অসমীয়া   বাংলা   बोड़ो   डोगरी   ગુજરાતી   ಕನ್ನಡ   كأشُر   कोंकणी   संथाली   মনিপুরি   नेपाली   ଓରିୟା   ਪੰਜਾਬੀ   संस्कृत   தமிழ்  తెలుగు   ردو

قومی زعفران مشن کے تحت جموں وکشمیر زعفرانی سیکٹر

قومی زعفران مشن کے تحت جموں وکشمیر زعفرانی سیکٹر کا اقتصادی بقا جاری کردہ:

ڈائیریکٹوریٹ آف ایگریکلچر کشمیر لال منڈی سرینگر منصوبہ:جموں وکشمیر کے زعفران سیکٹرکا اقتصادی بقا

ریاست میں زعفران کی پیداوار کے تحت کم جغرافیائی رقبہ اراضی بہم ہے۔ روائتی طورزعفران کی گوناگوں افادیت پکوان کے طور پر طریقوں، ادویات کی حسن وخوبی اور تہذیبی وراثت میں مانی جاچکی ہے۔ یہاں تک کہ اہم مذہبی مراسم میں زعفران کا استعمال مسلمہ امر ہے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ کم جغرافیائی رقبہ اراضی ہونے کی وجہ سے پیداورای صلاحیت میں نہایت ہی کمی وقوع پذیر تھی اور بعد فعل کٹائی کا بھی کوئی خاطرخواہ طریقہ موجود نہیں تھا۔ ان دووجوہ کی بناپر زعفران انڈسٹری مطلوب اہداف کو چھونہ سکی۔ اس منصوبے کے ذریعے بہت سارے ایسے ذمہ داراسباب وعلل کی نشاندہی کی گئی جو نہ صرف زعفران کی پیداواری صلاحیت میں بڈھوتری واقع کرے بلکہ ان تمام سائنسی طور طریقوں کو اپنا کر متعلقہ کسان حضرات عالمی بازار میں ریاستی کیسر[زعفران] کی شان رفتہ بحال کرنے میں سفل ہوں۔ جموں وکشمیر کے اس زعفران سیکٹر کی بقا کے لئے درج ذیل اہداف طے کئے گئے۔

  • مٹی کی صحت برقراررکھنے کے لئے ازسرنومربوط غذائی نظام، بیماریوں کا مربوط بچاو نظام اور مربوط آبپاشی نظام عملایا گیا۔.
  • بعدزعفران حصولگی نئے بعد فصل انتظامی طور طریقوں کی ترویج عمل میں لائی گئی۔.
  • میکانکی طرز کاشت کو وضع کیا گیا۔
  • کوآلٹی جانچ اور بازارکاری عمل میں لائی گئی۔.
  • زعفران کے تحت پیداواری ایکشن پلان مرتب کیا گیا۔.
  • موسمیاتی پیش گوئیوں اور بازاری نرخوں کے تحت واقفیت عامہ کے حصول کے تحت SMSسروس رائج کی گئی۔.
  • گریڈنگ، پیکیجنگ اور دیگر متعلقہ سبھی طریقے کئے گئے جن کو عملاکرمطلوب ترقی کے مدارج طے کرنے میں آسانی ہوسکے۔.

زعفرانی منصوبے کو عملانے کے لئے سال ۲۰۱۰ء سے شروع کرکے گنٹھیوں کا رقبہ اراضی، حصول، انتخاب اور بوائی بحساب۵/میٹرک ٹن فی ہیکڑ اور مالی ضروریات کاخاکہ کھینچا گیا تاکہ منصوبہ بند طریقے کے ساتھ یک جُٹ ہوکر مرکزی سرکارکی طرف سے اجراشدہ مالی امداد سے وہ تمام نشانے پورے کئے جاسکیں۔ اس منصوبے کو صحیح سمت میں چلانے کے لئے پچھلے ۴/سال سے کاوشیں روبہ عمل ہیں اور ہنوز ترقی کے منازل طے کرنے میں کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کیا جاچکا ہے۔

کس چیز کی حصولگی؟

 

نمبر شمار

سال

رقبہ اراضی[ہیکڑ]

گنٹھیوں کا حصول/انتخاب / بوائی بحساب ۵/ میٹرک ٹن فی ہیکڑ

مالی ضروریات روپے/لاکھ بحساب 6.75/لاکھ فی ہیکڑ

مرکزی سرکارکار حصہ

۱/

2010-11

۔۔۔

۔۔۔

۔۔۔

۔۔۔

۲/

2011-12

1520

7600

10260

7695.0

۳/

2012-13

1150

5750

7762.5

5821.87

۴۔

2013-14

1045

5225

7053.75

5290.31

 

کل رقبہ

3715

18575

25076.25

18807.18

Last Modified : 4/9/2020



© C–DAC.All content appearing on the vikaspedia portal is through collaborative effort of vikaspedia and its partners.We encourage you to use and share the content in a respectful and fair manner. Please leave all source links intact and adhere to applicable copyright and intellectual property guidelines and laws.
English to Hindi Transliterate