ہوم / زراعت / زرعی پالیسی اَور اسکیمیں / مویشی پروری سے وابستہ اسکیمیں
شیئر
Views
  • صوبہ Open for Edit

مویشی پروری سے وابستہ اسکیمیں

اِس حصے میں مال مویشی سے جُڑی اسکیموں کی معلومات دی گئی ہے۔

قَومی مال مویشی مِشن (ۓنۓلۓم)

اِس عنوان کے تحت مال مویشی سے جُڑے اہم پہلوؤں اَور اس کے لئے شروع کئے گئے مِشن کی اہم معلومات کو اِس میں پیش کیا گیا ہے۔ مال مویشی پیداوار میں مقداری اَور کیفی اصلاح مقررہ کرنا قَومی مال مویشی مِشن (این ایل ایم)کا اہم مقصد ہے۔

مویشیوں کی خوراک کے وسائل

مالی سال 2014-15 میں شروع کیا گیا قَومی مال مویشی مِشن (این ایل ایم)مال مویشی پیداوار کے طریقوں اَور تمام مُستفیدین کی صلاحیتی تعمیر میں مقداری اَور کیفی اصلاح مقرر کرے‌گا۔ چارے اَور اُس کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اِس اسکیم میں کہا گیا ہے کہ این ایل ایم کے تحت چارا اَور چارا ترقی ذیلی-مِشن مویشی چارا وسائل کی کمی کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش ہوگی۔ تاکہ ہندوستان کے مال مویشی علاقے کو اقتصادی طور پر عملی بنایا جا سکے اَور برآمد صلاحیت کا استعمال کیا جا سکیں۔

بیماریوں کے مؤثر کنٹرول کا مقصد

ڈیری اَور مال مویشی پیدآوری کی ترقی کے بارے میں مِشن میں کہا گیا ہے کہ سَب سے بَڑی رکاوٹ مویشی امراض جیسے-ایف ایم ڈی، پی پی آر، بروسیلوسِس، ایوِیَن انفلوئنجا وغیرہ کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی ضرورت ہے، اِس سے پیدآور پر مخالفت اثر پڑتا ہے۔ جانوروں کی بیماریوں کی تعداد میں مؤثر کنٹرول کے قَومی حکمت عملی کی ضرورت کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا گیا کہ جانوروں کی صحت کے لئے موجودہ اسکیم کو مضبوت کیا گیا ہے۔ اگست، 2010 کے بعد سے 221 ضلعوں میں چلائے جا رہے پیر اَور منھ مرض کنٹرول پروگرام (ایف ایم ڈی-سی پی)کو اُترپردیش کے باقی بچے ضلعوں اَور راجَستھان کے تمام ضلعوں میں 2013-14 میں بھی شروع کیا گیا تھا، اس طرح ابھی تک اِس پروگرام کو 331 ضلعوں میں چلایا جا رہا ہے۔ ایف ایم ڈی-سی پی کو 12وِیں اسکیم کے تحت پیسے اَور ویکسین کی فراہمی کی بنیاد پر پُورے ہندوستان میں لاگو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

دودھ کی پیداوار میں اضافہ کا مقصد

دودھ کی پیداوار میں اضافہ کے مقصد کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مِشن میں کہا گیا ہے جانوروں کی تعداد میں اضافہ کے بجائے دودھارو جانوروں کی پیدآور بڑھاکر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ دودھ کی پیداوار کے لئے کسانوں کو پرجوش کرنے کے لئے، کسان کو منافع بخش قمیت پر اپنے مصنوعات بیچنے کے لئے دودھ اِکٹّھا کرنے کے مؤثر نظام کو بنانے کی ضرورت ہے، جو جگہ-جگہ دودھ پیداکار کو جوڑنے کے لئے ایک مؤثر خرید طریقہ عمل کی تنصیب سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔

دودھ سے جُڑی مصنوعات اَور عمل کاری صنعت

عمل کاری اَور فروخت کے لئے دودھ کے موضوع پر بھی تفصیل سے باتیں کہی گئی ہیں اِس میں فروخت کے لئے دودھ کو جمع کئے جانے یا عمل کاری کے لئے دودھ کا استعمال ہونے تَک دودھ کو جمع کرنے اَور محفوظ رکھنے کے لئے دیہی علاقوں میں کولڈ چین جیسی بنیادی سہولیات کی توسیع کے ذریعے دودھ کی بربادی کو کم کرنے کے لئے قدم اُٹھائے جانے کی ضروری بتایا گیا ہے۔ تھوک دودھ کولرس کا مقام طئے کرنے کے لئے منظم اسکیم بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ آس-پاس کے گاؤں کے کسان اِس تَک آسانی سے پہُنچ سکیں۔ محکمے کی پہل پر قَومی گوکُل مِشن کی شروعات کی گئی ہے جِس کا مقصد مرکوز  اَور سائنسی طریقے سے دیسی نسلوں کا تحفظ اَور ترقی کرنا ہے۔ گوکُل مِشن کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قَومی گوکُل مِشن، 12 ویں پنج سالہ اسکیم کے دوران 500 کروڑ روپیے کے خرچ کے ساتھ گائے کی بریڈِنگ اَور ڈیری ترقی کے قَومی پروگرام کے تحت ایک مرکوز منصوبہ بندی ہے۔

قَومی کامدھینو بریڈِنگ مرکز

" قَومی کامدھینو بریڈِنگ مرکز " کو مِشن میں ضروری بتاتے ہوئے سرکار نے دیسی نسلوں کی ترقی اَور تحفظ کے لئے افضلیت کے مرکز کی شکل میں " قَومی کامدھینو بریڈِنگ مرکز " کی تنصیب کی تجویز رکھی ہے، جو پیدآور  بڑھانے اَور جینیاتی معیار کی فرازی کے مقصد کے ساتھ مجموعی اَور سائنسی طریقے سے (37 مویشی اَور 13 بھینسوں)دیسی نسلوں کی ترقی اَور قبضے کا کام کرے‌گا۔

نِیلے انقلاب کے لئے ہدف

مچھلی کی پیداوار کے تعلق میں، کہا گیا ہے کہ 2013-14 میں 9.58 مِلین ٹن پیداوار اَور تمام عالمی مچھلی پیداوار میں 5.7 فیصدی کی شراکت کے ساتھ ہندوستان کا دنیا میں دُوسرے سَب سے بَڑے مچھلی پَیدا کار ملک کی شکل میں مقام قائم ہے۔ اِس کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکار اِس علاقے میں نِیلے انقلاب پر دھیان مرکوز کر رہی ہے۔ نِیلے انقلاب کا مطلب اشیائےخوردنی اَور پرورش حفاظت، روزگار اَور بہتر کاروبار میسّر کرانے کے لئے مچھلی کی پیداوار کا تیز اَور مسلسل ترقی کرنا ہے۔

ماخذ-پريس اطلاعات دفتر

2.66666666667
اپنی تجاویز ارسال کریں (اگر مذکورہ بالا مواد پر آپ کو کوئی تبصرہ/تجویز دینی ہو تو براہ کرم یہاں درج کریں))
Enter the word
Back to top