ہوم / زراعت / لائیوسٹاک / خرگوش فارمنگ
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

خرگوش فارمنگ

خرگوش فارمنگ کا تعارف

خرگوش فارمنگ کیوں؟

  • کم سرمایہ کاری، گھرکے پچھواڑے کا احاطہ بھی آمدنی کے حصول کیلے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  • باورچی خانہ کی فاضل سبزی ترکاریوں کا معیاری حیوانی پروٹین میں تبادلہ
  • گوشت کی پیداوار کے علاوہ فرکے حصول کے لیے پالاجاسکتا ہے۔
  • خاتون خانہ کیلے اضافی آمدنی

خرگوش فارمنگ کن کیلے؟

  • بے زمین کاشتکاروں، غیر تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کو خرگوش فارمنگ کے ذریعہ جزوقتی کام کے ذریعہ اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔

خرگوش فارمنگ کے فوائد

  • خرگوش پالن کے ذریعہ اپنے خود کے خاندان کیلے تغذیہ سے بھرپور گوشت حاصل کیا جاسکتا ہے۔
  • بہ آسانی دستیاب گھروں میں دستیاب/پتوں/فاضل سنہری ترکاریوں گھرمیں اناج خرگوشوں کو کھلایا جاسکتا ہے۔
  • برائلر خرگوشوں میں افزائش کی شرح کافی زیادہ ہے۔ وہ 3 ماہ کی عمر میں دوکلووزن حاصل کرلیتے ہیں
  • خرگوش میں پیدائش کی شرح پیدا ئش کافی زیادہ ہے (تقریباً 8تا 12 )
  • دیگر گوشت کے مقابلہ میں خرگوش کے گوشت میں ہائی پروٹین 5%) اور کم چربی (8%) ہوتی ہے۔ لہذا یہ گوشت بچوں سے لیکر بڑوں تک تمام عمر کے افراد کے لیے موزوں ہے۔

خرگوشوں کی نسلیں

زیادہ وزن والے نسلیں ( 4تا 6کلو)

  • وہائٹ جائینٹ
  • گرے جائینٹ
  • فلیمش جائینٹ

درمیانی وزن کی نسلیں (3تا4)

  • نیوزی لینڈ وہائٹ
  • نیوزی لینڈریڈ
  • کیلیفورنیہ

کم وزن کی نسلیں (تا 3کلو)

  • سویت چنچلا
  • ڈچ

سویت چنچلا

Soviet_Chincilla.JPG

وہائٹ جائنٹ

White_Giant.JPG

خرگوش پالنے کی طریقہ

ڈیپ لٹر سسٹم

  • کم تعداد میں خرگوش پالنے کیلے یہ نظام موزوں ہے۔
  • فرش پر 4تا6انچ تک دھان کی بھوسی دھان کے تنکے پالکڑی کا برادہ جیسے کوڑا کرکٹ بچھائے جاتے ہیں۔
  • خرگوشوں کو فرش میں بل بنانے سے روکنے کیلے فرش پرکانکریٹ کیا جانا چاہیے۔
  • ڈیپ لیٹرسسٹم 30 سے زائد خرگوش پالنے کیلے موزوں نہیں ہے۔
  • ڈیپ لیٹر سسٹم میں چھوٹے خرگوشوں کا انتظام وانصرام کافی مشکل کام ہے۔

کیج سسٹم (پنجرہ کا سسٹم)

  • نوجوان مرد خرگوش ۔ 4 مربع فٹ، ڈیم ۔ 5 مربع فٹ، چھوٹے خرگوش۔ 1.5 مربع فٹ
  • پنجرہ کا حدود اربعہ۔ لمبائی کم زیادہ ہوسکتی ہے لیکن اونچائی اور چوڑائی 1.5 فٹ ہونی چاہیے۔
  • پنجروں کا نچلا حصہ اور بازووںکا حصہ 1.5x1.5 انچ کا ویلڈنگ کیا ہوا ہونا چاہیے۔ اسکے ذریعہ چھوٹے خرگوش کو پنجرہ سے باہر آنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

درکار احاطہ

نوجوان (بڑا ) مرد خرگوش- 4 مربع فٹ

Dam 5 -مربع فٹ

چھوٹا خرگوش - 1.5فٹ

اونچائی 1.5فٹ

اوپر کے سائزکا پنجرہ 3 ماہ کی عمر تک کے 4تا5 خرگوشوں کیلئے موزوں ہوتا ہے۔

بچہ دینے کیلے پنجرہ

بڑھتے ہوئے خرگوشوں کیلے مناسب پنجرہ کےحجم کے برابر بچہ دینے کیلئے لگنے والے پنجرہ کافی ہوتا ہے لیکن اسکے نچلے حصہ اور سائیڈ کے حصہ پرویلڈنگ کی ہوئی جالی ہونی چاہیے جو 1.5٭1.5انچ کی ہو اس سے خرگوش کے چھوٹے بچہ پنجرہ سے باہر آنے سے محفوط رہتے ہیں۔

نیسٹ باکس (جالی دار باکس)

پیدائش (بچہ دینے کے دوران) محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنے کیلئے سیٹ ماکس ضروری ہے یہ لوہے یا لکڑی کا بنایا جاسکتا ہے نیسٹ باکس کاحجم اسطرح کا ہونا چاہیے کہ اندرونی حصہ بچہ دینے کا پنجرہ ہو

نیسٹ باکس کا حجم

لمبائی - 22انچ

چوڑائی- 12انچ

اونچائی- 12انچ

یہ باکس اسطرح بنایا جاتا ہے کہ یہ اوپری جانب کھل سکے اسکا نچلاحصہ 1.5X1.5 سائز کے ویلڈنگ شدہ جالی کا ہونا چاہیے۔15 سنٹی میٹر قطر کا ایک دائروی سوراخ ، پنجرہ کے لمبائی والے حصہ میں ایسا ہوکہ وہ نچلے حصہ میں 10 سم اونچائی پر ہو یہ سوراخ Dam کو پنجرہ سے ٹیسٹ باکس میں آنے جانے میں مدد کرتا ہے۔ سطح سے 10 سم پر دائروی سوراخ، خرگوش کے نوزائیدہ بچوں کو نیسٹ باکس سے باہر آنے سے روکتے ہیں۔

گھروں کے پچھواڑے خرگوش پالنے کیلے پنجرے

گھروں کے پچھواڑے میں خرگوش پالنے کیلے بنائے جانے والے پنجرہ فرش کی سطح سے 3تا 4 پر تعمیر کیے جانے چاہیے۔ پنجرہ کا نچلا حصہ واٹرپروف ہونا چاہیے۔

غذا اور پانی کے حوض

عموماً غذا اور پانی کے حوض جستی لوہے کے بنائے جاتے ہیں، jکی شکل میں تیار کردہ حوض عموماً پنجرہ کے باہر نصب کیے جاتے ہیں۔ غذا کا نقصان کم کرنے کے مقصد سے غذا اور پانی کپ میں بھی فراہم کیے جاسکتے ہیں۔

J۔کی شکل کے غذا کے حوض

J_type_feeder.jpg

پانی پلانے کے طریقہ

drinker_cup.jpg

کھانا کھلانے کا مینجمنٹ (انتظام)

  • جوار، باجرہ اور پھلیاں
  • ہری گھاس {چارا} جیسے لوسن، اگاتھی وغیرہ
  • کچن کے فاضل اشیاء جیسے گاجر اور گوبھی کے پتہ اور دیگر سبزی ترکاریوں کے فاضل حصہ
  • دالوں کی شکل میں ارتکازی غذائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ اگر دانہ دار غذا دستیاب نہیں ہے ارتکازی غذائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ اگر دانہ دار غذا دستیاب نہیں ہے ارتکازی غذا پانی میں ملاکر انکے چھوٹے چھوٹے بال بناکر خرگوشوں کو دی جاسکتی ہے۔

خرگوش کی قسم

تقریباً جسم کا وزن

فی یوم غذا کی مقدار

ارتکازی غذا

سبزچارہ

بڑا نرخرگوش

4تا5 کلو

100

250

بڑا مونث خرگوش

4تا5 کلو

100

300

حاملہ خرگوش

4تا5 کلو

150

150

چھوٹے خرگوش

0.6تا0.7 کلو

50تا75

150

ارتکازی غذائی آمیزہ کا نمونہ

اجزاء

مقدار

پھٹی ہوئی مکئی

30فیصد

پسی ہوئی باجرہ

30فیصد

گیہوں کا برادہ

25فیصد

منرل آمیزہ

1.5فیصد

نمک

0.5فیصد

خرگوشوں کا بریڈنگ (افزئشی) مینجمنٹ

  • خرگوش کی بریڈنگ عمر نر ایک سال ،مادہ چھے ماہ
  • زیادہ لٹر سائز سے منتخب کیا جاتا ہے۔
  • صحت مند ہو اور کوٹ، صاف، نرم اور چمکدار ہو۔
  • نرکو دوبہترین خصیے ہوں
  • اگر مادہ خرگوش گرمی میں ہو تب وہ نرخرگوش کو قریب آنے دیتی ہے ورنہ وہ کارنر پر چلی جاتی ہے اور نرخرگوش پر حملہ کرتی ہے۔
  • نر مادہ کا تناسب 1:10 ہو
  • زمانہ حمل 28 تا 31 یوم
  • بریڈنگ کے 12 تا 14 یوم کے بعد مادہ خرگوش کے پیٹ کا لمسی مائنہ کرکے حمل کی شناخت کی جاتی ہے پچھلے پیروں کے درمیان پیٹ کے حصہ کو چھوکر دیکھنا چاہیے۔ اگر انگلیوں کے درمیان خرگوش کے پیٹ کے حصہ میں گولائی والاحصہ محسوس ہو تب خرگوش حمل سے ہے۔
  • اگر ایک مادہ خرگوش 3 مسلسل میٹنگ کے بعد بھی حاملہ نہیں ہوتی ہے تب اسے نکال دینا چاہیے اور فارم سے الگ کردینا چاہیے۔
  • میٹنگ کے 25 ویں دن، حاملہ خرگوش کو کنڈلنگ کیج میں منتقل کردینا چاہیئے۔
  • ٹیسٹ باکس میں پیڈنگ میٹرئیل کے طور پر سوکھا ناریل کافائبریا دھان خورا رکھنا چاہیے۔ حاملہ خرگوش پیٹ کے بال اکھاڑتی ہے اور بچہ دینے سے ایک یا دوروز قبل بچہ کیلے گھونسلہ بناتی ہے۔

کینڈلنگ مینجمنٹ

  • حمل کے 28 دن ، نیسٹ باکس رکھا جانا چاہیے۔
  • عموماً پیدائش علیٰ الصبح واقع ہوتی ہے۔ 15تا20 منٹ کے وقفہ میں پیدائش ہوجاتی ہے۔
  • اس وقفہ کے دوران خرگوش کو چھیڑنا نہیں چاہیے اور باہر سے کسی فرد کو کنڈلنگ کیج کے قریب آنے نہیں دینا چاہیے۔
  • پیدائش کے فوری بعد مادہ اپنے خود کے فرسے گھونسلہ بناتی ہے
  • اوسطاً 8 بچہ پیدا ہوتے ہیں۔
  • پیدائش کے دوران نئے پیدا شدہ خرگوش کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور انکے جسم پر بال نہیں ہوتے تمام نئے پیدا شدہ بچے نیسٹ باکس میں بچہ والی خرگو ش کے تیار کردہ بیڈنگ میٹرئیل میں لیٹتے ہیں۔
  • عموماً ماں خرگوش دن میں ایک مرتبہ علیٰ الصبح بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔
  • اگر ہم خرگوش کو دودھ پلانے کیلے مجبور کریں اسمیں سے قطعاً دودھ کا بہاو نہیں ہوتا۔ ان نوزائیدہ خرگوش کے بچوں کی جلد کو کافی مقدار میں انکی ماں سے دودھ ملتا ہے۔

چھوٹے خرگوش کا دودھ چھڑانا

  • 6تا8 ہفتوں کی عمر میں چھوٹے خرگوشوں کا دودھ چھڑادینا چاہیے۔
  • اس وقت ان چھوٹے خرگوشوں کو دودھ کی جگہ آہستہ آہستہ ٹھوس کھلایا جاتا ہے۔
  • دودھ چھڑاتے وقت انکاوزن تقریباً 400تا500 گرام ہوتا ہے۔

صحت مند خرگوش کی علامات

  • صحت مند اور چمکدار بالوں کا کوٹ
  • کافی متحرک ہوتا ہے
  • فیڈنگ کے بعد بہتر اور تیز ی سے کھانا
  • آنکھیں عموماً چمکدار اور بغیر کسی اخراج کے ہوتی ہیں۔
  • آہستہ آہستہ وزن بڑھتا ہے

بیمار خرگوش کی علامات

  • سستی اور افسردگی
  • جسم کے وزن میں کمی اور لاغری
  • بالوں کا بہت زیادہ جھڑنا
  • کوئی زیادہ حرکت نہ کرنا، عموماً پنجرہ کے ایک حصہ میں رہنا
  • کھانا کم کھانا
  • آنکھوں ،ناکھ، منہ سے پانی اور میل کا اخراج
  • بڑھا ہوا جسم کا درجہ حرارت اور سانس کی شرح

خرگوشوں کی بیماریاں

پاسچیوریلاسس

خرگوشوں میں اس بیماری کے ذمہ دار عوامل خراب روشنی، خراب حفظان صحت تغذیہ کی کمی ہوتے ہیں یہ بیماری ماں خرگوش سے چھوٹے خرگوش میں منتقل ہوتی ہے۔

طبی علاماتمستقل ناک سے پانی بہنے اور کھانسی سے خرگوش اپنی ناک اگلے پیروں سے کھجاتے ہیں، سانس کے دوران خرخر کی آواز پیدا ہوتی ہے ۔ اسکے علاوہ انہیں بخار ،ڈائریا ہوجاتا ہے اس بیماری کیلے ذمہ دار جراثیم جلد کے نیچے اور گردن پر پیپ کے پھوڑے پیدا کردیتے ہیں۔

علاج :۔ س بیماری کے خلاف علاج اثردار نہیں ہوتا حالانکہ اس سے متاثرہ خرگوش اچھے ہوتے ہیں لیکن متاثرہ خرگوش دوسرے صحت مند خرگوشوں تک اسکے بیکٹریا پھیلاتے ہیں اسی لیے فارم سے متاثرہ خرگوش کا خاتمہ ہی خرگوشوں میں اس بیماری کے روک تھام کا واحد اقدام ہے۔

انٹریئیس (آنتوں کی سوزش)

متعدد جرثومے ایسے ہیں جو خرگوشوں میں آنتوں کی سوزش کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ غذا میں اچانک تبدیلی، غذا میں کاربوہائیڈریٹ کی زائد مقدار غیر صحت مند غذا اور پانی ایسے عوامل ہیں جو خرگوشوں میں آنتوں کی سوزش کو راغب کرتے ہیں جس کا سبب متعدد جرثومے ہوتے ہیں۔ خرگوشوںمیں آنتوں کی سوزش کی طبی علامت ڈائریا کے سبب پانی کی کمی جو ڈی ہائیڈرمشین کی وجہ بنتی ہے جسکے سبب خرگوش سست ہوجاتے ہیں ۔

گردن میں اکڑن کی بیماری

پاسچیوریللوسیس (طاعون کا ذمہ دار جرثومہ)سے متاثرہ خرگوش، گردن کی اکڑن کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اس بیماری میں خرگوش کے درمیانی کان سے پیپ کا اخراج ہوتا ہے اور خرگوش اپنا سر ایک جانب جھکالیتا ہے۔ طاعون کے ذمہ دار جرثومہ کے بہتر علاج سے خرگوش میں گردن کی اکڑن کی بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

پھپھوند کے انفیکشن کے سبب بیماریاں

ڈرماٹوفائس پھپھوند سے خرگوش میں جلد کا انفیکشن پیدا ہوتا ہے اسمیں خرگوش کے کان اور ناک کے اطراف کے بال جھڑنے لگتے ہیں، جھنجھلاہٹ کے سبب خرگوش متاثرہ حصوں کو مستقلاً کھجاتے رہتا ہے جسکے نتیجہ میں ان مقامات پر زخم بن جاتے ہیں۔ بعد میں ان حصوں میں ثانوی بیکٹریائی انفیکشن کے نتیجہ میں پیپ پیدا ہوجاتا ہے۔

علاج: متاثرہ مقامات پر گریسیونیولینی یا بنزائل کریم لگانا چاہیئے اس بیماری پر قابو پانے کیلے 2 ہفتوں تک فی کلوگرام کھانے میں 0.75گریسیونیولین ملاکرکھلایا جانا چاہیئ

بیماریوں پر قابوپانے کیلے فارم حفظان صحت اقدامات

  • سال میں دومرتبہ روشنائی کروانا چاہیے۔
  • ہفتہ میں دومرتبہ پنجروں کے نیچے لیموکارس چھڑکنا چاہیے۔
  • موسم گرما میں لولگنے کے سبب اموات روکنے کے لیے خرگوشوں پر پانی چھڑکا جاسکتا ہے ۔
  • پینے کے پانی کو فراہمی سے قبل گرم کرکے ٹھنڈا کیا جانا چاہیے بالخصوص ماں خرگوش اور چھوٹے خرگوشوں کے لئے۔

ذرائع:۔ ڈاکٹر پی سنتھل کمار ویٹرنری اسسٹنٹ سرجن، الاگنتھم ، ضلع نمکل تمل ناڈو فون 09443388400

متعلقہ ذرائع

2.4
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top