کی جگہ پر جوس کی دکان شروع کی اسے ایڈونس رقم چکادی۔ لیکن باربار کی لوڈ شیڈنگ کے سبب اس سے کوئی منافع نہیں مل رہا تھا میں کرایہ ادا کرنے میں بھی مشکل محسوس کررہا تھا۔ رام داس نے اپنے مسئلہ کیلئے حکومت کو موردالزام نہیں ٹہرایا اسکے مطابق منسٹرس اور عہدیداران کو الزام دینا صحیح نہیں ہے ایک طرح سے مجھے حکومت کا شکر گذار ہونا چاہیئے ورنہ سولار پاورجوس شاپ کا خیال میرے ذہن میں نہیں آتا۔ اب میں اوسطاً 1500روپئے فی یوم کماتا ہوں۔ رام داس کی بیوی پاروتی جو اسکے شوہر کی مدد کرتی ہے نے کہا جب ابتدائی دور میں اسے نقصان پہنچا وہ مایوس ہوگیا۔ میں نے اس کی ہمت بڑھائی کہ وہ اپنے بل بوتے پر اسے شروع کرے جسکا اچھا نتیجہ ظاہر ہوا۔”

بیوی کا تعاون

پاروتی صبح سویرے جاگ جاتی ہے اور مارکیٹ سے پھل خرید لاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف پھلوں کو ملاکر تازہ جوس بنانے کی نئی نئی ترکیبیں اسے بتاتی ہے۔ کروادی کپپم تعلقہ کے رامداس کا دعویٰ ہے کہ اس اسٹال کا آئیڈیا اس کا اپنا آئیڈیا ہے اور اس پر عمل آوری فوکس انڈیا نے کی ہے۔

اسکے مطابق میں نے ایڈوانس کے طور پر صرف 20,000روپئے ادا کیئے کمپنی نے بغیر کسی دستاویز کے میرے لیے قرض کا انتظام کیا رام داس کا کہنا ہے کہ سولار پینل گاڑی پر چھت کا کام بھی کرتا ہے اور اسکی صلاحیت1000واٹس سے زائد کی ہے جب فریج بالراست پیدا ہونے والی بجلی پر چلتا ہے اس وقت مکسر اور لائٹ بیٹری سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔

کمپنی کے سیلس منیجر ای کے پرتاب نے بتایا''رام داس کے آئیڈیا کی بنیاد پر ہم نے بہت چھوٹی تجارتوں کیلئے بھی کارٹ/چھکڑا تیار کیا ہے۔ انکے مطابق دکاندار تازہ جوس بنانے کیلئے مکسر۔ گرائنڈر کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ پھل پانی اور دیگر قابل استعمال اشیاء رکھنے کیلئے سولار پاور ڈی سی پر چلنے والا فریج استعمال کرسکتے ہیں یہ نظام برقی سے مکمل طورپر خود مختار ہے پرتاب کے مطابق اسکی فرم ایک جرمن فرم کی برانچ ہے جو اسطرح کی سولار پاور پر چلنے والے فروٹ اسٹال کیلئے تقریباً 1.5لاکھ خرچ کرتی ہے۔

بیداری پیدا کرنے کیلئے

انکے مطابق اس طرح کے اسٹال بنانے کا مقصد عوام میں سولار پاورپروڈکٹ کے متعلق بیداری پیداکرنا ہے۔.

رام داس کہتا ہے کہ یہ گاڑی/چھکڑا اس نے خریدا اور سولار پینل کی تنصیب اور الیکٹریکل کنکشن فوکس انڈیا نے انجام دیئے ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ رام بزنس کے بعد اسکی گاڑی راستہ پر ہی چھوڑ دیتا ہے' اپنے ایک گراہک کو کاک ئیل فروٹ جوس دیتے ہوئےرام داس نے کہا :

''میں کارٹ کو صرف ایک پلاسٹک شیٹ سے ڈھک دیتا ہوں اب تک کسی قسم کی کوئی چوری یا سازوسامان کو نقصان نہیں پہنچا ہے" رام قرض کی ادائیگی کے بعد ایک اور سولار پاورڈ جوس اسٹال شروع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اس نے کہا میں اپنے بقایہ جات ایک سال میں اداکردونگا اسکے بعد میں اسی قسم کی ایک دوسری دکان شروع کرونگا وہ اسکی دکان پر آنے والے گراہکوں میں شمسی توانائی سے متعلق بیداری پیدا کرنے کا کام بھی کرتا ہے پرعزم رام داس کے مطابق اگر کوئی اسمیں دلچسپی رکھتا ہےوہ اسکی مدد کرنے تیار ہے۔رام داس کی اس تخلیق کو دیکھ کر پانڈیچری کے اطراف واکناف کے انٹرپرینرس /تاجرین نے اسطرح کے نئے کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے جہاں شمسی توانائی انکی مدد کرسکتی ہے۔

ایک وقت کی سرمایہ کاری

ایک کامرس گریجویٹ ایس ونود کے بموجب" میں سولار انرجی سے چلنے والی ایک چھوٹی کپڑے کی یونٹ شروع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہوں میں پہلے ہی کمپنی سے اس سلسلہ میں رجوع ہوچکاہوں" سوائے چنائی اور پانڈیچری کے اطراف کے دیگرمقامات بالخصوص دیہی علاقہ کم ازکم 5گھنٹوں پر مشتمل غیر معلنہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں۔.

ماخآخذ:ایس ستیا نارائنہ SESI، 18مئی 2014

بیرفوٹ کالج کی طالبہ دور دراز کے دیہاتوں میں روشنی لے آئی

کملا دیوی راجستھان کی پہلی خاتون تھی جو بیرفوٹ کالج سے سولار انجینئر کی.

حیثیت سے گریجویٹ ہوئی تھی سرکے اطراف اپنی روشن زرد اور نارنگی رنگ کی ساڑی کو اچھی طرح سے لپیٹ کر سنتوش دیوی اپنے گھر کی چھت پر سولار پیانل کو صاف کرنے چڑھ جاتی ہے چمکدار منعکس پینلس جنھیں اس نے بذات خود پچھلے سال نصب کیا تھا اسکے دیہات میں موجود ایک منزلہ مکان کی یہ ایک عام سی کہانی ہے۔ یہ کم قابل توجہ بات نہیں ہے کہ 19سالہ جزوی تعلیم یافتہ خاتون جو راجستھان کے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہے ہندوستان کے سخت ذات پات کے نظام کو توڑتے ہوئے ملک کی پہلی دلت سولار انجینئر بن بیٹھی، بڑھتی عمر کے ساتھ سنتوش اسکے دیہات کے اعلیٰ ذات کے افراد کو نظرانداز کرنے لگی یا انکی موجودگی میں اپنا چہرہ چھپانے لگی۔ آج کل انہیں اسکی مدد کی ضرورت پڑتی ہے وہ کہتی ہے ان کے لیے میں ایک سولار انجینئر ہوں جو ہلکے تنصیبات کو درست کرسکتی یا نصب کرسکتی ہو۔ وہ کہتی ہے نیچے کی جانب زمین کی طرف دیکھتے وقت اعلیٰ ذات کے افراد اسکی آنکھوں میں جھانکتے نظر آتے ہیں میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اسطرح بھی ہوسکتا ہے۔

سولار انجینئر بننے کے لیے سنتوش کی تربیت جے پور سے 100کلومیٹر دور تیلونیہ میں بیر فو ٹ کالج میں انجام پائی۔ دیہی افراد کو ایسی مہارتیں سکھانا جو وہ اپنے دیہاتوں میں بغیر کسی ذات پات، نسل، برادری، عمر اور اسکولنگ کے فرق کے منتقل کرسکے اس مقصد کے تحت 1972میں سنجیت بُنکر رائے نے یہ کالج شروع کیا تھا 8ایکر پر پھیلا ہوا یہ کالج مکمل طور پرشمسی توانائی پر چلتا ہے جسکو سولار انجنیئرس کارکرد کرتے ہیں۔2005جب سے سولار کورس شروع ہوا ہے تقریباً 300سے زائد بیرفوٹ انجینئرس ہندوستان بھرکے 13000مکانوں تک بجلی فراہمی کا کام انجام دے چکے ہیں اسی ماڈل کی طرز پر افغانستان سے یوگانڈا تک تقریباً 24ممالک کے 120سے زائد دیہاتوں میں 6000خاندان اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔

پہنچ سے باہر دور درازکے غیر بجلی والے دیہات ہی سولار پاور کے لیے منتخب کیے گئے ہیں سنتوش کا دلت غلبہ والا دیہات بالاجی کی دھانی ایک ایسا قریہ ہے جو 5ایکر سے زائد جزوی بنجر زمین پر 20کیچڑ کے مکانات پر مشتمل ہے۔وہ غیر متجانس طبقہ ہے 18ویں صدی کے دیہی سیٹ میں بنے مکانات پر مشتمل قصبہ سے الگ کرنے والا ایسا ایک ہی مکان وہاں موجود ہے جو سمنٹ سے بنا ہوا ہے جہاں سنتوش اپنے شوہر لڑکے اور سسرالیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس مکان میں دوبیڈ روم صحن میں دو مٹی کے جھونپڑیاں ایک بکریوں کے لیے اور دوسرا کچن ہے اور تیسرا کمرہ سنتوش کے ورک شاپ کے طورپر کام آتا ہے یہاں وہ سولارلنٹرنس کی درستگی میں روزانہ 6گھنٹہ گذارتی ہے۔ سنتوش نے یہ مکان اس پیسہ سے بنوایا جو اس نے سولار انجینئر کی حیثیت سے کمائے تھے۔ اسی کی بدولت دیہات کے دیگر مکینوں کو بھی اس سولار پاور کی سہولت دستیاب ہے۔ بئیر فوٹ ماڈل کے تحت، وہ ماہانہ فیس اداکرتے ہیں جو کیروسین بیٹریوں لکڑیوں اور موم بتی پر خرچ ہونے والے اخراجات پر مبنی ہوتی ہے۔کچھ رقم سولار انجینئر کی ماہانہ تنخواہ پر خرچ ہوتی ہے جبکہ بقیہ رقم اشیاء اور کل پرزوں کے لیے ادا کی جاتی ہے۔60 سال کی عمر رسیدہ چھوٹی دیوی جو اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتی ہے سنتوش کی پڑوسن ہے وہ اپنے سولار لینٹرن کی تعریف کرتے نہیں تھکتی۔

بجلی کے سبب رات میں بستر لگانا آسان ہوگیا ہے برسات کے موسم کے دوران زہریلے کیڑے مکوڑے اطراف میں گھوما کرتے لیکن اب جبکہ رات کے وقت ہمارے پاس بجلی ہے ہمیں زیادہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان قندیلوں سے ہمیں ہمارے پالتو جانوروں کی حفاظت کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ ہم شام انہیں اپنے گھروں کو واپس لاتے ہیں۔

دیہی ہندوسماج کے رواج کے مطابق خواتین بڑی تعداد میں گھر کے کام کرتی ہیں اور کھیتوں می مزدوری بھی اگرچیکہ سنتوش اب کھیتوں میں کام نہیں کرتی لیکن وہ گھر پر بے انتہا مصروف ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے 17ماہ کے بچے کی نگہداشت نہیں کرتی وہ بکریوں کا دودھ نکالتی جانوروں کو چارہ کھلاتی چھوٹی سی کرانہ کی دکان میں گراہکوں پر توجہ دیتی ہے وہ جو گھر سے چلاتی ہے اور سولار قندیلیوں کی درستگی کا کام کرتی ہے وہ بہت تیز وطرار اور پرعزم ہے پھر وہ قبول کرتی ہے کہ کالج کا پہلادن کافی پریشان کن تھا میں سونچتی تھی کہ میں کبھی بھی کچھ سمجھنے کہ قابل نہیں بنوں گی تنہا رہتے ہوئے مجھے یہ سب خودہی سے کرنا تھا میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ ہم سورج کی روشنی کا استعمال اپنے گھروں کو روشن کرنے کیلئے کرسکیں گے۔ میں بحی اتنی ہی حیرت زدہ تھی جتنے دیگر دیہاتی۔

جب سے وہ بیر فوٹ سولار انجینئر بنی گھر کی آمدنی دوگنی ہوگئی ہے سنتوش کہتی ہے اس سے قبل میں تمام دن کھیتوں پر کام کرتی پھر مجھے واپس لوٹنا ہوتا تاکہ میں رات کا کھانا بناسکوں اسوقت جبکہ دن کی روشنی باقی رہتی مجھے مشکل ہی سے سانس لینے کا موقع ملتا۔ بیرفوٹ کالج میں خواتین سماعت اور یاددہانی کے ذریعہ سیکھی ہیں اس کے لیے وہ کلر کوڈچارٹس کا استعمال کرتی ہیں جوا انہیں وائرس کی ترتیب اور امتزاج یاد کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ 25سال سے زیادہ عمر والی کوئی بھی ناخواندہ خاتون ،جو دوردراز،ناقابل رسائی اور غیر بجلی والے علاقہ سے ہوں اس بین الاقوامی کورس میں داخلہ لے سکتی ہے جس کی تکمیل کے بعد اسے اسکے دیہات لوٹا دیا جاتا ہے، کلاس ایک بڑے مستطیل نما ہال میں ہوتی ہے جہاں درمیان میں ایک بڑا ورک ٹیبل ہوتا ہے جسکے اطراف خواتین اپنے انفرادی کلر شیٹس اور پینلس کے ساتھ بیٹھتی ہیں۔اب بالاجی کی دھانی لوٹتے ہیں سنتوش اپنے چھت سے نیچے اتر آئی اوراپنے خاندان کےلیے خواہشات کو ظاہر کرتی ہے ایک گرائنڈر ایک ٹی وی اور اسکے شوہر کیلئے ایک موٹر بائیک جسے روزانہ اپنے کام کیلئے10کلو میٹر جانا پڑتا ہے۔ اسکی ٹریننگ کے بدولت اسکی ضروریات زندگی کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ چھوٹے چھوٹے آرام اسکی دسترس میں ہیں وہ فخریہ کہتی ہے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنا سب کچھ کرپاوں گی۔

مآخذ :۔دی گارڈنین

سولارائیرڈرانگ پروجکیٹ جس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی

حکومت کیرالا کیلئے حکومت ہند کے نیشنل ریسرچ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے توسط سے پلینئرس انرجی نیٹ ورک کا تنصیب کردہ سولار فش ڈرائنگ سسٹم جو قیلون کے قریب شکتی کولنکارہ ساحل سے قریب واقع ہے اطمینان بخش نتائج کی طرف بڑھ رہا ہے 25لاکھ کے تخمینہ سے قائم کیا گیا یہ سیٹ اپ 90مربع میٹر علاقہ میں پھیلا ہوا ہے جو سولار ائیر کلکٹر ، بائیوماس بیک اپ ہاٹ ائیر جنریٹر اور ایک ری سرکیولیشن اسٹین لیس اسنبل ڈرائیو معہ آٹو میشن فار کنٹرولنگ ڈرائنگ پیرا میٹرس پر مشتمل ہے۔ کشتیوں میں بھرکر ٹرالر کے اندر فی بیچ500کلو گرام مچھلی لوڈ کی جاسکتی ہے جو سکھانے کے لیے 4 تا12گھنٹے وقت لیتی ہے.

سوکھا ہوا پروڈکٹ ہوا بند ہوتا ہے اور ای یو اسٹینڈرڈس کے صحت بخش اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ پروجیکٹ ڈیولپر کے دعویٰ کے مطابق اب تک اس پروجیکٹ سے پہلے ہی سرمایہ کاری کے 45فیصد کی مالی بچت ہوچکی ہے۔ اس کامیابی کے بعد نیشنل فشری ڈیولپمنٹ بورڈ اس پروجکیٹ کو ملک کے دوسرے حصوں تک توسیع دینے پر غور کررہا ہے ہندوستان کا بڑا حصہ ساحلی علاقہ ہے اور ساحلی کنارہ تقریباً18000 کلو میٹر پرمشتمل ہے جہاں ماہی گیری اہم سرگرمی ہے حکومت اومان بھی کیرالا کی ریاستی حکومت سے اسی طرح کے تنصیبات انکے اپنے ملک میں نصب کرنے پر گفت وشنید میں مصروف ہے۔ مزید معلومات کیلئے وزٹ کیجیے http://www.nrdcindia.com

کمیونٹی چارجنگ اسٹیشن

نارائن پور دیہات میں شیڈول ٹرائب ذات کے 16گھرانے ہیں جو بغیر کسی بجلی کنکشن کے ہیں ان کے گھروں کی بجلی کا ذریعہ کیروسین ہے جس کی قیمت 30 روپئےفی لیٹر سے لیکر40 روپئے فی لیٹر ہے اور اسکی بجلی کی قوت صرف 10لیومن ہے ہر گھرانے کو ایک سولار لالٹین دی گئی ہے اور دیہات میں 60واٹ سولار پینل کے ساتھ ایک کمیونٹی سولار لالٹین چارجنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے 2سرکٹ باکس مہیا کرائے گئے ہیں تاکہ 16لالٹین ایک ہی وقت میں راست چار.

ماحولیاتی اثرات

گھرانوں میں عام طورپر روشنی کیلئے کیروسین لالٹین استعمال کیئے جاتے ہیں اور ان لالٹین میں کیروسین کی کھپت ماہانہ 2 تا2.5لیٹر ہے۔ حالانکہ سولار لالٹین کی کوالٹی اور روشنی پھیلانے کی صلاحیت کیروسین لالٹین کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے لیکن روشنی کی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے مختلف مقامات پر ایک کیروسین لالٹین کی جگہ ایک سولار لالٹین فراہم کی گئی ہے۔

  • اسی لیے فی ماہ خاندن کی جانب سے کیروسین کی بچت 2 تا2.5 لیٹر.
  • ایک لیٹر کیروسین کے جلنے کے نتیجہ میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ 2.5کلو گرام.
  • ۔ 16 خاندانوں میں ہر سال کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمیcarban credit، 960 تا 1200کلو گرام اب ہرلمپ کے پیچھے ہر ماہ 70 تا80 روپئے بچت.
  • ہورہی ہے۔ پورے سسٹم کی دیکھ بھال اور توانائی سے متعلق مستقبل کے سماجی اسیٹ (خصوصاً سولار روشنی) کے طورپر کمیونٹی ہر ماہ فی خاندان 25 روپئے بچانے پر رضا مند ہوگئی ہے۔

    سماجی اثرات:

    سولار لالٹین کی روشنی کی کوالیٹی ، کیروسین لالٹین کے مقابلے قدرے بہتر ہے بالخصوص تعلیم /مطالعہ کے کام کیلئے کمیونٹی نے دیہات میں شام کا کوچنگ سنٹر بھی شروع کردیا ہے جس سے دیہات میں تعلیمی سطح میں یقیناً اضافہ ہوگا۔ ان لالٹین کی وجہ سے ہر خاندان کا کیروسین کا ڈیمانڈ بھی کم ہوا ہے جسکی وجہ سے یہ بات یقینی ہوتی ہے کہ کسی گھرانے کو اب کھلے مارکٹ سے کیروسین خریدنا نہیں پڑرہا ہے کمیونٹی چارجنگ اسٹیشن نارائن پور اب ان کی ضروریات کیلئے کافی ہوسکتا ہے اس سسٹم کے کامیاب کارکرد ہونے سے کمیونٹی کے درمیان تعاون یقینی طورپر بڑھے گا اور کمیونٹی کے معاشی ذرائع GHG امیٹنگ وسائل (کیروسین) سے بدل کر اب زیادہ ماحول دوست ذرائع (سولار) کی طرف منتقل ہونگے۔.

    معاشی بیلنس شیٹ

    DRCSC کا حصہ /خرچ
    • 2سولا پینل کی قیمت9000}فی پینل}۔18000/-
    • سولار پینل کی تنصیب کیلئے فریم کی قیمت۔ 1500/-
    • متعدد سولار پینل کی چارجنگ کیلئے سرکٹ باکس اور وائر کی قیمت۔ 1500/-
    • 16لالٹین کی قیمت {فی لالٹین 900/-}۔ 14400/-
    • کلکتہ سے نارائن پور لانے کیلئے 16لالٹین کا خرچ 6000/-
    • DRCSC کا مجموعی خرچ 41,4001/-
    کمیونٹی کا حصہ/خرچ
    • ایک منزلہ عمارت کی چھت پر 3سولار پینلس کی تنصیب کا خرچ 4مزدور 50 × 200
    • Pھت پر اسٹرکچر کی تنصیب کی مزدوری اور لگنے والا میٹرئل 500
    • سولار پینل کے لوہے کہ حصہ کی پینٹگ کا خرچ 100

    مآخذ:۔ ۔ DRCSC نیوزز لیٹر، ایشو 6

    صاف ہرا بھرا اور روشن

    جنوبی ہندوستانی ریاست کرناٹک کے دور درازکیبی گیرا دیہات میں ہریالی کافی جاذب نظر اور واضح ہے اس دیہات کی جو چیز نظر نہیں آتی وہ ہے کہ یہاں کی گرام پنچایت ہندوستانی پہلی گرام پنچایت ہے جو پاور گرڈ کو بجلی فروخت کرتی ہے کبسبگیرا گرام پنچایت، بنگلور الکٹریسٹی سپلاءی کمپنی کو 2.85per kwhنرخ پر ذاتی طورپر چلاےجارہے بائیو ماس اور پلانٹ سے تیار ہورہی بجلی فروخت کرتی ہے یہ پہلا اقدام یواین ڈی پی زیر قیادت پروجیکٹ دی بائیو ماس انرجی فار رورل ائیریا کا نتیجہ ہے جو گلوبل انوارنمنٹ فیسیلٹی، دی انڈیا کنڑا انوارنمنٹ فیسیلٹی، اور حکومت کرناٹک کے محکمہ دیہی ترقیات اور پنچایتی راج کا مشترکہ پروجیکٹ ہے مقامی پیداشدہ بائیو ماس سے250 ،250اور 500 کلو واٹ صلاحیت کے 3چھوٹے پاور پلانٹس چلائے جارہے ہیں جہاں7 200 سے 400000kwh بجلی پیدا کی جاچکی ہے یہ 6000 دیہی گھرانوں کے سالانہ استعمال کے برابر ہے اور یہ علاقہ میں سب سے زیادہ بھروسہ مند بجلی سپلائی کو یقینی بنانے میں مدد کرتی ہے زائد بجلی پیداوار کے علاوہ یہ ایک زیادہ ماحول دوست نظام ہے۔ بائیو ماس سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی طورپر بڑھنے ہونے یوکلپٹس اور دیگر درختوں اور انکی بڑھتی ہوئی طلب سے علاقہ مزید سرسبز ہوگیا ہے ۔

    کببگیرے کی دیہات کمیٹی کے صدر سداگن کما کے مطابق بعض وقت یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارے اطراف میں کتنی تبدیلیاں آئی ہیں، یہاں ہمارے اطراف بہت زیادہ سرسبزی ہے بجلی بہت زیادہ مستقل ہوگءی ہے اور کھانا پکانے کے لیے ہمیں زیادہ صاف ایندھن فراہم ہے 25 سالہ رنگما کیلئے یہ تبدیلی اسکے شوہر کے ساتھ زیادہ وقت گذارنے کا موقع دیتی ہے۔ مسکراتی رنگما کہتی ہے میں اب گھر والوں کے لیے کھانا بنانا پسندکرتی ہوں کیونکہ اب دھوئیں سے میرا گلا نہیں گھنٹتا۔ ماحولیاتی فوائد کے علاوہ پروجیکٹ کے ذریعہ اب مالی فوائد بھی کافی بہترہیں۔ پروجیکٹ کے حصہ کے طور پر 51گروپ بائیو گیس /گوبر گیس پلانٹس لگائے گئے ہیں۔

    جس سے 175 گھرانے صاف ایندھن سے کھانا پکاتے ہیں بغیر کسی قیمت میں اضافہ کہ مشاہداتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی اس سے پیدا شدہ بجلی سے دیہات میں کھدائی گئی 130 بورویل بھی کارکرد ہیں جس میں فی بورویل 5گھرانے شراکت کرتے ہیں۔ اس سے دیہات کی زراعت کیلئے پانی کی بھی ضرورت بھی پوری ہوئی ہے۔

    ایک پروجیکٹ آفیسر کے مطابق اس سے کبیر گہری کے گھرانوں کی آمدنی میں بھی 20فیصد اضافہ ہوا ہے مقامی افراد کو پاور پلانٹ میں ملازمت دے کر انہیں پابندی سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں تربیت فراہم کرنے کا نتیجہ میں ماہر کاریگروں کی تیاری اور ملازمت کہ مواقعوں میں کافی بہتری آئی ہے۔ اسکے علاوہ بائیو گیس پلانٹس، سیلف ہیلپ گروپس کی قائم کردہ 810 نرسریوں سے ایندھن کیلئے فضلہ حاصل کرتے ہیں جس سے پچھڑے ہوئے طبقات کی خواتین کیلئے آمدنی کے ذرائع پیدا ہوئے ہیں۔

    قابل تجدید توانائی کے ذریعہ دیہات کی بجلی کی ضروریات کی تکمیل اور کھانا پکانے اور زراعت کی تکنیک میں ترقی سے واضح طورپر ماحولیات برقرار رہنے والی ترقی کیلئے استعداد پر روشنی پڑتی ہے۔

    مآخذ:۔ UNDP

    زندگیوں میں روشنی

    انامیکا کو انگریزی پڑھنے سے پیار ہے اور وہ ایک دن ڈاکٹر بننا چاہتی ہے انامیکا کہتی ہے روشنی کافی ضروری ہے تاکہ میں اور زیادہ اسٹڈی کرسکوں یہاں بجلی کے کئی ایک مسائل ہیں حال ہی میں یہاں 2 یا 3 یوم پہلے بجلی نہیں تھی اگر ہمارے پاس لیمپ ہوں وہ رات میں کام کرسکیں گے مجھے اسٹڈی کیلئے زیادہ وقت ملیگا۔ریاست اترپردیش میں کل 454، KGBr ہیں جن میں سے 376 گورنمنٹ چلاتی ہیں اور 78 متعدد غیر سرکاری تنظیمیں۔ 2009 میں 37000

    سے زائد لڑکیاں اس پروگرام کیلئے انرول ہوئی۔ پچھلے ماہ IKEA سماجی اقدام کے ذریعہ عطیہ کردہ 100 سولار پاورSUNNAN لیمپ اسکول آنےوالی ہر ایک لڑکی کیلئے کافی تھے۔ .

    “روشن بنیادی رنگوں والے ان لیمپس کو طلباء نے اضطرابی حالت میں قبول کیا انہیں کھولا، دوبارہ پیک کیا اور ہنسنے مسکرانے اور قہقہہ لگانے لگے کشورا کہتی ہے عام طورپر رات میں لڑکیاں صرف وقت گذاراکرتی ہیں اب ہر ایک کو علحٰدہ لیمپ مل گیا اس لیے اب وہ اپنی چاہت کے مطابق اسٹڈی کے وقت کو مینیج کرپائیں گے۔

    یہ ایک مکمل دیہاتی علاقہ ہے اور بجلی 2 تا4دن دستیاب نہیں رہتی یہ لیمپ ہماری لڑکیوں کیلئے کافی فائدہ مند ہیں یہ لڑکیاں کافی باہمت ہیں اور وہ دن کی طرح ہی رات میں اسٹڈی کرنا چاہتی ہیں وہ ہمارے اسکول آئیں اور وہ اب کافی بڑی ہوگئیں۔.

    IKEA اسٹورس فروخت ہونے والے ہر ایک SUNNAN سولار پاورڈ لیمپ کے ساتھ دوسرا لیمپ یونیسیف کو دیا جائیگا تاکہ وہ بچوں کی زندگیوں میں روشنی لاسکے جہاں بجلی تک رسائی نہیں ہے۔ ۔IKEA نے ترقی پذیر دنیا کیلئے خصوصی اسٹڈی SUNNAN تیار کیئے یہ لیمپ مشکل زندگی کے حالات میں ٹوٹ پھوٹ سہنے کے قابل بنائے گئے جس میں ایک بیٹری شامل ہے جو اونچےدرجہ حرارت کو برداشت کرسکتی ہے۔ UPکے 6,494اسکولوں اور خواتین کے تعلیمی گروپوں میں 66740، SUNNAN لیمپ تقسیم کیئے گئے، مزید 24720لیمپ راجستھان مہاراشٹرا، آندھراپردیش اور گجرات میں تقسیم کیئے گئےمنتاشاہ خوش دلی سے کہتے ہیں جب وہاں روشنی ہوتی، وہ چمکدار ہوتی ہے اور میں اسے پسند کرتی ہوں اور جب وہاں روشنی نہیں ہوتی ہم ڈنر کے بعد بہت جلدی بستر پر چلے جاتے ہیں اور جلدی اٹھ بیٹھتے ہیں۔ اب رات میں میں اسٹڈی کرسکتی ہوں

    Photo essay on "Lighting up lives with IKEA SUNNAN lamps"

    2.3
    Back to top